🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
52. باب : النهي عن كسر الدراهم والدنانير
باب: درہم و دینار (سونے اور چاندی کے سکوں) کو توڑنا اور پگھلانا منع ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2263
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَسُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَهَارُونُ بْنُ إِسْحَاق ، قَالُوا: حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ فَضَاءٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ كَسْرِ سِكَّةِ الْمُسْلِمِينَ الْجَائِزَةِ بَيْنَهُمْ إِلَّا مِنْ بَأْسٍ".
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بغیر ضرورت مسلمانوں کے رائج سکہ کو توڑنے سے منع فرمایا ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب التجارات/حدیث: 2263]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: سنن ابی داود/البیوع 50 (3449)، (تحفة الأشراف: 8973)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/419) (ضعیف) (سند میں محمد بن فضاء ضعیف اور ان کے والد مجہول ہیں)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
سنن أبي داود (3449)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 459

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن سنان المزني، أبو علقمةصحابي
👤←👥علقمة بن عبد الله المزني
Newعلقمة بن عبد الله المزني ← عبد الله بن سنان المزني
ثقة
👤←👥فضاء بن خالد الأزدي
Newفضاء بن خالد الأزدي ← علقمة بن عبد الله المزني
مجهول
👤←👥محمد بن فضاء الأزدي، أبو بحر
Newمحمد بن فضاء الأزدي ← فضاء بن خالد الأزدي
ضعيف الحديث
👤←👥معتمر بن سليمان التيمي، أبو محمد
Newمعتمر بن سليمان التيمي ← محمد بن فضاء الأزدي
ثقة
👤←👥هارون بن إسحاق الهمداني، أبو القاسم
Newهارون بن إسحاق الهمداني ← معتمر بن سليمان التيمي
ثقة
👤←👥سويد بن سعيد الهروي، أبو محمد
Newسويد بن سعيد الهروي ← هارون بن إسحاق الهمداني
صدوق يخطئ كثيرا
👤←👥ابن أبي شيبة العبسي، أبو بكر
Newابن أبي شيبة العبسي ← سويد بن سعيد الهروي
ثقة حافظ صاحب تصانيف
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن أبي داود
3449
أن تكسر سكة المسلمين الجائزة بينهم إلا من بأس
سنن ابن ماجه
2263
عن كسر سكة المسلمين الجائزة بينهم إلا من بأس
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 2263 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث2263
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
یہ روایت ضعیف ہے، تاہم یہ بات صحیح ہے کہ سونے کی اشرفی یا چاندی کا روپیہ جوصحیح ہو، اور اس سے بازار میں خرید و فروخت ہو سکتی ہو، اسے پگھلا کر سونے یا چاندی کی ڈلی بنا لینا جائز نہیں کیونکہ اس سے عام مسلمانوں کی پوری ہونے والی ایک ضرورت کو پورا ہونے میں خلل واقع ہوتا ہے، البتہ کوئی معقول وجہ ہو، مثلاً:
وہ سکہ کھوٹا ہو تو اسے توڑ کر پگھلایا جا سکتا ہے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 2263]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 3449
(بلاضرورت) درہم (چاندی کا سکہ) توڑنا (اور پگھلانا) منع ہے۔
عبداللہ (مزنی) رضی اللہ عنہ کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کے رائج سکے کو توڑنے سے منع فرمایا ہے مگر یہ کہ کسی کو ضرورت ہو۔ [سنن ابي داود/كتاب الإجارة /حدیث: 3449]
فوائد ومسائل:
فائدہ۔
یہ روایت سندا ضعیف ہے۔
اور مراد اس سے یہ ہے کہ حکومت کی طرف سے مہر شدہ سکوں کو عام دھات میں ڈال لینا جائز نہیں۔
یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ بعض لوگ سکوں کو تعامل (کرنسی) کے علاوہ اور انداز سے بھی استعمال کرتے ہیں۔
یہ تو سب درست نہیں۔
کیونکہ اس سے لوگوں کولین دین میں پریشانی ہوتی ہے۔
کرنسی نوٹوں کو خراب کرنا بھی از حد معیوب بات ہے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 3449]