🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
65. باب : بيع الحيوان بالحيوان نسيئة
باب: ذی روح کو ذی روح کے بدلے ادھار بیچنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4624
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ , قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ , وَيَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ , وَخَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ , قَالُوا: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ , وأَخْبَرَنِي أَحْمَدُ بْنُ فَضَالَةَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ , قَالَ: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى , قَالَ: حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ صَالِحٍ , عَنْ ابْنِ أَبِي عَرُوبَةَ , عَنْ قَتَادَةَ , عَنْ الْحَسَنِ , عَنْ سَمُرَةَ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" نَهَى عَنْ بَيْعِ الْحَيَوَانِ بِالْحَيَوَانِ نَسِيئَةً".
سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ذی روح کے بدلے ذی روح کو ادھار بیچنے سے منع فرمایا ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب البيوع/حدیث: 4624]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/البیوع 15 (3356)، سنن الترمذی/البیوع 21 (1237)، سنن ابن ماجہ/التجارات 56 (2270)، (تحفة الأشراف: 4583)، مسند احمد 5/12، 21، 19، 22، سنن الدارمی/البیوع 30 (2606) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یہ ممانعت اس صورت میں ہے جب ادھار کی صورت طرفین سے ہو اور اگر کسی ایک جانب سے ہو تو بیع جائز ہے (دیکھئیے: صحیح بخاری کتاب البیوع باب ۱۰۸)۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥سمرة بن جندب الفزاري، أبو محمد، أبو سعيد، أبو عبد الله، أبو عبد الرحمن، أبو سليمانصحابي
👤←👥الحسن البصري، أبو سعيد
Newالحسن البصري ← سمرة بن جندب الفزاري
ثقة يرسل كثيرا ويدلس
👤←👥قتادة بن دعامة السدوسي، أبو الخطاب
Newقتادة بن دعامة السدوسي ← الحسن البصري
ثقة ثبت مشهور بالتدليس
👤←👥سعيد بن أبي عروبة العدوي، أبو النضر
Newسعيد بن أبي عروبة العدوي ← قتادة بن دعامة السدوسي
ثقة حافظ
👤←👥الحسن بن صالح الثوري، أبو عبد الله
Newالحسن بن صالح الثوري ← سعيد بن أبي عروبة العدوي
ثقة
👤←👥عبيد الله بن موسى العبسي، أبو محمد
Newعبيد الله بن موسى العبسي ← الحسن بن صالح الثوري
ثقة يتشيع
👤←👥أحمد بن أبي إبراهيم النسائي، أبو المنذر
Newأحمد بن أبي إبراهيم النسائي ← عبيد الله بن موسى العبسي
صدوق حسن الحديث
👤←👥شعبة بن الحجاج العتكي، أبو بسطام
Newشعبة بن الحجاج العتكي ← أحمد بن أبي إبراهيم النسائي
ثقة حافظ متقن عابد
👤←👥خالد بن الحارث الهجيمي، أبو عثمان
Newخالد بن الحارث الهجيمي ← شعبة بن الحجاج العتكي
ثقة ثبت
👤←👥يزيد بن زريع العيشي، أبو معاوية
Newيزيد بن زريع العيشي ← خالد بن الحارث الهجيمي
ثقة ثبت
👤←👥يحيى بن سعيد القطان، أبو سعيد
Newيحيى بن سعيد القطان ← يزيد بن زريع العيشي
ثقة متقن حافظ إمام قدوة
👤←👥عمرو بن علي الفلاس، أبو حفص
Newعمرو بن علي الفلاس ← يحيى بن سعيد القطان
ثقة حافظ
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
جامع الترمذي
1237
نهى عن بيع الحيوان بالحيوان نسيئة
سنن أبي داود
3356
نهى عن بيع الحيوان بالحيوان نسيئة
سنن ابن ماجه
2270
نهى عن بيع الحيوان بالحيوان نسيئة
سنن النسائى الصغرى
4624
نهى عن بيع الحيوان بالحيوان نسيئة
بلوغ المرام
704
نهى عن بيع الحيوان بالحيوان نسيئة
سنن نسائی کی حدیث نمبر 4624 کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث4624
اردو حاشہ:
پچھلے باب کی روایات حیوان قرض لینے کے بارے میں تھیں اور وہ جائز ہے۔ یہ باب اور یہ حدیث حیوان کی بیع کے بارے میں ہے۔ قرض تو ہوتا ہی ادھار ہے، البتہ بیع نقد بھی ہو سکتی ہے ادھار بھی۔ حیوان کی بیع حیوان کے ساتھ نقد تو درست ہے، خواہ کمی بیشی ہی ہو، مثلاََ: ایک طرف ایک جانور ہے اور دوسری طرف دو یا تین تو کوئی حرج نہیں جیسا کہ آئندہ باب میں صراحت ہے لیکن حیوان کی بیع حیوان کے بدلے میں ہو تو ادھار درست نہیں۔ جن لوگوں نے پچھلے باب کی حدیثوں میں بیان کردہ قرض کی صورت کو بیع قرار دیا ہے انھیں اس روایت کی تاویل کرنا پڑے گی جیسا کہ امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا ہے کہ حیوان کی بیع حیوان کے بدلے اس وقت منع ہے جب دونوں طرف ادھار ہو جیسا کہ بيع الكالِي بالكالِي میں ہوتا ہے۔ اگر ادھار ایک طرف ہو تو بیع جائز ہے۔ اس تاویل سے پچھلے باب کی روایات اس حدیث کے خلاف نہیں رہیں گی لیکن صحیح یہ ہے کہ ادھار بیع تو ہر صورت میں منع ہے۔ ادھار ایک طرف ہو یا دونوں طرف، البتہ حیوان کا قرض جائز ہے۔ گویا بیع اور قرض کے حکم میں فرق ہے۔ اس طریقے سے نہ تو حدیث کی تاویل کرنی پڑے گی اور نہ سابقہ احادیث کا انکار۔ اور یہی طریقہ صحیح ہے۔ بیع اور قرض میں فرق صرف حیوان کے مسئلے ہی میں نہیں دیگر اشیاء میں بھی جاری و ساری ہے۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 4624]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
علامه صفي الرحمن مبارك پوري رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث بلوغ المرام 704
سود کا بیان
سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حیوان کو حیوان کے بدلے میں ادھار فروخت کرنا ممنوع قرار دیا ہے۔ اسے پانچوں نے روایت کیا ہے۔ ترمذی اور ابن جارود نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔ «بلوغ المرام/حدیث: 704»
تخریج:
«أخرجه أبوداود، البيوع، باب في الحيوان بالحيوان نسيئة، حديث:3356، والترمذي، البيوع، حديث:1237، والنسائي، البيوع، حديث:4624، وابن ماجه، التجارات، حديث:2270، وأحمد:5 /12، 19، 3 /310.»
تشریح:
یہ حدیث اس بات کی دلیل ہے کہ حیوان کے بدلے میں حیوان کی ادھار فروخت جائز نہیں‘ مگر اسی باب میں آنے والی حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما کی روایت اور دیگر روایات اس کے معارض ہیں‘ اسی بنا پر جمہور حیوان کے بدلے میں حیوان کو مطلقاً ادھار فروخت کرنا جائز سمجھتے ہیں‘ اگرچہ کمی بیشی بھی ہو۔
اور بعض اس سے منع کرتے ہیں۔
مگر امام شافعی رحمہ اللہ نے ان دونوں کے درمیان تطبیق یوں دی ہے کہ یہاں ادھار سے مراد دونوں طرف سے ادھار ہے‘ اس لیے کہ نسیئۃکا لفظ اس کا احتمال رکھتا ہے کہ یہ ادھار کے بدلے میں ادھار بیع کی صورت ہے اور یہ کسی کے نزدیک بھی صحیح نہیں ہے۔
امام خطابی رحمہ اللہ نے اس تطبیق اور جمع کی صورت کو پسند کیا ہے اور کہا ہے کہ جمع کی یہ صورت اچھی اور عمدہ ہے۔
امام شوکانی رحمہ اللہ کا رجحان منع کی احادیث کی طرف ہے مگر راجح رائے وہی ہے جسے امام شافعی‘ علامہ خطابی رحمہما اللہ اور جمہور نے اختیار کیا ہے۔
[بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث/صفحہ نمبر: 704]