سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
16. باب : فضل الشهادة في سبيل الله
باب: اللہ کی راہ میں شہادت کی فضیلت۔
حدیث نمبر: 2802
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، وَأَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ ، وبشر بن آدم ، قَالُوا: حَدَّثَنَا صَفْوَانُ بْنُ عِيسَى ، أَنْبَأَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَجْلَانَ ، عَنْ الْقَعْقَاعِ بْنِ حَكِيمٍ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَا يَجِدُ الشَّهِيدُ مِنَ الْقَتْلِ إِلَّا كَمَا يَجِدُ أَحَدُكُمْ مِنَ الْقَرْصَةِ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”شہید کو قتل سے اتنی ہی تکلیف ہوتی ہے جتنی کہ تمہیں چیونٹی کاٹنے سے ہوتی ہے“ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجهاد/حدیث: 2802]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/فضائل الجہاد 26 (1668)، سنن النسائی/الجہاد 35 (3163)، (تحفة الأشراف: 12861)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/297)، سنن الدارمی/الجہاد 17 (2452) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی بہت ہلکا اور خفیف صدمہ ہوتا ہے جس کا احساس نہیں ہوتا اور یہ ہلکا صدمہ بھی مرتے ہی جاتا رہتا ہے، پھر تو طرح طرح کے عیش اور آرام نصیب ہوتے ہیں، یہاں تک کہ دوبارہ مارے جانے کی خواہش پیدا ہوتی ہے، یا اللہ! تو اپنے فضل و کرم سے موت کو ہم پر آسان کر دے کہ چیونٹی کے کاٹنے کی طرح بھی معلوم نہ ہو۔
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
ترمذي (1668) نسائي (3163)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 480
إسناده ضعيف
ترمذي (1668) نسائي (3163)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 480
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن النسائى الصغرى |
3163
| الشهيد لا يجد مس القتل إلا كما يجد أحدكم القرصة يقرصها |
جامع الترمذي |
1668
| ما يجد الشهيد من مس القتل إلا كما يجد أحدكم من مس القرصة |
سنن ابن ماجه |
2802
| ما يجد الشهيد من القتل إلا كما يجد أحدكم من القرصة |
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 2802 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث2802
اردو حاشہ:
فائدہ:
مذکورہ روایت کو ہمارے فاضل محقق نے سنداً ضعیف قرار دیا ہے جبکہ دیگر محققین نے حسن قرار دیا ہے۔
اور (الموسوعة الحديثية کے محققین نے اس کی سند کو قوی قراردیا ہے۔
مزید تفصیل کے لیے دیکھیے: (الموسوعة الحديثية مسند الإمام أحمد: 235/334/3)
والصحيحة للالباني، رقم: 960)
بہرحال یہ بھی شہید پر اللہ کا انعام ہےکہ اس پر جان نکلنے کا عمل آسان کردیا جاتا ہےاور اس کے لیے یہ تکلیف ناقابل برداشت نہیں ہوتی۔
فائدہ:
مذکورہ روایت کو ہمارے فاضل محقق نے سنداً ضعیف قرار دیا ہے جبکہ دیگر محققین نے حسن قرار دیا ہے۔
اور (الموسوعة الحديثية کے محققین نے اس کی سند کو قوی قراردیا ہے۔
مزید تفصیل کے لیے دیکھیے: (الموسوعة الحديثية مسند الإمام أحمد: 235/334/3)
والصحيحة للالباني، رقم: 960)
بہرحال یہ بھی شہید پر اللہ کا انعام ہےکہ اس پر جان نکلنے کا عمل آسان کردیا جاتا ہےاور اس کے لیے یہ تکلیف ناقابل برداشت نہیں ہوتی۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 2802]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث3163
شہید کو پہنچنے والی تکلیف کا بیان۔
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”شہید کو قتل کے وار سے بس اتنی ہی تکلیف محسوس ہوتی ہے جتنی تم میں سے کسی کو چیونٹی کے کاٹنے سے محسوس ہوتی ہے (پھر اس کے بعد تو آرام ہی آرام ہے)۔“ [سنن نسائي/كتاب الجهاد/حدیث: 3163]
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”شہید کو قتل کے وار سے بس اتنی ہی تکلیف محسوس ہوتی ہے جتنی تم میں سے کسی کو چیونٹی کے کاٹنے سے محسوس ہوتی ہے (پھر اس کے بعد تو آرام ہی آرام ہے)۔“ [سنن نسائي/كتاب الجهاد/حدیث: 3163]
اردو حاشہ:
شہادت کی خوشی اور جذبئہ ایمان کی شدت قتل کی تکلیف کا احساس ختم کردیتی ہے۔
شہادت کی خوشی اور جذبئہ ایمان کی شدت قتل کی تکلیف کا احساس ختم کردیتی ہے۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 3163]
أبو صالح السمان ← أبو هريرة الدوسي