🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
19. باب : الرمي في سبيل الله
باب: اللہ کی راہ میں تیر اندازی کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2815
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ زِيَادِ بْنِ الْحُصَيْنِ ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: مَرَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِنَفَرٍ يَرْمُونَ، فَقَالَ:" رَمْيًا بَنِي إِسْمَاعِيل، فَإِنَّ أَبَاكُمْ كَانَ رَامِيًا".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کچھ لوگوں کے پاس سے گزرے جو تیر اندازی کر رہے تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسماعیل کی اولاد! تیر اندازی کرو، تمہارے والد (اسماعیل) بڑے تیر انداز تھے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجهاد/حدیث: 2815]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 5428، ومصباح الزجاجة: 996)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/364) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: اسماعیل علیہ السلام کو ان کے باپ ابراہیم علیہ السلام فاران کے میدان یعنی مکہ کی چٹیل زمین میں چھوڑ کر چلے آئے تھے وہ وہیں بڑے ہوئے، اور ان کو شکار کا بہت شوق تھا، اور بڑے تیر انداز اور بہادر تھے، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عربوں کو بھی تیر اندازی کی اس طرح سے ترغیب دی کہ یہ تمہارا آبائی پیشہ ہے اس کو خوب بڑھاؤ۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن العباس القرشي، أبو العباسصحابي
👤←👥أبو العالية الرياحي، أبو العالية
Newأبو العالية الرياحي ← عبد الله بن العباس القرشي
ثقة
👤←👥زياد بن الحصين الحنظلي، أبو جهمة
Newزياد بن الحصين الحنظلي ← أبو العالية الرياحي
ثقة يرسل
👤←👥سليمان بن مهران الأعمش، أبو محمد
Newسليمان بن مهران الأعمش ← زياد بن الحصين الحنظلي
ثقة حافظ
👤←👥سفيان الثوري، أبو عبد الله
Newسفيان الثوري ← سليمان بن مهران الأعمش
ثقة حافظ فقيه إمام حجة وربما دلس
👤←👥عبد الرزاق بن همام الحميري، أبو بكر
Newعبد الرزاق بن همام الحميري ← سفيان الثوري
ثقة حافظ
👤←👥محمد بن يحيى الذهلي، أبو عبد الله
Newمحمد بن يحيى الذهلي ← عبد الرزاق بن همام الحميري
ثقة حافظ جليل
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن ابن ماجه
2815
رميا بني إسماعيل فإن أباكم كان راميا
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 2815 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث2815
اردو حاشہ:
  فوائد و مسائل:
(1)
تیر اندازی مستحسن مشغلہ ہے۔

(2)
جہاد میں کام آنے والے تمام کھیلوں کا یہی حکم ہے۔

(3)
بزرگوں کو چاہیے کہ اچھے کام کرنے والے نوجوانوں کو حوصلہ افزائی کریں۔

(4)
مہاجر اور انصار کے قبائل حضرت اسماعیل علیہ السلام کی نسل سے تھے اس لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں اس نام سے پکارا۔

(5)
مختلف قبائل اور شاخوں کے افراد کو مشترک نام سے پکارنے کا فائدہ یہ ہے کہ ان میں محبت، اتحاد واتفاق اور یکجہتی پیدا ہوتی ہے۔

(6)
دادا پردادا وغیرہ بزرگوں کو والد کے نام سے یاد کیا جا سکتا ہے۔

(7)
جو مسلمان نسلی طور پر حضرت اسماعیل علیہ السلام کی اولاد سے نہیں روحانی اور اعتقادی طور پر وہ بھی ان کی آل میں شامل ہیں اس لیے حضرت اسماعیل علیہ السلام ایسے مسلمانوں کے بھی باپ ہیں۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 2815]