سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
14. باب : ارتباط الخيل في سبيل الله
باب: اللہ کی راہ میں جہاد کے لیے گھوڑے رکھنے کا ثواب۔
حدیث نمبر: 2788
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي الشَّوَارِبِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ الْمُخْتَارِ ، حَدَّثَنَا سُهَيْلٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الْخَيْلُ فِي نَوَاصِيهَا الْخَيْرُ" أَوْ قَالَ:" الْخَيْلُ مَعْقُودٌ فِي نَوَاصِيهَا الْخَيْرُ"، قَالَ سُهَيْلٌ: أَنَا أَشُكُّ الْخَيْرُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ الْخَيْلُ ثَلَاثَةٌ: فَهِيَ لِرَجُلٍ أَجْرٌ، وَلِرَجُلٍ سِتْرٌ، وَعَلَى رَجُلٍ وِزْرٌ، فَأَمَّا الَّذِي هِيَ لَهُ أَجْرٌ فَالرَّجُلُ يَتَّخِذُهَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَيُعِدُّهَا فَلَا تُغَيِّبُ شَيْئًا فِي بُطُونِهَا إِلَّا كُتِبَ لَهُ أَجْرٌ، وَلَوْ رَعَاهَا فِي مَرْجٍ مَا أَكَلَتْ شَيْئًا إِلَّا كُتِبَ لَهُ بِهَا أَجْرٌ، وَلَوْ سَقَاهَا مِنْ نَهَرٍ جَارٍ كَانَ لَهُ بِكُلِّ قَطْرَةٍ تُغَيِّبُهَا فِي بُطُونِهَا أَجْرٌ، حَتَّى ذَكَرَ الْأَجْرَ فِي أَبْوَالِهَا وَأَرْوَاثِهَا، وَلَوِ اسْتَنَّتْ شَرَفًا أَوْ شَرَفَيْنِ كُتِبَ لَهُ بِكُلِّ خُطْوَةٍ تَخْطُوهَا أَجْرٌ، وَأَمَّا الَّذِي هِيَ لَهُ سِتْرٌ فَالرَّجُلُ يَتَّخِذُهَا تَكَرُّمًا وَتَجَمُّلًا وَلَا يَنْسَى حَقَّ ظُهُورِهَا وَبُطُونِهَا فِي عُسْرِهَا وَيُسْرِهَا، وَأَمَّا الَّذِي هِيَ عَلَيْهِ وِزْرٌ فَالَّذِي يَتَّخِذُهَا أَشَرًا وَبَطَرًا وَبَذَخًا وَرِيَاءً لِلنَّاسِ فَذَلِكَ الَّذِي هِيَ عَلَيْهِ وِزْرٌ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”گھوڑوں کی پیشانی میں بھلائی ہے“ یا فرمایا: ”گھوڑوں کی پیشانی میں قیامت تک خیر اور بھلائی بندھی ہوئی ہے، گھوڑے تین طرح کے ہوتے ہیں، ایک شخص کے لیے وہ اجر و ثواب ہیں، ایک کے لیے ستر (پردہ) ہیں، اور ایک کے واسطے عذاب ہیں، (پھر آپ نے تفصیل بیان کی) اس شخص کے لیے تو باعث اجر و ثواب ہیں جو انہیں اللہ کی راہ میں جہاد کی غرض سے رکھے، اور انہیں تیار کرے، چنانچہ ان کے پیٹ میں جو چیز بھی جائے گی وہ اس شخص کے لیے نیکی شمار ہو گی، اگر وہ انہیں گھاس والی زمین میں بھی چرائے گا تو جو وہ کھائیں گے اس کا ثواب اسے ملے گا، اگر وہ انہیں بہتی نہر سے پانی پلائے گا تو پیٹ میں جانے والے ہر قطرے کے بدلے اسے ثواب ملے گا، حتیٰ کہ آپ نے ان کے پیشاب اور لید (گوبر) میں بھی ثواب بتایا، اگر وہ ایک یا دو میل دوڑیں تو بھی ہر قدم کے بدلے جسے وہ اٹھائیں گے ثواب ملے گا، اور جس شخص کے لیے گھوڑے ستر (پردہ) ہیں وہ ہے جو انہیں عزت اور زینت کی غرض سے رکھتا ہے، لیکن ان کی پیٹھ اور پیٹ کے حق سے تنگی اور آسانی کسی حال میں غافل نہیں رہتا، لیکن جس شخص کے حق میں یہ گھوڑے گناہ ہیں وہ شخص ہے جو غرور، تکبر، فخر اور ریا و نمود کی خاطر انہیں رکھتا ہے، تو یہی وہ گھوڑے ہیں جو اس کے حق میں گناہ ہیں“ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجهاد/حدیث: 2788]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”گھوڑوں کی پیشانیوں میں قیامت تک کے لیے خیر ہے۔“ یا فرمایا: ”گھوڑوں کی پیشانیوں سے قیامت تک خیر باندھ دی گئی ہے۔“ (پھر فرمایا:) ”گھوڑے تین طرح کے ہوتے ہیں: وہ کسی کے لیے ثواب کا باعث ہوتے ہیں، کسی کے لیے (عزت قائم رکھنے والا) پردہ ہوتے ہیں اور کسی کے لیے (گناہ کا) بوجھ ہوتے ہیں۔ یہ ثواب کا باعث اس شخص کے لیے ہیں جو انہیں اللہ کی راہ میں (جہاد کے لیے) رکھتا اور تیار کرتا ہے۔ یہ گھوڑے اپنے پیٹوں میں جو کچھ ڈالتے ہیں (اس کے عوض) مالک کے لیے ثواب لکھا جاتا ہے۔ اگر وہ انہیں کسی چراگاہ میں چرائے تو یہ جو کچھ کھائیں گے، اس کے بدلے اس (مالک) کے لیے ثواب لکھا جائے گا۔ اگر وہ انہیں کسی نہر (یا دریا) سے پانی پلائے گا تو وہ جو قطرہ اپنے پیٹوں میں ڈالیں گے، اس کے بدلے میں اس (مالک) کو ثواب ملے گا“، راوی نے گھوڑوں کے پیشاب اور لید پر ثواب ملنے کا بھی ذکر کیا ہے، ”اگر وہ چکر لگائیں تو ان کے ہر قدم کے بدلے میں (مالک کے لیے) ثواب لکھا جائے گا۔ اور یہ پردے کا باعث اس شخص کے لیے ہیں جو انہیں عزت اور زینت کے لیے پالتا ہے، اور تنگی ترشی ہو یا آسانی، وہ ان کی پیٹھوں اور پیٹوں کا حق فراموش نہیں کرتا۔ اور یہ گناہ کا باعث اس شخص کے لیے ہیں جو انہیں فخر، غرور، تکبر اور لوگوں کو دکھانے کے لیے رکھتا ہے، تو یہ اس پر (گناہ کا) بوجھ ہیں۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الجهاد/حدیث: 2788]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الزکاة 6 (987)، (تحفة الأشراف: 12785)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الشرب المساقاة 12 (2371)، الجہاد 48 (2860)، المناقب 28 (3646)، تفسیر سورة الزلزلة 1 (4962)، الاعتصام 24 (7356)، سنن الترمذی/فضائل الجہاد 10 (1636)، سنن النسائی/الخیل (3592)، موطا امام مالک/الجہاد 1 (3)، مسند احمد (2/262، 283) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: سواری کا حق یہ ہے کہ جب کوئی مسلمان اس کو ضرورت کی وجہ سے مانگے تو اسے دے یا کوئی پریشان مسلمان راہ میں ملے تو اس کو سوار کر لے، اور بعضوں نے کہا: ان کی زکاۃ ادا کرے، لیکن جمہور علماء کے نزدیک گھوڑوں میں زکاۃ نہیں ہے اور پیٹ کا حق یہ ہے کہ ان کے پانی چارے کی خبر اچھی طرح رکھے اگر ہمیشہ ممکن نہ ہو تو کبھی کبھی خود اس کی دیکھ بھال کرے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
جامع الترمذي |
1636
| الخيل معقود في نواصيها الخير إلى يوم القيامة الخيل لثلاثة لرجل أجر لرجل ستر على رجل وزر أما الذي له أجر فالذي يتخذها في سبيل الله فيعدها له هي له أجر لا يغيب في بطونها شيء إلا كتب الله له أجرا |
سنن ابن ماجه |
2788
| الخيل في نواصيها الخير الخيل ثلاثة فهي لرجل أجر لرجل ستر على رجل وزر أما الذي هي له أجر فالرجل يتخذها في سبيل الله ويعدها فلا تغيب شيئا في بطونها إلا كتب له أجر ولو رعاها في مرج ما أكلت شيئا إلا كتب له بها أجر ولو سقاها من نهر جار كان له بكل قطرة تغ |
سنن النسائى الصغرى |
3592
| الخيل معقود في نواصيها الخير إلى يوم القيامة الخيل ثلاثة هي لرجل أجر هي لرجل ستر هي على رجل وزر أما الذي هي له أجر فالذي يحتبسها في سبيل الله فيتخذها له ولا تغيب في بطونها شيئا إلا كتب له بكل شيء غيبت في بطونها أجر ولو عرضت له مرج |
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 2788 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث2788
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
جہاد کے مقصد کے لیے تیار کی جانے والی چیز کی دیکھ بھال ثواب کا باعث ہے۔
(2)
جہاد کے لیے استعمال ہونے والی گاڑیوں میں استعمال ہونے والا پیٹرول اور ان کی مرمت پر ہونے والا خرچ سب نیکیوں میں درج ہوتا ہے۔
(3)
گھوڑوں کی لید اور پیشاب پر قیاس کرکے کہا جا سکتا ہے کہ جہاد کے لیے استعمال ہونے والی گاڑیوں سے نکلنے والا دھواں بنی نیکیوں کے پلڑے میں رکھا جائےگا۔
(4)
اپنی جائز ضروریات کے لیے ذاتی گاڑی رکھنا جائز ہے لیکن اس کا حق یہ بھی ہے کہ کسی غریب ضرورت مند کو بلامعاوضہ اس کی منزل پر پہنچایا جائے اور ہمسایوں اور رشتے داروں کی چھوٹی موٹی ضروریات پوری کی جائیں۔
(5)
کوئی بھی ضرورت کی چیز جو معاشرے میں دولت مندی کی علامت سمجھی جاتی ہو محض فخر کے اظہار کے لیے اسے حاصل کرنا اور جا بے جا اس کا اظہار کرنا بڑا گناہ ہے۔
فوائد و مسائل:
(1)
جہاد کے مقصد کے لیے تیار کی جانے والی چیز کی دیکھ بھال ثواب کا باعث ہے۔
(2)
جہاد کے لیے استعمال ہونے والی گاڑیوں میں استعمال ہونے والا پیٹرول اور ان کی مرمت پر ہونے والا خرچ سب نیکیوں میں درج ہوتا ہے۔
(3)
گھوڑوں کی لید اور پیشاب پر قیاس کرکے کہا جا سکتا ہے کہ جہاد کے لیے استعمال ہونے والی گاڑیوں سے نکلنے والا دھواں بنی نیکیوں کے پلڑے میں رکھا جائےگا۔
(4)
اپنی جائز ضروریات کے لیے ذاتی گاڑی رکھنا جائز ہے لیکن اس کا حق یہ بھی ہے کہ کسی غریب ضرورت مند کو بلامعاوضہ اس کی منزل پر پہنچایا جائے اور ہمسایوں اور رشتے داروں کی چھوٹی موٹی ضروریات پوری کی جائیں۔
(5)
کوئی بھی ضرورت کی چیز جو معاشرے میں دولت مندی کی علامت سمجھی جاتی ہو محض فخر کے اظہار کے لیے اسے حاصل کرنا اور جا بے جا اس کا اظہار کرنا بڑا گناہ ہے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 2788]
Sunan Ibn Majah Hadith 2788 in Urdu
أبو صالح السمان ← أبو هريرة الدوسي