سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3. باب : المكاتب
باب: مکاتب غلام کا بیان۔
حدیث نمبر: 2520
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ نَبْهَانَ مَوْلَى أُمِّ سَلَمَةَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، أَنَّهَا أَخْبَرَتْ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ:" إِذَا كَانَ لِإِحْدَاكُنَّ مُكَاتَبٌ وَكَانَ عِنْدَهُ مَا يُؤَدِّي فَلْتَحْتَجِبْ مِنْهُ".
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تم میں سے کسی کے پاس مکاتب غلام ہو، اور اس کے پاس اس قدر مال ہو گیا ہو کہ وہ اپنا بدل کتابت ادا کر سکے، تو تم لوگوں کو اس سے پردہ کرنا چاہیئے“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب العتق/حدیث: 2520]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/العتق 1 (3928)، سنن الترمذی/البیوع 35 (1261)، (تحفة الأشراف: 18221)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/289) (ضعیف)» (سند میں نبہان مجہول راوی ہیں، نیز یہ حدیث اگلی حدیث کے مخالف بھی ہے)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥أم سلمة زوج النبي، أم سلمة | صحابية | |
👤←👥نبهان مولى أم سلمة، أبو يحيى نبهان مولى أم سلمة ← أم سلمة زوج النبي | مقبول | |
👤←👥محمد بن شهاب الزهري، أبو بكر محمد بن شهاب الزهري ← نبهان مولى أم سلمة | الفقيه الحافظ متفق على جلالته وإتقانه | |
👤←👥سفيان بن عيينة الهلالي، أبو محمد سفيان بن عيينة الهلالي ← محمد بن شهاب الزهري | ثقة حافظ حجة | |
👤←👥ابن أبي شيبة العبسي، أبو بكر ابن أبي شيبة العبسي ← سفيان بن عيينة الهلالي | ثقة حافظ صاحب تصانيف |
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
جامع الترمذي |
1261
| إذا كان عند مكاتب إحداكن ما يؤدي فلتحتجب منه |
سنن أبي داود |
3928
| إن كان لإحداكن مكاتب فكان عنده ما يؤدي فلتحتجب منه |
سنن ابن ماجه |
2520
| إذا كان لإحداكن مكاتب وكان عنده ما يؤدي فلتحتجب منه |
بلوغ المرام |
1231
| إذا كان لإحداكن مكاتب وكان عنده ما يؤدي ، فلتحتجب منه |
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 2520 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث2520
اردو حاشہ:
فائدہ:
غلام ادائیگی مکمل ہونے تک آزادی کے حکم میں نہیں آتا محض ادائیگی کی رقم موجودہونے سے اس سے مالکہ کوپردہ لازم نہیں ہوگا جب تک ادائیگی نہ کردے جبکہ مذکورہ حدیث حزم واحتیاط اور تورع پرمحمول ہوگی جیسا کہ بعض ائمہ نے اس کی تصریح کی ہے۔
تفصیل کے لیے دیکھیے: (الموسة الحدیثیة: 73/44)
فائدہ:
غلام ادائیگی مکمل ہونے تک آزادی کے حکم میں نہیں آتا محض ادائیگی کی رقم موجودہونے سے اس سے مالکہ کوپردہ لازم نہیں ہوگا جب تک ادائیگی نہ کردے جبکہ مذکورہ حدیث حزم واحتیاط اور تورع پرمحمول ہوگی جیسا کہ بعض ائمہ نے اس کی تصریح کی ہے۔
تفصیل کے لیے دیکھیے: (الموسة الحدیثیة: 73/44)
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 2520]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
علامه صفي الرحمن مبارك پوري رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث بلوغ المرام 1231
مدبر، مکاتب اور ام ولد کا بیان
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” جب تم میں سے کسی کے پاس مکاتب ہو اور اس کے پاس اتنا مال ہو کہ ادا کر کے آزاد ہو سکتا ہے تو پھر (عورت کو) اس سے پردہ کرنا چاہیئے۔ “ اسے احمد اور چاروں نے روایت کیا ہے اور ترمذی نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔ «بلوغ المرام/حدیث: 1231»
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” جب تم میں سے کسی کے پاس مکاتب ہو اور اس کے پاس اتنا مال ہو کہ ادا کر کے آزاد ہو سکتا ہے تو پھر (عورت کو) اس سے پردہ کرنا چاہیئے۔ “ اسے احمد اور چاروں نے روایت کیا ہے اور ترمذی نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔ «بلوغ المرام/حدیث: 1231»
تخریج:
«أخرجه أبوداود، العتق، باب في المكاتب، حديث:3928، والترمذي، البيوع، حديث:1261، وابن ماجه، العتق، حديث:2520، والنسائي في الكبرٰي: 3 /198، حديث:5030 وغيره، وأحمد:6 /289.» تشریح:
مذکورہ حدیث علمائے کرام کے نزدیک تورع اور استحباب پر محمول ہو گی کیونکہ مکاتب کے پاس اگرچہ اتنا مال ہو جسے وہ ادا کر سکے تو بھی وہ آزاد نہیں ہوگا جب تک وہ ادا نہ کر دے۔
محض ادائیگی کی رقم موجود ہونے پر مالکہ کو اس سے پردہ لازم نہیں ہو گا۔
واللّٰہ أعلم۔
تفصیل کے لیے دیکھیے: (الموسوعۃ الحدیثیۃ مسند الإمام أحمد:۴۴ /۷۳)
«أخرجه أبوداود، العتق، باب في المكاتب، حديث:3928، والترمذي، البيوع، حديث:1261، وابن ماجه، العتق، حديث:2520، والنسائي في الكبرٰي: 3 /198، حديث:5030 وغيره، وأحمد:6 /289.»
مذکورہ حدیث علمائے کرام کے نزدیک تورع اور استحباب پر محمول ہو گی کیونکہ مکاتب کے پاس اگرچہ اتنا مال ہو جسے وہ ادا کر سکے تو بھی وہ آزاد نہیں ہوگا جب تک وہ ادا نہ کر دے۔
محض ادائیگی کی رقم موجود ہونے پر مالکہ کو اس سے پردہ لازم نہیں ہو گا۔
واللّٰہ أعلم۔
تفصیل کے لیے دیکھیے: (الموسوعۃ الحدیثیۃ مسند الإمام أحمد:۴۴ /۷۳)
[بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث/صفحہ نمبر: 1231]
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 1261
مکاتب غلام کا بیان جس کے پاس اتنا ہو کہ کتابت کی قیمت ادا کر سکے۔
ام المؤمنین ام سلمہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کسی کے مکاتب غلام کے پاس اتنی رقم ہو کہ وہ زر کتابت ادا کر سکے تو اسے اس سے پردہ کرنا چاہیئے۔“ [سنن ترمذي/كتاب البيوع/حدیث: 1261]
ام المؤمنین ام سلمہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کسی کے مکاتب غلام کے پاس اتنی رقم ہو کہ وہ زر کتابت ادا کر سکے تو اسے اس سے پردہ کرنا چاہیئے۔“ [سنن ترمذي/كتاب البيوع/حدیث: 1261]
اردو حاشہ:
وضاحت:
نوٹ:
(سند میں ”نبہان“ لین الحدیث ہیں نیز ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا کی روایت کے مطابق امہات المومنین کا عمل اس کے برعکس تھا،
ملاحظہ ہو:
الإرواء رقم 1769)
وضاحت:
نوٹ:
(سند میں ”نبہان“ لین الحدیث ہیں نیز ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا کی روایت کے مطابق امہات المومنین کا عمل اس کے برعکس تھا،
ملاحظہ ہو:
الإرواء رقم 1769)
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 1261]
نبهان مولى أم سلمة ← أم سلمة زوج النبي