🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1. باب : الحث على المكاسب
باب: روزی کمانے کی ترغیب۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2138
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ عَيَّاشٍ ، عَنْ بَحِيرِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ ، عَنْ الْمِقْدَامِ بْنِ مَعْدِيكَرِبَ الزُّبَيْدِيِّ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" مَا كَسَبَ الرَّجُلُ كَسْبًا أَطْيَبَ مِنْ عَمَلِ يَدِهِ وَمَا أَنْفَقَ الرَّجُلُ عَلَى نَفْسِهِ، وَأَهْلِهِ وَوَلَدِهِ وَخَادِمِهِ، فَهُوَ صَدَقَةٌ".
مقدام بن معدیکرب زبیدی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آدمی کی کوئی کمائی اس کمائی سے بہتر نہیں جسے اس نے اپنی محنت سے کمایا ہو، اور آدمی اپنی ذات، اپنی بیوی، اپنے بچوں اور اپنے خادم پر جو خرچ کرے وہ صدقہ ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب التجارات/حدیث: 2138]
حضرت مقدام بن معدیکرب زبیدی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کوئی آدمی اپنے ہاتھ کی کمائی سے زیادہ پاکیزہ (اور عمدہ) روزی حاصل نہیں کر سکتا اور آدمی اپنی ذات پر، اپنے بیوی بچوں پر اور اپنے خدام پر جو کچھ بھی خرچ کرتا ہے، وہ صدقہ ہوتا ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب التجارات/حدیث: 2138]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 11561)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/البیوع 15 (2072)، مسند احمد (4/131، 132) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
 
الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥المقدام بن معدي كرب الكندي، أبو يحيى، أبو كريمةصحابي
👤←👥خالد بن معدان الكلاعي، أبو عبد الله
Newخالد بن معدان الكلاعي ← المقدام بن معدي كرب الكندي
ثقة
👤←👥بحير بن سعد السحولي، أبو خالد
Newبحير بن سعد السحولي ← خالد بن معدان الكلاعي
ثقة ثبت
👤←👥إسماعيل بن عياش العنسي، أبو عتبة
Newإسماعيل بن عياش العنسي ← بحير بن سعد السحولي
صدوق في روايته عن أهل بلده وخلط في غيرهم
👤←👥هشام بن عمار السلمي، أبو الوليد
Newهشام بن عمار السلمي ← إسماعيل بن عياش العنسي
صدوق جهمي كبر فصار يتلقن
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن ابن ماجه
2138
أنفق الرجل على نفسه وأهله وولده وخادمه فهو صدقة
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 2138 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث2138
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
  اپنی محنت سے حاصل ہونے ولای کمائی بہترین ہے۔
مستحق ہونے کی صورت میں اسے ملبنے والی مدد بھی اس کے لیے حلال ہےلیکن یہ کوئی عمدہ روزی نہیں، اس لیے اس سے ممکن حد تک بچتے ہوئے محنت مزدوری سے حاصل ہونے والی تھوڑی آمدنی پر قناعت کرنا بہتر ہے۔

(2)
  اپنے آپ پر اور بیوی بچوں پر خرچ نہ کرنا بخل اور کنجوسی ہے جو مذموم ہے لیکن اپنی اور گھر والوں کی جائز ضروریات پوری کرنے کے بعد باقی مال سے زیادہ سے زیادہ یہ کوشش ہونی چاہیے کہ دوسروں کی ضروریات پوری کی جائیں۔

(3)
خادم خواہ زر خرید غلام ہوں یا تنخواہ دار ملازم، ان سے حسن سلوک، ان کا احترام اور ان کی جائز ضروریات کی تکمیل اخلاقی فرض ہے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 2138]

Sunan Ibn Majah Hadith 2138 in Urdu