🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
14. باب : القاتل لا يرث
باب: قاتل مقتول کی وراثت کا حقدار نہ ہو گا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2646
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ الْكِنْدِيُّ ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، أَنَّ أَبَا قَتَادَةَ رَجُلٌ مِنْ بَنِي مُدْلِجٍ قَتَلَ ابْنَهُ، فَأَخَذَ مِنْهُ عُمَرُ مِائَةً مِنَ الْإِبِلِ ثَلَاثِينَ حِقَّةً وَثَلَاثِينَ جَذَعَةً وَأَرْبَعِينَ خَلِفَةً، فَقَالَ ابْنُ أَخِي الْمَقْتُولِ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" لَيْسَ لِقَاتِلٍ مِيرَاثٌ".
عمرو بن شعیب کہتے ہیں کہ قبیلہ بنی مدلج کے ابوقتادہ نامی شخص نے اپنے بیٹے کو مار ڈالا جس پر عمر رضی اللہ عنہ نے اس سے دیت کے سو اونٹ لیے: تیس حقے، تیس جذعے، اور چالیس حاملہ اونٹنیاں، پھر فرمایا: مقتول کا بھائی کہاں ہے؟ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: قاتل کے لیے کوئی میراث نہیں ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الديات/حدیث: 2646]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 15654، ومصباح الزجاجة: 934)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/49)، موطا امام مالک/العقول 17 (10) (صحیح) (شواہد کی وجہ سے یہ صحیح ہے)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: «حقہ» : ایسی اونٹنی جو تین سال پورے کر کے چوتھے میں لگ جائے۔ «جذعہ» : ایسی اونٹنی جو چار سال پورے کر کے پانچویں میں لگ جائے۔
مقتول کا بھائی کہاں ہے؟ یعنی مقتول کے بھائی کو سارا مال دلا دیا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
سنده منقطع،عمرو بن شعيب لم يدرك عمر رضي اللّٰه عنه و روي أبو داود (4564) عن رسول اللّٰه ﷺ قال: ((ليس للقاتل شئ و إن لم يكن له وارث فوارثه أقرب الناس إليه و لا يرث القاتل شيئًا)) وھو حديث حسن و ھو يغني عنه
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 474

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥اسم مبهم0
👤←👥عمرو بن شعيب القرشي، أبو إبراهيم، أبو عبد الله
Newعمرو بن شعيب القرشي ← اسم مبهم
ثقة
👤←👥يحيى بن سعيد الأنصاري، أبو سعيد
Newيحيى بن سعيد الأنصاري ← عمرو بن شعيب القرشي
ثقة ثبت
👤←👥سليمان بن حيان الجعفري، أبو خالد
Newسليمان بن حيان الجعفري ← يحيى بن سعيد الأنصاري
صدوق حسن الحديث
👤←👥عبد الله بن سعيد الكندي، أبو سعيد
Newعبد الله بن سعيد الكندي ← سليمان بن حيان الجعفري
ثقة
👤←👥محمد بن العلاء الهمداني، أبو كريب
Newمحمد بن العلاء الهمداني ← عبد الله بن سعيد الكندي
ثقة حافظ
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن ابن ماجه
2646
ليس لقاتل ميراث
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 2646 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث2646
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
قاتل کو وراثت کے حصے سے محروم کرنے میں یہ حکمت ہے کہ بہت دفعہ قتل کی وجہ یہ بھی ہوتی ہے کہ قاتل مقتول کی وراثت حاصل کرنا چاہتا ہے۔
اس قانون کی وجہ سے قاتل یہ سوچنے پر مجبور ہوگا کہ قتل کی صورت میں ترکہ تو ملے گا نہیں، اس کے علاوہ سزائے موت کا خطرہ موجود ہے۔
اگر سزائےموت نہ بھی ملی تو دیت کی ادائیگی لازم ہوگی۔
اس طرح مزید دولت ملنے کے بجائے پہلی دولت بھی ہاتھ سے جائے گی۔
یہ سوچ کروہ قتل سے پرہیز کرےگا۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 2646]