🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
63. باب : الشركة والمضاربة
باب: شرکت و مضاربت کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2289
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْخَلَّالُ ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ ثَابِتٍ الْبَزَّارُ ، حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ الْقَاسِمِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ دَاوُدَ ، عَنْ صَالِحِ بْنِ صُهَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" ثَلَاثٌ فِيهِنَّ الْبَرَكَةُ الْبَيْعُ إِلَى أَجَلٍ وَالْمُقَارَضَةُ وَأَخْلَاطُ الْبُرِّ بِالشَّعِيرِ لِلْبَيْتِ لَا لِلْبَيْعِ".
صہیب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تین چیزوں میں برکت ہے: پہلی یہ کہ مقررہ مدت کے وعدے پر بیع کرنے میں، دوسری: مضاربت میں، تیسری: گیہوں اور جو ملانے میں جو کہ گھر کے کھانے کے لیے ہو، نہ کہ بیچنے کے لیے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب التجارات/حدیث: 2289]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 4963، ومصباح الزجاجة: 804) (ضعیف جدا)» ‏‏‏‏ (سند میں صالح صہیب، عبد الرحمن بن داود اور نصر بن قاسم وغیرہ سب مجہول راوی ہیں، نیز ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الضعیفة، للالبانی: 2100)
قال الشيخ الألباني: ضعيف جدا
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف جدًا
نصر: مجهول،وصالح (بن صهيب بن سنان الرومي): مجهول الحال (تقريب: 7123،2870) وأورده ابن الجوزي في الموضوعات (2/ 248،249)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 461

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥صهيب الرومي، أبو يحيى، أبو غسانصحابي
👤←👥صالح بن صهيب الرومي
Newصالح بن صهيب الرومي ← صهيب الرومي
مجهول الحال
👤←👥عبد الرحمن بن داود
Newعبد الرحمن بن داود ← صالح بن صهيب الرومي
مجهول
👤←👥نصر بن القاسم، أبو جزء
Newنصر بن القاسم ← عبد الرحمن بن داود
متروك الحديث
👤←👥بشر بن ثابت البصري، أبو محمد
Newبشر بن ثابت البصري ← نصر بن القاسم
صدوق حسن الحديث
👤←👥الحسن بن علي الهذلي، أبو علي، أبو محمد
Newالحسن بن علي الهذلي ← بشر بن ثابت البصري
ثقة حافظ له تصانيف
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن ابن ماجه
2289
ثلاث فيهن البركة البيع إلى أجل المقارضة إخلاط البر بالشعير للبيت لا للبيع
بلوغ المرام
765
ثلاث فيهن البركة : البيع إلى أجل والمقارضة وخلط البر بالشعير للبيت لا للبيع
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 2289 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث2289
اردو حاشہ:
فوائد  و مسائل:
مقارضہ کے دومفہوم بیان کیے گئے ہیں۔
ایک کسی کو قرض دینا، دوسرا مضاربت کے طریقے پر کاروبار میں شریک ہونا، یعنی ایک شخص کی رقم ہو اور دوسرا کام کرے، اور نفع ان کے درمیان طے شدہ نسبت سے تقسیم کیا جائے۔
یہ کاروبار جائز ہے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 2289]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
علامه صفي الرحمن مبارك پوري رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث بلوغ المرام 765
مضاربت کا بیان
سیدنا صہیب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تین کام بڑے بابرکت ہیں۔ ایک مدت مقررہ تک بیچنا اور مضاربت کرنا اور گندم میں جو ملانا گھر کے لئے، فروخت کرنے کے لئے نہیں۔ اسے ابن ماجہ نے ضعیف سند سے روایت کیا ہے۔ «بلوغ المرام/حدیث: 765»
تخریج:
«أخرجه ابن ماجه، التجارات، باب الشركة والمضاربة، حديث:2289.* عبدالرحيم بن داود "مجهول بالنقل، حديثه غير محفوظ" قاله العقيلي، ونصر مجهول، وصالح مجهول الحال.»
تشریح:
راویٔ حدیث:
«حضرت صہیب رضی اللہ عنہ» ‏‏‏‏ ابویحییٰ صہیب بن سنان رومی۔
اصل میں عربی ہیں۔
نمر بن قاسط بن وائل قبیلہ سے تعلق رکھتے ہیں۔
رومیوں نے انھیں بچپن میں قید کر لیا تھا۔
انھی میں نشوونما پائی‘ اس وجہ سے رومی کہلائے۔
ایک قول یہ ہے کہ جب یہ بڑے ہوئے اور سن ِ شعور کو پہنچے تو ان کے ہاں سے بھاگ کر مکہ میں پہنچ گئے اور عبداللہ بن جدعان کے حلیف بن گئے۔
اور ایک قول یہ بھی ہے کہ بنو کلب نے انھیں رومیوں سے خرید لیا اور انھیں مکہ میں لے آئے اور وہاں عبداللہ بن جدعان نے انھیں خرید لیا۔
مشہور صحابی ہیں۔
قدیم الإسلام ہیں۔
اللہ کی راہ میں انھیں بہت اذیتیں دی گئیں‘ پھر مدینہ کی طرف ہجرت کر گئے اور مدینہ منورہ ہی میں ۳۸ ہجری میں وفات پائی۔
[بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث/صفحہ نمبر: 765]