علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
4. باب : من وقف
باب: جس نے وقف کیا اس کا بیان۔
حدیث نمبر: 2396
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ ، حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: أَصَابَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ أَرْضًا بِخَيْبَرَ فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاسْتَأْمَرَهُ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي أَصَبْتُ مَالًا بِخَيْبَرَ لَمْ أُصِبْ مَالًا قَطُّ هُوَ أَنْفَسُ عِنْدِي مِنْهُ فَمَا تَأْمُرُنِي بِهِ، فَقَالَ:" إِنْ شِئْتَ حَبَّسْتَ أَصْلَهَا وَتَصَدَّقْتَ بِهَا"، قَالَ: فَعَمِلَ بِهَا عُمَرُ عَلَى أَنْ لَا يُبَاعَ أَصْلُهَا وَلَا يُوهَبَ وَلَا يُورَثَ تَصَدَّقَ بِهَا لِلْفُقَرَاءِ وَفِي الْقُرْبَى وَفِي الرِّقَابِ وَفِي سَبِيلِ اللَّهِ وَابْنِ السَّبِيلِ وَالضَّيْفِ لَا جُنَاحَ عَلَى مَنْ وَلِيَهَا أَنْ يَأْكُلَ مِنْهَا بِالْمَعْرُوفِ أَوْ يُطْعِمَ صَدِيقًا غَيْرَ مُتَمَوِّلٍ.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو خیبر میں کچھ زمین ملی، تو وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، اور آپ سے مشورہ لیا اور عرض کیا: اللہ کے رسول! مجھے خیبر میں کچھ مال ملا ہے، اتنا عمدہ مال مجھے کبھی نہیں ملا، تو آپ اس کے متعلق مجھے کیا حکم فرماتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تم چاہو تو اصل زمین اپنی ملکیت میں باقی رکھو اور اسے (یعنی اس کے پھلوں اور منافع کو) صدقہ کر دو“۔ عمر رضی اللہ عنہ نے ایسا ہی کیا، اس طرح کہ اصل زمین نہ بیچی جائے، نہ ہبہ کی جائے، اور نہ اسے وراثت میں دیا جائے، اور وہ صدقہ رہے فقیروں اور رشتہ داروں کے لیے، غلاموں کے آزاد کرانے اور مجاہدین کے سامان تیار کرنے کے لیے، اور مسافروں اور مہمانوں کے لیے اور جو اس کا متولی ہو وہ اس میں دستور کے مطابق کھائے یا کسی دوست کو کھلائے لیکن مال جمع نہ کرے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الصدقات/حدیث: 2396]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو خیبر میں زمین ملی تو وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور مشورہ طلب کرتے ہوئے عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! مجھے خیبر میں ایسا مال ملا ہے کہ میری نظر میں اس سے عمدہ مال مجھے کبھی نہیں ملا تو آپ مجھے کیا حکم فرماتے ہیں؟“ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تم چاہو تو اصل زمین اپنے پاس رکھو اور اس (کی پیداوار) کو صدقہ کر دو۔“ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ایسے ہی کیا، اور یہ (شرط لگا دی) کہ ”اصل زمین نہ بیچی جائے گی، نہ (کسی کو) ہبہ کی جائے گی اور نہ (کسی کو) وراثت کے طور پر دی جائے گی۔“ آپ رضی اللہ عنہ نے وہ زمین غریبوں کے لیے، رشتہ داروں کے لیے، اللہ کی راہ میں، مسافروں اور مہمانوں کے لیے صدقہ کر دی، جو اس کا انتظام کرے اس پر گناہ نہیں کہ اس میں سے مناسب حد تک کھائے یا دوست کو کھلائے لیکن اس سے مال نہ کمائے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الصدقات/حدیث: 2396]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الشروط 19 (2737)، الوصایا 22 (6764)، 28 (2772)، 32 (2777)، صحیح مسلم/الوصایا 4 (1632)، سنن ابی داود/الوصایا 13 (2878)، سنن الترمذی/الأحکام 36 (1375)، سنن النسائی/الإحباس 1 (3629)، (تحفة الأشراف: 7742)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/55، 125) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح البخاري |
2772
| إن شئت حبست أصلها تصدقت بها |
صحيح البخاري |
2737
| إن شئت حبست أصلها تصدقت بها |
صحيح البخاري |
2773
| إن شئت تصدقت بها فتصدق بها |
صحيح مسلم |
4224
| إن شئت حبست أصلها تصدقت بها |
جامع الترمذي |
1375
| إن شئت حبست أصلها تصدقت بها |
سنن أبي داود |
2878
| إن شئت حبست أصلها وتصدقت بها |
سنن ابن ماجه |
2396
| إن شئت حبست أصلها تصدقت بها |
سنن ابن ماجه |
2397
| احبس أصلها سبل ثمرها |
سنن النسائى الصغرى |
3627
| إن شئت تصدقت بها فتصدق بها لا تباع لا توهب |
سنن النسائى الصغرى |
3629
| إن شئت حبست أصلها تصدقت بها |
سنن النسائى الصغرى |
3630
| إن شئت حبست أصلها وتصدقت بها فتصدق بها |
سنن النسائى الصغرى |
3631
| إن شئت حبست أصلها تصدقت بها |
سنن النسائى الصغرى |
3633
| احبس أصلها سبل ثمرتها |
سنن النسائى الصغرى |
3634
| احبس أصلها سبل الثمرة |
سنن النسائى الصغرى |
3635
| احبس أصلها سبل ثمرتها |
بلوغ المرام |
786
| إن شئت حبست أصلها وتصدقت بها |
مسندالحميدي |
667
| يا عمر، احبس الأصل، وسبل الثمرة |
Sunan Ibn Majah Hadith 2396 in Urdu
نافع مولى ابن عمر ← عبد الله بن عمر العدوي