🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
19. باب : النهي عن منع فضل الماء ليمنع به الكلأ
باب: ضرورت سے زائد پانی سے روکنا تاکہ وہاں کی گھاس بھی روک لے منع ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2479
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ حَارِثَةَ ، عَنْ عَمْرَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا يُمْنَعُ فَضْلُ الْمَاءِ وَلَا يُمْنَعُ نَقْعُ الْبِئْرِ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ضرورت سے زائد پانی سے اور کنوئیں میں بچے ہوئے پانی سے کسی کو نہ روکا جائے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الرهون/حدیث: 2479]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 17886، ومصباح الزجاجة: 872)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/252، 268) (صحیح)» ‏‏‏‏ (سند میں حارثہ بن أبی الرجال ضعیف ہے، لیکن سابقہ حدیث سے تقویت پاکر یہ صحیح ہے)
وضاحت: ۱؎: اس لئے کہ کنویں سے پانی نکالنے میں اپنا نقصان نہیں اور دوسرے کا فائدہ ہے، اور اس سے کنویں کا پانی زیادہ صاف اور عمدہ ہو جاتا ہے اور اس میں اور تازہ پانی بھر آتا ہے، اور بعضوں نے اس کا یہ مطلب بتایا ہے کہ جو پانی اپنی ضرورت سے زیادہ ہو اس کا بیچنا منع ہے جب کوئی اس کو پینا چاہے یا اپنے جانوروں کو پلانا چاہے لیکن اگر باغ یا درختوں کو سینچنا چاہے تو اس کا بیچنا درست ہے، اور کنویں کا پانی بھی روکنا درست نہیں ہے اس سے جو اس کو پینا چاہے یا اپنے جانوروں کو پلانا چاہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عائشة بنت أبي بكر الصديق، أم عبد اللهصحابي
👤←👥عمرة بنت عبد الرحمن الأنصارية
Newعمرة بنت عبد الرحمن الأنصارية ← عائشة بنت أبي بكر الصديق
ثقة
👤←👥حارثة بن أبي الرجال الأنصاري
Newحارثة بن أبي الرجال الأنصاري ← عمرة بنت عبد الرحمن الأنصارية
ضعيف الحديث
👤←👥عبدة بن سليمان الكوفي، أبو محمد
Newعبدة بن سليمان الكوفي ← حارثة بن أبي الرجال الأنصاري
ثقة ثبت
👤←👥عبد الله بن سعيد الكندي، أبو سعيد
Newعبد الله بن سعيد الكندي ← عبدة بن سليمان الكوفي
ثقة
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن ابن ماجه
2479
لا يمنع فضل الماء ولا يمنع نقع البئر
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 2479 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث2479
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
اگر کوئی شخص ایسی جگہ کنواں کھودے جو کسی کی ملکیت نہیں تووہ اس کنویں کا اورایک حد تک اس کے قریب کی زمین کا مالک ہو جاتا ہے تاہم اسے دوسروں کا اس پانی سےاستفادہ کرنے سے منع نہیں کرنا چاہیے۔

(2)
اس زمین کے قریب اگر گھاس وغیرہ اگی ہوئی ہو اور وہاں لوگوں کےجانور چرتے ہوں تو وہ جانور پانی پینے اس کنویں پرآئیں گے اسے ان جانوروں کو پانی پینے سے منع نہیں کرنا چاہیے۔

(3)
جانوروں کو پانی پینے سے روکنے کا مقصد یہ بھی ہو سکتا ہے کہ اس طرح وہ جانور دوسرے مقام پرچریں گے اوریہاں کی گھاس اس کے جانوروں کےکام آئے گی۔
یہ خود غرضی ہے اور مسلمانوں کی مشترک گھاس پرقبضہ کرنے کا حیلہ ہے اس لیے منع ہے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 2479]