سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
21. باب : ثلاث من ادان فيهن قضى الله عنه
باب: جو کوئی تین چیزوں کی وجہ سے مقروض ہو جائے تو اللہ تعالیٰ اس کا قرض ادا کرا دے گا۔
حدیث نمبر: 2435
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا رِشْدِينُ بْنُ سَعْدٍ ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ الْمُحَارِبِيُّ ، وأبو أسامة ، وجعفر بن عون ، عَنِ ابْنِ أَنْعُمٍ ، قَالَ أَبُو كُرَيْبٍ : وَحَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنِ ابْنِ أَنْعُمٍ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ عَبْدٍ الْمَعَافِرِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ الدَّيْنَ يُقْضَى مِنْ صَاحِبِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِذَا مَاتَ إِلَّا مَنْ يَدِينُ فِي ثَلَاثِ خِلَالٍ: الرَّجُلُ تَضْعُفُ قُوَّتُهُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَيَسْتَدِينُ يَتَقَوَّى بِهِ لِعَدُوِّ اللَّهِ وَعَدُوِّهِ، وَرَجُلٌ يَمُوتُ عِنْدَهُ مُسْلِمٌ، لَا يَجِدُ مَا يُكَفِّنُهُ وَيُوَارِيهِ إِلَّا بِدَيْنٍ، وَرَجُلٌ خَافَ اللَّهَ عَلَى نَفْسِهِ الْعُزْبَةَ، فَيَنْكِحُ خَشْيَةً عَلَى دِينِهِ فَإِنَّ اللَّهَ يَقْضِي عَنْ هَؤُلَاءِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ".
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قرض دار جب مقروض مر جائے تو قیامت کے دن اس کے قرض کی ادائیگی اس سے ضرور کرائی جائے گی سوائے اس کے کہ اس نے تین باتوں میں سے کسی کے لیے قرض لیا ہو، ایک وہ جس کی طاقت جہاد میں کمزور پڑ جائے تو وہ قرض لے کر اپنی طاقت بڑھائے تاکہ وہ اللہ تعالیٰ کے اور اپنے دشمن سے جہاد کے قابل ہو جائے، دوسرا وہ شخص جس کے پاس کوئی مسلمان مر جائے اور اس کے پاس اس کے کفن دفن کے لیے سوائے قرض کے کوئی چارہ نہ ہو، تیسرا وہ شخص، جو تجرد (بغیر شادی کے رہنے) سے اپنے نفس پر ڈرے، اور اپنے دین کو مبتلائے آفت ہونے کے اندیشے سے قرض لے کر نکاح کرے، تو اللہ تعالیٰ ان تینوں کا قرض قیامت کے دن ادا کر دے گا“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الصدقات/حدیث: 2435]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قیامت کے دن مقروض سے قرض وصول کیا جائے گا، جب وہ (مقروض ہو کر) فوت ہو جائے گا مگر جو شخص تین کاموں کے لیے قرض لیتا ہے (وہ اس سے مستثنیٰ ہے)۔ وہ شخص جس کی اللہ کے راستے میں (جہاد کرنے کی) قوت کم ہو جاتی ہے تو وہ اللہ کے دشمن اور اپنے دشمن کا مقابلہ کرنے کی طاقت حاصل کرنے کے لیے قرض لیتا ہے۔ (دوسرا) وہ شخص جس کے پاس کوئی مسلمان فوت ہوتا ہے اور اس کے پاس قرض لیے بغیر اس کے کفن دفن کی گنجائش نہیں ہوتی۔ اور (تیسرا) وہ شخص جسے اپنے بے نکاح رہنے کی صورت میں (گناہ میں ملوث ہونے کا خطرہ محسوس کر کے) اللہ سے خوف آتا ہے، وہ اپنے دین (میں خرابی) کے ڈر سے (قرض لے کر) نکاح کر لیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن ان (تین قسم کے افراد) کا قرض ادا کر دے گا۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الصدقات/حدیث: 2435]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 8904، ومصباح الزجاجة: 857) (ضعیف)» (سند میں رشدین ضعیف ہیں لیکن ان کی متابعت کئی راویوں نے کی ہے، اور ابن انعم عبد الرحمن بن زیاد افریقی ضعیف ہیں، ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الضعیفة، للالبانی: 5483)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
ابن أنعم الإفريقي: ضعيف
وشيخه عمران المعافري: ضعيف (تقريب: 5160) والسند ضعفه البوصيري
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 466
إسناده ضعيف
ابن أنعم الإفريقي: ضعيف
وشيخه عمران المعافري: ضعيف (تقريب: 5160) والسند ضعفه البوصيري
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 466
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن ابن ماجه |
2435
| الدين يقضى من صاحبه يوم القيامة إذا مات إلا من يدين في ثلاث خلال |
Sunan Ibn Majah Hadith 2435 in Urdu
عمران بن عبد المعافري ← عبد الله بن عمرو السهمي