سنن ترمذي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
35. باب ما جاء في المكاتب إذا كان عنده ما يؤدي
باب: مکاتب غلام کا بیان جس کے پاس اتنا ہو کہ کتابت کی قیمت ادا کر سکے۔
حدیث نمبر: 1261
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ نَبْهَانَ مَوْلَى أُمِّ سَلَمَةَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا كَانَ عِنْدَ مُكَاتَبِ إِحْدَاكُنَّ مَا يُؤَدِّي، فَلْتَحْتَجِبْ مِنْهُ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَمَعْنَى هَذَا الْحَدِيثِ عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ عَلَى التَّوَرُّعِ، وَقَالُوا: لَا يُعْتَقُ الْمُكَاتَبُ، وَإِنْ كَانَ عِنْدَهُ مَا يُؤَدِّي حَتَّى يُؤَدِّيَ.
ام المؤمنین ام سلمہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کسی کے مکاتب غلام کے پاس اتنی رقم ہو کہ وہ زر کتابت ادا کر سکے تو اسے اس سے پردہ کرنا چاہیئے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے،
۲- اہل علم کا اس حدیث پر عمل ازراہ ورع و تقویٰ اور احتیاط ہے۔ یہ لوگ کہتے ہیں کہ مکاتب غلام جب تک زر کتابت نہ ادا کر دے آزاد نہیں ہو گا اگرچہ اس کے پاس زر کتابت ادا کرنے کے لیے رقم موجود ہو۔ [سنن ترمذي/كتاب البيوع عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 1261]
۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے،
۲- اہل علم کا اس حدیث پر عمل ازراہ ورع و تقویٰ اور احتیاط ہے۔ یہ لوگ کہتے ہیں کہ مکاتب غلام جب تک زر کتابت نہ ادا کر دے آزاد نہیں ہو گا اگرچہ اس کے پاس زر کتابت ادا کرنے کے لیے رقم موجود ہو۔ [سنن ترمذي/كتاب البيوع عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 1261]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/ العتق 1 (3928)، سنن ابن ماجہ/العتق 3 (2520)، (تحفة الأشراف: 18221) (ضعیف) (سند میں ”نبہان“ لین الحدیث ہیں نیز ام المومنین عائشہ رضی الله عنہا کی روایت کے مطابق امہات المومنین کا عمل اس کے برعکس تھا، ملاحظہ ہو: الإرواء رقم 1769)»
قال الشيخ الألباني: ضعيف، ابن ماجة (2520) // ضعيف سنن ابن ماجة برقم (549) ، ضعيف أبي داود (848 / 3928) ، المشكاة (3400) ، الإرواء (1769) //
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥أم سلمة زوج النبي، أم سلمة | صحابية | |
👤←👥نبهان مولى أم سلمة، أبو يحيى نبهان مولى أم سلمة ← أم سلمة زوج النبي | مقبول | |
👤←👥محمد بن شهاب الزهري، أبو بكر محمد بن شهاب الزهري ← نبهان مولى أم سلمة | الفقيه الحافظ متفق على جلالته وإتقانه | |
👤←👥سفيان بن عيينة الهلالي، أبو محمد سفيان بن عيينة الهلالي ← محمد بن شهاب الزهري | ثقة حافظ حجة | |
👤←👥سعيد بن عبد الرحمن القرشي، أبو عبيد الله سعيد بن عبد الرحمن القرشي ← سفيان بن عيينة الهلالي | ثقة |
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
جامع الترمذي |
1261
| إذا كان عند مكاتب إحداكن ما يؤدي فلتحتجب منه |
سنن أبي داود |
3928
| إن كان لإحداكن مكاتب فكان عنده ما يؤدي فلتحتجب منه |
سنن ابن ماجه |
2520
| إذا كان لإحداكن مكاتب وكان عنده ما يؤدي فلتحتجب منه |
بلوغ المرام |
1231
| إذا كان لإحداكن مكاتب وكان عنده ما يؤدي ، فلتحتجب منه |
سنن ترمذی کی حدیث نمبر 1261 کے فوائد و مسائل
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 1261
اردو حاشہ:
وضاحت:
نوٹ:
(سند میں ”نبہان“ لین الحدیث ہیں نیز ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا کی روایت کے مطابق امہات المومنین کا عمل اس کے برعکس تھا،
ملاحظہ ہو:
الإرواء رقم 1769)
وضاحت:
نوٹ:
(سند میں ”نبہان“ لین الحدیث ہیں نیز ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا کی روایت کے مطابق امہات المومنین کا عمل اس کے برعکس تھا،
ملاحظہ ہو:
الإرواء رقم 1769)
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 1261]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
علامه صفي الرحمن مبارك پوري رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث بلوغ المرام 1231
مدبر، مکاتب اور ام ولد کا بیان
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” جب تم میں سے کسی کے پاس مکاتب ہو اور اس کے پاس اتنا مال ہو کہ ادا کر کے آزاد ہو سکتا ہے تو پھر (عورت کو) اس سے پردہ کرنا چاہیئے۔ “ اسے احمد اور چاروں نے روایت کیا ہے اور ترمذی نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔ «بلوغ المرام/حدیث: 1231»
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” جب تم میں سے کسی کے پاس مکاتب ہو اور اس کے پاس اتنا مال ہو کہ ادا کر کے آزاد ہو سکتا ہے تو پھر (عورت کو) اس سے پردہ کرنا چاہیئے۔ “ اسے احمد اور چاروں نے روایت کیا ہے اور ترمذی نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔ «بلوغ المرام/حدیث: 1231»
تخریج:
«أخرجه أبوداود، العتق، باب في المكاتب، حديث:3928، والترمذي، البيوع، حديث:1261، وابن ماجه، العتق، حديث:2520، والنسائي في الكبرٰي: 3 /198، حديث:5030 وغيره، وأحمد:6 /289.» تشریح:
مذکورہ حدیث علمائے کرام کے نزدیک تورع اور استحباب پر محمول ہو گی کیونکہ مکاتب کے پاس اگرچہ اتنا مال ہو جسے وہ ادا کر سکے تو بھی وہ آزاد نہیں ہوگا جب تک وہ ادا نہ کر دے۔
محض ادائیگی کی رقم موجود ہونے پر مالکہ کو اس سے پردہ لازم نہیں ہو گا۔
واللّٰہ أعلم۔
تفصیل کے لیے دیکھیے: (الموسوعۃ الحدیثیۃ مسند الإمام أحمد:۴۴ /۷۳)
«أخرجه أبوداود، العتق، باب في المكاتب، حديث:3928، والترمذي، البيوع، حديث:1261، وابن ماجه، العتق، حديث:2520، والنسائي في الكبرٰي: 3 /198، حديث:5030 وغيره، وأحمد:6 /289.»
مذکورہ حدیث علمائے کرام کے نزدیک تورع اور استحباب پر محمول ہو گی کیونکہ مکاتب کے پاس اگرچہ اتنا مال ہو جسے وہ ادا کر سکے تو بھی وہ آزاد نہیں ہوگا جب تک وہ ادا نہ کر دے۔
محض ادائیگی کی رقم موجود ہونے پر مالکہ کو اس سے پردہ لازم نہیں ہو گا۔
واللّٰہ أعلم۔
تفصیل کے لیے دیکھیے: (الموسوعۃ الحدیثیۃ مسند الإمام أحمد:۴۴ /۷۳)
[بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث/صفحہ نمبر: 1231]
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث2520
مکاتب غلام کا بیان۔
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تم میں سے کسی کے پاس مکاتب غلام ہو، اور اس کے پاس اس قدر مال ہو گیا ہو کہ وہ اپنا بدل کتابت ادا کر سکے، تو تم لوگوں کو اس سے پردہ کرنا چاہیئے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب العتق/حدیث: 2520]
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تم میں سے کسی کے پاس مکاتب غلام ہو، اور اس کے پاس اس قدر مال ہو گیا ہو کہ وہ اپنا بدل کتابت ادا کر سکے، تو تم لوگوں کو اس سے پردہ کرنا چاہیئے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب العتق/حدیث: 2520]
اردو حاشہ:
فائدہ:
غلام ادائیگی مکمل ہونے تک آزادی کے حکم میں نہیں آتا محض ادائیگی کی رقم موجودہونے سے اس سے مالکہ کوپردہ لازم نہیں ہوگا جب تک ادائیگی نہ کردے جبکہ مذکورہ حدیث حزم واحتیاط اور تورع پرمحمول ہوگی جیسا کہ بعض ائمہ نے اس کی تصریح کی ہے۔
تفصیل کے لیے دیکھیے: (الموسة الحدیثیة: 73/44)
فائدہ:
غلام ادائیگی مکمل ہونے تک آزادی کے حکم میں نہیں آتا محض ادائیگی کی رقم موجودہونے سے اس سے مالکہ کوپردہ لازم نہیں ہوگا جب تک ادائیگی نہ کردے جبکہ مذکورہ حدیث حزم واحتیاط اور تورع پرمحمول ہوگی جیسا کہ بعض ائمہ نے اس کی تصریح کی ہے۔
تفصیل کے لیے دیکھیے: (الموسة الحدیثیة: 73/44)
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 2520]
نبهان مولى أم سلمة ← أم سلمة زوج النبي