🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
32. باب : من قتل معاهدا
باب: ذمی کافر کو قتل کرنے والے کے گناہ کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2687
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا مَعْدِيُّ بْنُ سُلَيْمَانَ ، أَنْبَأَنَا ابْنُ عَجْلَانَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" مَنْ قَتَلَ مُعَاهَدًا لَهُ ذِمَّةُ اللَّهِ وَذِمَّةُ رَسُولِهِ لَمْ يَرَحْ رَائِحَةَ الْجَنَّةِ وَإِنَّ رِيحَهَا لَيُوجَدُ مِنْ مَسِيرَةِ سَبْعِينَ عَامًا".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا: جس نے کسی ایسے ذمی کو قتل کر دیا جس کو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول نے پناہ دے رکھی ہو، تو وہ جنت کی خوشبو بھی نہ پائے گا، حالانکہ اس کی خوشبو ستر سال کی مسافت سے محسوس کی جاتی ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الديات/حدیث: 2687]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/الدیات 11 (1403)، (تحفة الأ شراف: 14140) (صحیح) (تراجع الألبانی: رقم: (451)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أبو هريرة الدوسيصحابي
👤←👥عجلان مولى فاطمة
Newعجلان مولى فاطمة ← أبو هريرة الدوسي
صدوق حسن الحديث
👤←👥محمد بن عجلان القرشي، أبو عبد الله
Newمحمد بن عجلان القرشي ← عجلان مولى فاطمة
صدوق حسن الحديث
👤←👥معدي بن سليمان البصري، أبو سليمان
Newمعدي بن سليمان البصري ← محمد بن عجلان القرشي
ضعيف الحديث
👤←👥محمد بن بشار العبدي، أبو بكر
Newمحمد بن بشار العبدي ← معدي بن سليمان البصري
ثقة حافظ
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
جامع الترمذي
1403
من قتل نفسا معاهدا له ذمة الله وذمة رسوله فقد أخفر بذمة الله فلا يرح رائحة الجنة ريحها ليوجد من مسيرة سبعين خريفا
سنن ابن ماجه
2687
من قتل معاهدا له ذمة الله وذمة رسوله لم يرح رائحة
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 2687 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث2687
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
 
(1)
مسلمان ملک کے غیرمسلم باشندے ذمی کہلاتے ہیں کیونکہ اسلامی حکومت ان کے حقوق کی حفاظت کا ذمہ اٹھاتی ہے۔

(2)
یہ حقوق انہیں اللہ کے حکم سے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدایات کی روشنی میں دیے جاتے ہیں، اس لیے گویا ان کا ذمہ اللہ اور اس کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اٹھایا ہے، لہٰذا کسی مسلمان کے لیے جائز نہیں کہ اللہ اور رسول کی ذمے داری کی ادائیگی میں خلل ڈالے۔

(3)
جنت کی خوشبو نہ پانے کا مطلب یہ ہے کہ جنت سے ہزاروں میل دور ہوگا۔
آخرت میں صرف جنت اور جہنم ہی کے مقامات ہیں، اس لیے اس میں یہ وعید ہے کہ وہ شخص جہنم میں جائے گا۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 2687]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 1403
ذمی اور معاہدہ والوں کے قاتل کے بارے میں وارد وعید کا بیان۔
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: خبردار! جس نے کسی ایسے ذمی ۱؎ کو قتل کیا جسے اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی پناہ حاصل تھی تو اس نے اللہ کے عہد کو توڑ دیا، لہٰذا وہ جنت کی خوشبو نہیں پا سکے گا، حالانکہ اس کی خوشبو ستر سال کی مسافت (دوری) سے آئے گی۔‏‏‏‏ [سنن ترمذي/كتاب الديات/حدیث: 1403]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
ایسا کافر جو کسی اسلامی مملکت میں مسلمانوں سے کیے ہوئے عہد وپیمان کے مطابق رہ رہا ہو خواہ جزیہ دے کر معاہدہ کرکے رہ رہا ہو یا دار الحرب سے معاہدہ یا امان پر دار السلام میں آیا ہو،
اسے مسلمانوں کی پناہ اس وقت تک حاصل ہوگی جب تک وہ بھی اپنے معاہدہ پر قائم رہے،
یا اپنے وطن دار الحرب لوٹ جائے۔
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 1403]