🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
29. باب : من مثل بعبده فهو حر
باب: جس شخص نے اپنے غلام کا مثلہ کیا (یعنی اس کا کوئی عضو کاٹ دیا) تو وہ آزاد ہو جائے گا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2680
حَدَّثَنَا رَجَاءُ بْنُ الْمُرَجَّى السَّمَرْقَنْدِيُّ ، حَدَّثَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو حَمْزَةَ الصَّيْرَفِيُّ ، حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَارِخًا، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَا لَكَ؟"، قَالَ: سَيِّدِي رَآنِي أُقَبِّلُ جَارِيَةً لَهُ، فَجَبَّ مَذَاكِيرِي، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" عَلَيَّ بِالرَّجُلِ"، فَطُلِبَ فَلَمْ يُقْدَرْ عَلَيْهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اذْهَبْ فَأَنْتَ حُرٌّ"، قَالَ: عَلَى مَنْ نُصْرَتِي يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: يَقُولُ: أَرَأَيْتَ إِنِ اسْتَرَقَّنِي مَوْلَايَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" عَلَى كُلِّ مُؤْمِنٍ أَوْ مُسْلِمٍ".
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس چیختا ہوا آیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: کیا بات ہے؟ وہ بولا: میرے مالک نے مجھے اپنی ایک لونڈی کا بوسہ لیتے ہوئے دیکھ لیا، تو میرے اعضاء تناسل ہی کاٹ ڈالے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس آدمی کو میرے پاس لاؤ جب اسے ڈھونڈا گیا تو وہ نہیں مل سکا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جاؤ تم آزاد ہو، غلام بولا: اللہ کے رسول! میری مدد کون کرے گا؟ یعنی اگر میرا مالک مجھے پھر غلام بنا لے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایسی صورت میں ہر مومن یا مسلمان پر تمہاری مدد لازم ہے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الديات/حدیث: 2680]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الدیات 7 (4519)، (تحفة الأ شراف: 8716)، و قد أخرجہ: مسند احمد (2/182، 225) (حسن)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: ان دونوں حدیثوں سے یہ معلوم ہوا کہ اگر کوئی اپنے غلام یا لونڈی کو سخت ایذا دے مثلاً اس کا کوئی عضو کاٹے یا اس کا بدن جلائے تو حاکم اس کو آزاد کر سکتا ہے، اور اس کے مالک کو جو سزا مناسب سمجھے وہ دے سکتا ہے۔
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن عمرو السهمي، أبو محمد، أبو نصر، أبو عبد الرحمنصحابي
👤←👥شعيب بن محمد السهمي
Newشعيب بن محمد السهمي ← عبد الله بن عمرو السهمي
صدوق حسن الحديث
👤←👥عمرو بن شعيب القرشي، أبو إبراهيم، أبو عبد الله
Newعمرو بن شعيب القرشي ← شعيب بن محمد السهمي
ثقة
👤←👥سوار بن داود المزني، أبو حمزة
Newسوار بن داود المزني ← عمرو بن شعيب القرشي
مقبول
👤←👥النضر بن شميل المازني، أبو الحسن
Newالنضر بن شميل المازني ← سوار بن داود المزني
ثقة ثبت
👤←👥رجاء بن مرجى الغفاري، أبو محمد، أبو أحمد
Newرجاء بن مرجى الغفاري ← النضر بن شميل المازني
ثقة حافظ
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن أبي داود
4519
جاء رجل مستصرخ إلى النبي فقال جارية له يا رسول الله فقال ويحك ما لك قال شرا أبصر لسيده جارية له فغار فجب مذاكيره فقال رسول الله علي بالرجل فطلب فلم يقدر عليه فقال رسول الله اذهب فأنت حر فقال يا رسول الله على من نصرتي قال على كل مؤمن
سنن ابن ماجه
2680
اذهب فأنت حر قال على من نصرتي يا رسول الله قال يقول أرأيت إن استرقني مولاي فقال رسول الله على كل مؤمن أو مسلم
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 2680 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث2680
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
اگر کوئی شخص اپنے غلام کے اعضاء کاٹ دے تو آقا سے قصاص نہیں لیا جائے گا۔

(2)
غلام سے اگر ایسی زیادتی کی جائےجس کی سزا قصاص ہے تو غلام کو آزاد کردیا جائے گا۔

(3)
اعضاء سے مراد ناک، کان یا ہاتھ پاؤں وغیرہ ہیں۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 2680]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 4519
جو شخص اپنے غلام کو قتل کر دے یا اس کے اعضاء کاٹ لے تو کیا اس سے قصاص لیا جائے گا؟
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ایک شخص چیختا چلاتا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، اور کہنے لگا: اللہ کے رسول! اس کی ایک لونڈی تھی، آپ نے فرمایا: ستیاناس ہو تمہارا، بتاؤ کیا ہوا؟ اس نے کہا: برا ہوا، میرے آقا کی ایک لونڈی تھی اسے میں نے دیکھ لیا، تو اسے غیرت آئی، اس نے میرا ذکر کٹوا دیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس شخص کو میرے پاس لاؤ تو اسے بلایا گیا، مگر کوئی اسے نہ لا سکا تب آپ نے (اس غلام سے) فرمایا: جاؤ تم آزاد ہو اس نے کہا: اللہ ۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابي داود/كتاب الديات /حدیث: 4519]
فوائد ومسائل:
اگر کوئی مالک اپنے غلام پر ظلم کرے اور اس اعضاء کاٹ ڈالے تو غلام آزاد کردیا جائے گا۔
اور مالک سے قصاص لینے میں فقہاء کا اختلاف ہے، جیسا کہ اس کی مختصر تفصیل گزری۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4519]