سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
56. باب : الحيوان بالحيوان نسيئة
باب: حیوان کو حیوان کے بدلے ادھار بیچنے کی ممانعت۔
حدیث نمبر: 2270
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ الْحَسَنِ ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدَبٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" نَهَى عَنْ بَيْعِ الْحَيَوَانِ بِالْحَيَوَانِ نَسِيئَةً".
سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حیوان کو حیوان کے بدلے ادھار بیچنے سے منع فرمایا ہے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب التجارات/حدیث: 2270]
حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ”حیوان کی حیوان سے ادھار بیع سے منع فرمایا۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب التجارات/حدیث: 2270]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/البیوع 15 (3356)، سنن الترمذی/البیوع 21 (1237)، سنن النسائی/البیوع 63 (4624)، (تحفة الأشراف: 4583)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/12، 21، 22)، سنن الدارمی/البیوع 30 (2606) (صحیح)» (حدیث شواہد کی بناء پرصحیح ہے، ملاحظہ ہو: الإرواء: 2416)
وضاحت: ۱؎: حیوان کو حیوان کے بدلے ادھار بیچنا اس وقت منع ہے جب اسی جنس کا ہو جیسے اونٹ کو اونٹ کے بدلے، لیکن اگر جنس مختلف ہو تو ادھار بھی جائز ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
جامع الترمذي |
1237
| نهى عن بيع الحيوان بالحيوان نسيئة |
سنن أبي داود |
3356
| نهى عن بيع الحيوان بالحيوان نسيئة |
سنن ابن ماجه |
2270
| نهى عن بيع الحيوان بالحيوان نسيئة |
سنن النسائى الصغرى |
4624
| نهى عن بيع الحيوان بالحيوان نسيئة |
بلوغ المرام |
704
| نهى عن بيع الحيوان بالحيوان نسيئة |
Sunan Ibn Majah Hadith 2270 in Urdu
الحسن البصري ← سمرة بن جندب الفزاري