علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
21. باب : لا يقتل مسلم بكافر
باب: کافر کے بدلے مسلمان قتل نہ کیا جائے گا۔
حدیث نمبر: 2658
حَدَّثَنَا عَلْقَمَةُ بْنُ عَمْرٍو الدَّارِمِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ ، عَنْ مُطَرِّفٍ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ أَبِي جُحَيْفَةَ ، قَالَ: قُلْتُ لِعَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ هَلْ عِنْدَكُمْ شَيْءٌ مِنَ الْعِلْمِ لَيْسَ عِنْدَ النَّاسِ؟ قَالَ:" لَا، وَاللَّهِ مَا عِنْدَنَا إِلَّا مَا عِنْدَ النَّاسِ، إِلَّا أَنْ يَرْزُقَ اللَّهُ رَجُلًا فَهْمًا فِي الْقُرْآنِ، أَوْ مَا فِي هَذِهِ الصَّحِيفَةِ فِيهَا الدِّيَاتُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَنْ لَا يُقْتَلَ مُسْلِمٌ بِكَافِرٍ".
ابوجحیفہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے علی رضی اللہ عنہ سے عرض کیا تمہارے پاس کوئی ایسا علم ہے جو دیگر لوگوں کے پاس نہ ہو؟ وہ بولے: نہیں، اللہ کی قسم! ہمارے پاس وہی ہے جو لوگوں کے پاس ہے، ہاں مگر قرآن کی سمجھ جس کی اللہ تعالیٰ کسی کو توفیق بخشتا ہے یا وہ جو اس صحیفے میں ہے اس (صحیفے) میں ان دیتوں کا بیان ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہیں، اور آپ کا یہ فرمان بھی ہے کہ مسلمان کو کافر کے بدلے قتل نہیں کیا جائے گا۔ ۱؎ [سنن ابن ماجه/كتاب الديات/حدیث: 2658]
حضرت ابو جحیفہ وہب بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نے حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے کہا: ”کیا آپ لوگوں کے پاس کوئی ایسا علم ہے جو (دوسرے) لوگوں کے پاس نہیں؟“ انہوں نے کہا: ”نہیں، قسم ہے اللہ کی! ہمارے پاس تو وہی کچھ ہے جو لوگوں کے پاس ہے، سوائے اس کے کہ اللہ تعالیٰ کسی آدمی کو قرآن کی سمجھ عطا فرما دے، یا جو اس نوشتے میں ہے۔“ اس تحریر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمائے ہوئے دیت کے مسائل تھے اور یہ (لکھا ہوا تھا) کہ ”مسلمان کو کافر کے بدلے میں قتل نہ کیا جائے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الديات/حدیث: 2658]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/العلم 40 (111)، الجہاد 171 (3047)، الدیات 24 (6903)، سنن الترمذی/الدیات 16 (1412)، (تحفة الأشراف: 10311)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الدیات11 (4530)، سنن النسائی/القسامة 5 (4738)، مسند احمد (1/79، 122)، سنن الدارمی/الدیات 5 (2401) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: امام بخاری کی روایت میں ہے کہ ابو جحیفہ رضی اللہ عنہ نے کہا: کیا آپ کے پاس کوئی ایسی وحی ہے جو قرآن مجید میں نہ ہو؟ یعنی موجودہ قرآن میں جو سب لوگوں کے پاس ہے، اس سے شیعوں کا رد ہوتا ہے جو کہتے ہیں کہ قرآن پورا نہیں ہے اس میں سے چند سورتیں غائب ہیں، اور پورا قرآن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد علی مرتضی رضی اللہ عنہ کے پاس تھا، پھر ہر ایک امام کے پاس آتا رہا یہاں تک کہ امام مہدی کے پاس آیا اور وہ غائب ہیں،جب ظاہر ہوں گے تو دنیا میں پورا قرآن پھیلے گا، معاذ اللہ یہ سب اکاذیب اور خرافات ہیں، حدیث میں علی رضی اللہ عنہ نے قسم کھا کر بتا دیا کہ ہمارے پاس وہی علم ہے جو اور لوگوں کے پاس ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري
الرواة الحديث:
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 2658 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث2658
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
حضرت علی رضی اللہ عنہ کے زمانے میں بعض لوگوں نے خود ان کے بارے میں غلط باتیں مشہور کردی تھیں۔
حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ہرممکن حد تک ان غلط عقائد کی تردید فرمائی۔
(2)
حضرت علی رضی اللہ عنہ کےبارے میں مشہور ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں”علم باطن“ عطا فرمایا تھا جو شریعت کے ظاہری علم سے مختلف ہے۔
موجودہ تصوف کے سلسلے بھی اسی تصور پر قائم ہیں۔
یہ غلط عقیدہ ہے۔
تزکیۂ نفس کےلیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو کچھ فرمایا ہے وہ سب احادیث کی کتابوں میں موجود ہے۔
یہ کوئی خفیہ علم نہیں۔
(3)
حضرت علی رضی اللہ عنہ کی طرف ”علم جفر“ بھی منسوب ہے۔
جس کے ذریعے سے لوگ اپنےخیال میں ماضی اور مستقبل کی غیب کی باتیں معلوم کر لیتے ہیں۔
یہ سب بے بنیاد ہے۔
اللہ کے سوا کسی اور کوعلم الغیب جاننے والا تسلیم کرنا قرآن کی بہت سی آیات کا انکار ہے۔
(4)
قرآن مجید میں غوروتدبر کرکے علمی نکات دریافت کرنا بہت بڑی سعادت ہے۔
یہ علم حاصل کرنا اور اس کے مطابق اپنی عملی زندگی کو سنوارنا اصل مطلوب ہے۔
(5)
صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم حدیث نبوی تحریر کرتے اور اسے محفوظ رکھتے تھے کیونکہ وہ اسے شریعت کا لازمی حصہ سمجھتے تھے۔
اوراس پر عمل کرتے تھے۔
(6)
اگر مسلمان کسی ذمی کو قتل کردے تو قصاص کے طور پر اسے قتل نہیں کیا جائے گا، البتہ دیت دلائی جا سکتی ہے۔
فوائد و مسائل:
(1)
حضرت علی رضی اللہ عنہ کے زمانے میں بعض لوگوں نے خود ان کے بارے میں غلط باتیں مشہور کردی تھیں۔
حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ہرممکن حد تک ان غلط عقائد کی تردید فرمائی۔
(2)
حضرت علی رضی اللہ عنہ کےبارے میں مشہور ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں”علم باطن“ عطا فرمایا تھا جو شریعت کے ظاہری علم سے مختلف ہے۔
موجودہ تصوف کے سلسلے بھی اسی تصور پر قائم ہیں۔
یہ غلط عقیدہ ہے۔
تزکیۂ نفس کےلیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو کچھ فرمایا ہے وہ سب احادیث کی کتابوں میں موجود ہے۔
یہ کوئی خفیہ علم نہیں۔
(3)
حضرت علی رضی اللہ عنہ کی طرف ”علم جفر“ بھی منسوب ہے۔
جس کے ذریعے سے لوگ اپنےخیال میں ماضی اور مستقبل کی غیب کی باتیں معلوم کر لیتے ہیں۔
یہ سب بے بنیاد ہے۔
اللہ کے سوا کسی اور کوعلم الغیب جاننے والا تسلیم کرنا قرآن کی بہت سی آیات کا انکار ہے۔
(4)
قرآن مجید میں غوروتدبر کرکے علمی نکات دریافت کرنا بہت بڑی سعادت ہے۔
یہ علم حاصل کرنا اور اس کے مطابق اپنی عملی زندگی کو سنوارنا اصل مطلوب ہے۔
(5)
صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم حدیث نبوی تحریر کرتے اور اسے محفوظ رکھتے تھے کیونکہ وہ اسے شریعت کا لازمی حصہ سمجھتے تھے۔
اوراس پر عمل کرتے تھے۔
(6)
اگر مسلمان کسی ذمی کو قتل کردے تو قصاص کے طور پر اسے قتل نہیں کیا جائے گا، البتہ دیت دلائی جا سکتی ہے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 2658]
Sunan Ibn Majah Hadith 2658 in Urdu
وهب بن وهب السوائي ← علي بن أبي طالب الهاشمي