🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482 New
سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
33. باب : من أمن رجلا على دمه فقتله
باب: کسی کو امان دینے کے بعد قتل کرنا کیسا ہے؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2688
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي الشَّوَارِبِ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ رِفَاعَةَ بْنِ شَدَّادٍ الْقِتْبَانِيِّ ، قَالَ: لَوْلَا كَلِمَةٌ سَمِعْتُهَا مِنْ عَمْرِو بْنِ الْحَمِقِ الْخُزَاعِيِّ لَمَشَيْتُ فِيمَا بَيْنَ رَأْسِ الْمُخْتَارِ وَجَسَدِهِ، سَمِعْتُهُ يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ أَمِنَ رَجُلًا عَلَى دَمِهِ فَقَتَلَهُ، فَإِنَّهُ يَحْمِلُ لِوَاءَ غَدْرٍ يَوْمَ الْقِيَامَةِ".
رفاعہ بن شداد قتبانی کہتے ہیں کہ اگر وہ حدیث نہ ہوتی جو میں نے عمرو بن حمق خزاعی رضی اللہ عنہ سے سنی ہے تو میں مختار ثقفی کے سر اور جسم کے درمیان چلتا، میں نے عمرو بن حمق خزاعی رضی اللہ عنہ کو کہتے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے کسی کو جان کی امان دی، پھر اس کو قتل کر دیا تو قیامت کے دن دغا بازی کا جھنڈا اٹھائے ہوئے ہو گا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الديات/حدیث: 2688]
حضرت رفاعہ بن شداد قتبانی رحمہ اللہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: اگر میں نے حضرت عمرو بن حمق خزاعی رضی اللہ عنہ سے ایک حدیث نہ سنی ہوتی تو مختار ثقفی کے سر اور دھڑ کے درمیان چلتا (اس کا سر دھڑ سے الگ کر دیتا)، میں نے حضرت عمرو رضی اللہ عنہ سے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص سے کوئی اپنا خون محفوظ سمجھتا ہو اور وہ اسے قتل کر ڈالے تو قیامت کے دن وہ (قاتل) عہد شکنی کا جھنڈا اٹھائے ہوئے ہوگا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الديات/حدیث: 2688]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 10730، ومصباح الزجاجة: 951)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/223، 224، 436، 437) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عمرو بن الحمق الخزاعيصحابي
👤←👥رفاعة بن شداد البجلي، أبو عاصم، أبو عصام
Newرفاعة بن شداد البجلي ← عمرو بن الحمق الخزاعي
ثقة
👤←👥عبد الملك بن عمير اللخمي، أبو عمرو، أبو عمر
Newعبد الملك بن عمير اللخمي ← رفاعة بن شداد البجلي
صدوق حسن الحديث
👤←👥الوضاح بن عبد الله اليشكري، أبو عوانة
Newالوضاح بن عبد الله اليشكري ← عبد الملك بن عمير اللخمي
ثقة ثبت
👤←👥محمد بن عبد الملك البصري، أبو عبد الله
Newمحمد بن عبد الملك البصري ← الوضاح بن عبد الله اليشكري
صدوق حسن الحديث
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن ابن ماجه
2688
من أمن رجلا على دمه فقتله فإنه يحمل لواء غدر يوم القيامة
المعجم الصغير للطبراني
781
من آمن رجلا على دمه فقتله فأنا بريء من القاتل ، وإن كان المقتول كافرا
المعجم الصغير للطبراني
915
من آمن رجلا على دمه ، فقتله فأنا بريء من القاتل ، وإن كان المقتول كافرا
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 2688 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث2688
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
کسی کو امان دے کر قتل کر دینا بہت بڑا گناہ ہے۔

(2)
عہد شکنی اتنا بڑا جرم ہے کہ قیامت کے دن ایسے مجرم کے جسم پر جھنڈا نصب ہوگا جس سے ہر شخص کو معلوم ہوجائے گاکہ فلاں شخص عہد شکن ہے۔
اس طرح اس کی سخت بدنامی ہوگی۔

(3)
مختار بن عبید ثقفی نے حضرت حسین ؓ کی شہادت کے بعد ان کے انتقام کا نعرہ بلند کیا اور اس طرح عوام کی ہمدردیاں حاصل کی۔
حضرت حسین ؓ کے قاتلوں سے انتقام لینے کے بعد اس نے محسوس کیا کہ اسے عوام کی محبت او رہمدردی حاصل ہوگئی ہے تو نبوت کا دعویٰ کردیا او رلوگوں کو گمراہ کیا۔
حضرت مصعب بن زبیر ؓ نے اسے قتل کرکے اس فتنے کا خاتمہ کیا۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 2688]

Sunan Ibn Majah Hadith 2688 in Urdu