🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1. باب : ضالة الإبل والبقر والغنم
باب: گم شدہ اونٹ، گائے اور بکری کے لقطہٰ کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2503
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو حَيَّانَ التَّيْمِيُّ ، حَدَّثَنَا الضَّحَّاكُ خَالُ الْمُنْذِرِ بْنِ جَرِيرٍ، عَنِ الْمُنْذِرِ بْنِ جَرِيرٍ ، قَالَ: كُنْتُ مَعَ أَبِي بِالْبَوَازِيجِ فَرَاحَتِ الْبَقَرُ فَرَأَى بَقَرَةً أَنْكَرَهَا، فَقَالَ: مَا هَذِهِ؟ قَالُوا: بَقَرَةٌ لَحِقَتْ بِالْبَقَرِ، قَالَ: فَأَمَرَ بِهَا فَطُرِدَتْ حَتَّى تَوَارَتْ ثُمَّ قَالَ: سَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" لَا يُؤْوِي الضَّالَّةَ إِلَّا ضَالٌّ".
منذر بن جریر کہتے ہیں کہ میں اپنے والد کے ساتھ بوازیج میں تھا کہ گایوں کا ریوڑ نکلا، تو آپ نے ان میں ایک اجنبی قسم کی گائے دیکھی تو پوچھا: یہ گائے کیسی ہے؟ لوگوں نے کہا: کسی اور کی گائے ہے، جو ہماری گایوں کے ساتھ آ گئی ہے، انہوں نے حکم دیا، اور وہ ہانک کر نکال دی گئی یہاں تک کہ وہ نظر سے اوجھل ہو گئی، پھر کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: گمشدہ چیز کو وہی اپنے پاس رکھتا ہے جو گمراہ ہو ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب اللقطة/حدیث: 2503]
حضرت منذر بن جریر رحمہ اللہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: میں مقامِ بوازیج پر اپنے والد (حضرت جریر بن عبداللہ بجلی رضی اللہ عنہ) کے ساتھ تھا کہ گائیں (چراگاہ سے واپس) آئیں۔ انہیں (ریوڑ میں) ایک گائے نظر آئی جو انہیں اجنبی محسوس ہوئی (محسوس ہوا کہ ہماری نہیں) تو انہوں نے فرمایا: یہ کیسی گائے ہے؟ حاضرین نے کہا: (کسی کی) گائے (ہماری) گایوں کے ساتھ مل کر آ گئی ہے۔ حضرت جریر رضی اللہ عنہ کے حکم سے اس کو ہانک دیا گیا حتیٰ کہ وہ نظروں سے اوجھل ہو گئی، پھر انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بھٹکے ہوئے (گم شدہ) جانور کو (اپنے ریوڑ میں) وہی جگہ دیتا ہے جو بھٹکا ہوا (گمراہ) ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب اللقطة/حدیث: 2503]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/اللقطة 1 (1720)، (تحفة الأشراف: 3233)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/360، 362) (صحیح)» ‏‏‏‏ (سند میں علت ہے کیونکہ ضحاک مجہول راوی ہیں، لیکن مرفوع حدیث، شاہد کی بناء پر صحیح ہے، قصہ ضعیف ہے، ملاحظہ ہو: الإرواء: 1563، و صحیح أبی داود: 1513، تراجع الألبانی: رقم: 515)
وضاحت: ۱؎: بوازیج: ایک شہر کا نام ہے۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف والمرفوع صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
سنن أبي داود (1720)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 469
 
الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥جرير بن عبد الله البجلي، أبو عبد الله، أبو عمروصحابي
👤←👥المنذر بن جرير البجلي
Newالمنذر بن جرير البجلي ← جرير بن عبد الله البجلي
ثقة
👤←👥الضحاك بن جرير البجلي
Newالضحاك بن جرير البجلي ← المنذر بن جرير البجلي
مقبول
👤←👥يحيى بن سعيد التيمي، أبو حيان
Newيحيى بن سعيد التيمي ← الضحاك بن جرير البجلي
ثقة
👤←👥يحيى بن سعيد القطان، أبو سعيد
Newيحيى بن سعيد القطان ← يحيى بن سعيد التيمي
ثقة متقن حافظ إمام قدوة
👤←👥محمد بن بشار العبدي، أبو بكر
Newمحمد بن بشار العبدي ← يحيى بن سعيد القطان
ثقة حافظ
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن أبي داود
1720
لا يأوي الضالة إلا ضال
سنن ابن ماجه
2503
لا يؤوي الضالة إلا ضال
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 2503 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث2503
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
یہ حکم بڑے جانوروں مثلاً اونٹ اور گائے وغیرہ کے بارے میں ہے۔
چھوٹے جانور (بھیڑ بکر وغیرہ)
کو پکڑ لینا چاہیے تاکہ جنگل میں کوئی بھیڑیا وغیرہ نہ کھا جائے جیسے اگلی حدیث میں آ رہا ہے۔

(2)
یہ توبیخ اس شخص کےلیے ہے جو جانور کواس لیے پکڑتا ہے کہ اس کا اعلان نہ کرے بلکہ قبضہ کر لے اگر وہ جانور کےمالک کی تلاش کا ارادہ رکھتا ہے توکوئی حرج نہیں۔
صحیح مسلم میں یہ حدیث ان الفاظ سے آئی ہے جو بھٹکے ہوئے جانور کو جگہ دیتا ہے وہ گمراہ ہے جبکہ اس کا اعلان نہ کرے۔ (صحیح مسلم، اللقطة، باب فی لقطة الحاج، حدیث: 1725)
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 2503]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 1720
لقطہٰ کی پہچان کرانے کا بیان۔
منذر بن جریر کہتے ہیں میں جریر کے ساتھ بوازیج ۱؎ میں تھا کہ چرواہا گائیں لے کر آیا تو ان میں ایک گائے ایسی تھی جو ان کی گایوں میں سے نہیں تھی، جریر نے اس سے پوچھا: یہ کیسی گائے ہے؟ اس نے کہا: یہ گایوں میں آ کر مل گئی ہے، ہمیں نہیں معلوم کہ یہ کس کی ہے، جریر نے کہا: اسے نکالو، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: گمشدہ جانور کو کوئی گم راہ ہی اپنے پاس جگہ دیتا ہے ۲؎۔ [سنن ابي داود/كتاب اللقطة /حدیث: 1720]
1720. اردو حاشیہ:
➊ گمشدہ چیز اپنے قبضے میں لےکر چھپا لینے والا یامالک بن بیٹھنے والا ضال اور گمراہ انسان ہے جبکہ اعلان کرنے والا ایسا نہیں ہوتا۔ممکن ہے کہ حضرت جریر کا خیال ہو کہ گائے اونٹ کی طرح ہے یہ جانور کھاپی کر گزارہ کر سکتا ہے اور چھوٹے موٹے درندے بھی اس پر حملہ آور نہیں ہو سکتے تواس لیے اس کا چھوڑ دینا بہتر ہوگا۔اس کامالک اس کو خود ہی ڈھونڈ لے گا۔
➋ بوازیج الانبار بغداد کی بالائی جانب ایک علاقہ ہے جسے حضرت جریر نے فتح کیا تھا اور یہاں ان کے موالی رہتے تھے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 1720]

Sunan Ibn Majah Hadith 2503 in Urdu