🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
20. باب : الرايات والألوية
باب: (جنگ میں) بڑے اور چھوٹے جھنڈوں کے استعمال کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2816
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ الْحَارِثِ بْنِ حَسَّانَ ، قَالَ:" قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ فَرَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَائِمًا عَلَى الْمِنْبَرِ وَبِلَالٌ قَائِمٌ بَيْنَ يَدَيْهِ مُتَقَلِّدٌ سَيْفًا وَإِذَا رَايَةٌ سَوْدَاءُ، فَقُلْتُ: مَنْ هَذَا؟، قَالُوا: هَذَا عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ قَدِمَ مِنْ غَزَاةٍ".
حارث بن حسان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں مدینہ آیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو منبر پر کھڑے دیکھا، اور بلال رضی اللہ عنہ آپ کے سامنے گلے میں تلوار ٹکائے ہوئے تھے، پھر اچانک ایک کالا بڑا جھنڈا دکھائی دیا، میں نے کہا: یہ کون ہیں؟ لوگوں نے بتایا کہ یہ عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ ہیں جو ایک غزوہ سے واپس آئے ہیں۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجهاد/حدیث: 2816]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/تفسیر القرآ ن 51 (2) (3273، 3274)، (تحفة الأشراف: 3277)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/482) (حسن)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥الحارث بن حسان الربعيصحابي
👤←👥عاصم بن أبي النجود الأسدي، أبو بكر
Newعاصم بن أبي النجود الأسدي ← الحارث بن حسان الربعي
صدوق حسن الحديث
👤←👥أبو بكر بن عياش الأسدي، أبو بكر
Newأبو بكر بن عياش الأسدي ← عاصم بن أبي النجود الأسدي
صدوق حسن الحديث
👤←👥ابن أبي شيبة العبسي، أبو بكر
Newابن أبي شيبة العبسي ← أبو بكر بن عياش الأسدي
ثقة حافظ صاحب تصانيف
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن ابن ماجه
2816
قدمت المدينة فرأيت النبي قائما على المنبر وبلال قائم بين يديه متقلد سيفا وإذا راية سوداء فقلت من هذا قالوا هذا عمرو بن العاص قدم من غزاة
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 2816 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث2816
اردو حاشہ:
  فوائد و مسائل:
(1)
۔
خطبے کے لیے منبر پر کھڑے ہونا مسنون ہے۔

(2)
حفاظتی نقطہ نظر سے کسی بڑے عالم یا قائد کے پاس مسلح شخص کھڑا ہوسکتا ہے۔

(3)
جنگی مہم کے لیے جانے والے دستے کا اہک جھنڈا ہونا چاہیے۔

(4)
جہاد سے واپس انے والوں کی حوصلہ افزائی کے لیے ان کا مناسب استقبال کرنا چاہیے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 2816]