🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
3. باب : المكاتب
باب: مکاتب غلام کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2518
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ ، عَنْ ابْنِ عَجْلَانَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" ثَلَاثَةٌ كُلُّهُمْ حَقٌّ عَلَى اللَّهِ عَوْنُهُ: الْغَازِي فِي سَبِيلِ اللَّهِ، وَالْمُكَاتَبُ الَّذِي يُرِيدُ الْأَدَاءَ، وَالنَّاكِحُ الَّذِي يُرِيدُ التَّعَفُّفَ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تین قسم کے لوگ ایسے ہیں جن میں سے ہر ایک کی مدد کرنا اللہ پر حق ہے، ایک وہ جو اللہ تعالیٰ کی راہ کا غازی ہو، دوسرے وہ مکاتب جو بدل کتابت ادا کرنے کا ارادہ رکھتا ہو، تیسرا وہ شخص جو پاک دامن رہنے کے ارادے سے نکاح کرے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب العتق/حدیث: 2518]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/فضائل الجہاد20 (1655)، سنن النسائی/الجہاد 13 (3123)، النکاح 5 (3220)، (تحفة الأشراف: 13039)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/251، 437) (حسن)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: مکاتب: وہ لونڈی یا غلام جس سے مالک کہے کہ تم اتنا مال ادا کر دو تو تم آزاد ہو۔
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أبو هريرة الدوسيصحابي
👤←👥سعيد بن أبي سعيد المقبري، أبو سعيد، أبو سعد
Newسعيد بن أبي سعيد المقبري ← أبو هريرة الدوسي
ثقة
👤←👥محمد بن عجلان القرشي، أبو عبد الله
Newمحمد بن عجلان القرشي ← سعيد بن أبي سعيد المقبري
صدوق حسن الحديث
👤←👥سليمان بن حيان الجعفري، أبو خالد
Newسليمان بن حيان الجعفري ← محمد بن عجلان القرشي
صدوق حسن الحديث
👤←👥عبد الله بن سعيد الكندي، أبو سعيد
Newعبد الله بن سعيد الكندي ← سليمان بن حيان الجعفري
ثقة
👤←👥ابن أبي شيبة العبسي، أبو بكر
Newابن أبي شيبة العبسي ← عبد الله بن سعيد الكندي
ثقة حافظ صاحب تصانيف
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 2518 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث2518
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
«مکاتبت» ایک معاہدہ ہےجوغلام اور اس کے آقا کے درمیان ہوتا ہے کہ ایک متعین مدت میں غلام اتنی رقم کما کر آقا کو دے دے گا۔
جب رقم کی ادائیگی مکمل ہو جائے گی غلام آزاد ہو جائے گا۔

(2)
کما کر آزادى حاصل کرنے سے معلوم ہوتا ہے یہ غلام آزاد ہونے کے بعد بھی اپنے پاؤں پرکھڑا ہو کر باعزت زندگی گزار سکے گا خاص طورپر جب کہ وہ وعدہ کی پاسداری کا ارادہ رکھتا ہو تو اللہ تعالیٰ اس کےلیے آسانی فرما دیتا ہے اور اپنے خلوص اورمحنت کی بدولت وہ آزادی حاصل کر لیتا ہے۔

(3)
غلام کو آزاد کرنا بہت بڑی نیکى ہے۔
وہ اگرمکاتبت کےطور ہو تب بھی بڑی نیکی ہے لیکن اگر بلامعاوضہ آزاد کر دیا جائے تواس نیکی کا درجہ بہت بڑھ جاتا ہے۔

(4)
جہاد اگر خلوص نیت سے ہو تبھی اسے فی سبیل اللہ قراردیا جا سکتا ہے۔
اگرجہاد کے دوران شرعی آداب کو ملحوظ رکھا جائے تواللہ کی نصرت وتائید ضرور حاصل ہوتی ہے۔

(5)
پاک دامنی اسلامی معاشرے کا نمایاں وصف ہے جس کو قائم رکھنے کا ایک بڑا ذریعہ نکاح ہے اگرچہ نکاح کے اور بھی بڑے فوائد ہیں لیکن بے حیائی سے بچاؤ اورپاک دامنی کا حصول اس کا بنیادی مقصد ہے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 2518]