علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
33. باب : من أمن رجلا على دمه فقتله
باب: کسی کو امان دینے کے بعد قتل کرنا کیسا ہے؟
حدیث نمبر: 2688
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي الشَّوَارِبِ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ رِفَاعَةَ بْنِ شَدَّادٍ الْقِتْبَانِيِّ ، قَالَ: لَوْلَا كَلِمَةٌ سَمِعْتُهَا مِنْ عَمْرِو بْنِ الْحَمِقِ الْخُزَاعِيِّ لَمَشَيْتُ فِيمَا بَيْنَ رَأْسِ الْمُخْتَارِ وَجَسَدِهِ، سَمِعْتُهُ يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ أَمِنَ رَجُلًا عَلَى دَمِهِ فَقَتَلَهُ، فَإِنَّهُ يَحْمِلُ لِوَاءَ غَدْرٍ يَوْمَ الْقِيَامَةِ".
رفاعہ بن شداد قتبانی کہتے ہیں کہ اگر وہ حدیث نہ ہوتی جو میں نے عمرو بن حمق خزاعی رضی اللہ عنہ سے سنی ہے تو میں مختار ثقفی کے سر اور جسم کے درمیان چلتا، میں نے عمرو بن حمق خزاعی رضی اللہ عنہ کو کہتے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے کسی کو جان کی امان دی، پھر اس کو قتل کر دیا تو قیامت کے دن دغا بازی کا جھنڈا اٹھائے ہوئے ہو گا“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الديات/حدیث: 2688]
حضرت رفاعہ بن شداد قتبانی رحمہ اللہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ”اگر میں نے حضرت عمرو بن حمق خزاعی رضی اللہ عنہ سے ایک حدیث نہ سنی ہوتی تو مختار ثقفی کے سر اور دھڑ کے درمیان چلتا (اس کا سر دھڑ سے الگ کر دیتا)، میں نے حضرت عمرو رضی اللہ عنہ سے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس شخص سے کوئی اپنا خون محفوظ سمجھتا ہو اور وہ اسے قتل کر ڈالے تو قیامت کے دن وہ (قاتل) عہد شکنی کا جھنڈا اٹھائے ہوئے ہوگا۔“” [سنن ابن ماجه/كتاب الديات/حدیث: 2688]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 10730، ومصباح الزجاجة: 951)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/223، 224، 436، 437) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن ابن ماجه |
2688
| من أمن رجلا على دمه فقتله فإنه يحمل لواء غدر يوم القيامة |
المعجم الصغير للطبراني |
781
| من آمن رجلا على دمه فقتله فأنا بريء من القاتل ، وإن كان المقتول كافرا |
المعجم الصغير للطبراني |
915
| من آمن رجلا على دمه ، فقتله فأنا بريء من القاتل ، وإن كان المقتول كافرا |
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 2688 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث2688
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
کسی کو امان دے کر قتل کر دینا بہت بڑا گناہ ہے۔
(2)
عہد شکنی اتنا بڑا جرم ہے کہ قیامت کے دن ایسے مجرم کے جسم پر جھنڈا نصب ہوگا جس سے ہر شخص کو معلوم ہوجائے گاکہ فلاں شخص عہد شکن ہے۔
اس طرح اس کی سخت بدنامی ہوگی۔
(3)
مختار بن عبید ثقفی نے حضرت حسین ؓ کی شہادت کے بعد ان کے انتقام کا نعرہ بلند کیا اور اس طرح عوام کی ہمدردیاں حاصل کی۔
حضرت حسین ؓ کے قاتلوں سے انتقام لینے کے بعد اس نے محسوس کیا کہ اسے عوام کی محبت او رہمدردی حاصل ہوگئی ہے تو نبوت کا دعویٰ کردیا او رلوگوں کو گمراہ کیا۔
حضرت مصعب بن زبیر ؓ نے اسے قتل کرکے اس فتنے کا خاتمہ کیا۔
فوائد و مسائل:
(1)
کسی کو امان دے کر قتل کر دینا بہت بڑا گناہ ہے۔
(2)
عہد شکنی اتنا بڑا جرم ہے کہ قیامت کے دن ایسے مجرم کے جسم پر جھنڈا نصب ہوگا جس سے ہر شخص کو معلوم ہوجائے گاکہ فلاں شخص عہد شکن ہے۔
اس طرح اس کی سخت بدنامی ہوگی۔
(3)
مختار بن عبید ثقفی نے حضرت حسین ؓ کی شہادت کے بعد ان کے انتقام کا نعرہ بلند کیا اور اس طرح عوام کی ہمدردیاں حاصل کی۔
حضرت حسین ؓ کے قاتلوں سے انتقام لینے کے بعد اس نے محسوس کیا کہ اسے عوام کی محبت او رہمدردی حاصل ہوگئی ہے تو نبوت کا دعویٰ کردیا او رلوگوں کو گمراہ کیا۔
حضرت مصعب بن زبیر ؓ نے اسے قتل کرکے اس فتنے کا خاتمہ کیا۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 2688]
Sunan Ibn Majah Hadith 2688 in Urdu
رفاعة بن شداد البجلي ← عمرو بن الحمق الخزاعي