سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
18. باب : بيع الخيار
باب: اختیاری خریداری کا بیان۔
حدیث نمبر: 2185
حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ الدِّمَشْقِيُّ ، حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ صَالِحٍ الْمَدنِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّمَا الْبَيْعُ عَنْ تَرَاضٍ".
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیع بیچنے والے اور خریدنے والے کی باہمی رضا مندی سے منعقد ہوتی ہے“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب التجارات/حدیث: 2185]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 4076، ومصباح الزجاجة: 768) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن ابن ماجه |
2185
| البيع عن تراض |
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 2185 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث2185
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
خريد و فروخت میں خریدنے والے یا بیچنے والے میں سے کسی کو مجبور کیا گیا ہو، جبکہ وہ دل سے اس بیع پر راضی نہ ہو تو یہ بیع کالعدم ہے۔
فوائد و مسائل:
خريد و فروخت میں خریدنے والے یا بیچنے والے میں سے کسی کو مجبور کیا گیا ہو، جبکہ وہ دل سے اس بیع پر راضی نہ ہو تو یہ بیع کالعدم ہے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 2185]
صالح بن دينار التمار ← أبو سعيد الخدري