سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3. باب : التوقي في الحديث عن رسول الله صلى الله عليه وسلم
باب: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث کی روایت میں احتیاط۔
حدیث نمبر: 25
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا غُنْدَر ، عَنْ شُعْبَةَ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، قَالَ: قُلْنَا لِزَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ حَدِّثْنَا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" كَبِرْنَا، وَنَسِينَا، وَالْحَدِيثُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَدِيدٌ".
عبدالرحمٰن بن ابی لیلیٰ کہتے ہیں کہ ہم نے زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے کہا کہ ہم سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث بیان کریں، تو وہ کہنے لگے: ہم بوڑھے ہو گئے ہیں، ہم پر نسیان غالب ہو گیا ہے، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث بیان کرنا مشکل کام ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب السنة/حدیث: 25]
عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ رحمہ اللہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”ہم نے زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے عرض کیا کہ ہمیں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیثیں سنائیے، انہوں نے فرمایا: ”ہم بوڑھے ہو گئے ہیں اور بھولنے لگے ہیں جب کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث بیان کرنا بہت مشکل کام ہے۔““ [سنن ابن ماجه/كتاب السنة/حدیث: 25]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 3674، ومصباح الزجاجة: 11)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/370، 372) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
الرواة الحديث:
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 25 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث25
اردو حاشہ:
(1)
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنھم حدیث نبوی کو بہت اہم اور عظیم چیز سمجھتے تھے۔
اس لیے صرف وہی بات روایت کرتے تھے جو اچھی طرح یاد ہوتی۔
(2)
اس سے محدثین نے یہ اصول اخذ کیا ہے کہ ایک عالم کو جب بڑھاپے کی وجہ سے احادیث بیان کرنے میں غلطیاں ہونے لگیں تو اس کے لیے روایت حدیث ترک کر دینا مناسب ہے۔
(3)
علمائے کرام کو چاہیے کہ وہ اپنی تقریروں اور خطبوں میں صرف وہی احادیث بیان کریں جن کے بارے میں انہیں یقین کے ساتھ معلوم ہو کہ وہ صحیح یا حسن درجے کی ہیں اور ضعیف روایات سے اجتناب کرنا چاہیے۔
(1)
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنھم حدیث نبوی کو بہت اہم اور عظیم چیز سمجھتے تھے۔
اس لیے صرف وہی بات روایت کرتے تھے جو اچھی طرح یاد ہوتی۔
(2)
اس سے محدثین نے یہ اصول اخذ کیا ہے کہ ایک عالم کو جب بڑھاپے کی وجہ سے احادیث بیان کرنے میں غلطیاں ہونے لگیں تو اس کے لیے روایت حدیث ترک کر دینا مناسب ہے۔
(3)
علمائے کرام کو چاہیے کہ وہ اپنی تقریروں اور خطبوں میں صرف وہی احادیث بیان کریں جن کے بارے میں انہیں یقین کے ساتھ معلوم ہو کہ وہ صحیح یا حسن درجے کی ہیں اور ضعیف روایات سے اجتناب کرنا چاہیے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 25]
Sunan Ibn Majah Hadith 25 in Urdu
عبد الرحمن بن أبي ليلى الأنصاري ← زيد بن أرقم الأنصاري