🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن ٹیکسٹ کی صورت میں حاصل کریں۔ مزید تفصیل کے لیے رابطہ کریں۔
+92-331-5902482 New
سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
28. باب : الخديعة في الحرب
باب: جنگ میں دھوکہ اور فریب کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2833
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاق ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ رُومَانَ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" الْحَرْبُ خَدْعَةٌ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جنگ دھوکہ ہے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجهاد/حدیث: 2833]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 17361، ومصباح الزجاجة: 1004) (صحیح)» ‏‏‏‏ (سند میں محمد بن اسحاق مدلس ہیں، اور روایت عنعنہ سے کی ہے، لیکن شواہد کی بناء پر یہ حدیث صحیح، بلکہ متواتر ہے، نیز ملاحظہ ہو: صحیح أبی داود: 2370)
وضاحت: ۱؎: جنگ میں دھوکہ دھڑی جس طرح سے بھی ہو سکے مثلاً کافروں میں نااتفاقی ڈلوا دینا، ان کے سامنے سے بھاگنا تاکہ وہ پیچھا کریں پھر ان کو ہلاکت و بربادی کے مقام پر لے جانا، اسی طرح اور سب مکر و حیلہ درست اور جائز ہے، لیکن عہد کر کے اس کا توڑنا جائز نہیں (نووی)۔
قال الشيخ الألباني: صحيح متواتر
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
متواتر

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عائشة بنت أبي بكر الصديق، أم عبد اللهصحابي
👤←👥عروة بن الزبير الأسدي، أبو عبد الله
Newعروة بن الزبير الأسدي ← عائشة بنت أبي بكر الصديق
ثقة فقيه مشهور
👤←👥يزيد بن رومان الأسدي، أبو روح
Newيزيد بن رومان الأسدي ← عروة بن الزبير الأسدي
ثقة
👤←👥ابن إسحاق القرشي، أبو عبد الله، أبو بكر
Newابن إسحاق القرشي ← يزيد بن رومان الأسدي
صدوق مدلس
👤←👥يونس بن بكير الشيباني، أبو بكر، أبو بكير
Newيونس بن بكير الشيباني ← ابن إسحاق القرشي
صدوق حسن الحديث
👤←👥محمد بن نمير الهمداني، أبو عبد الرحمن
Newمحمد بن نمير الهمداني ← يونس بن بكير الشيباني
ثقة حافظ
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن ابن ماجه
2833
الحرب خدعة
المعجم الصغير للطبراني
555
الحرب خدعة
المعجم الصغير للطبراني
556
الحرب خدعة
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 2833 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث2833
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
جنگ کا بنیادی مقصد دشمن پر غلبہ حاصل کرنا ہوتا ہے اس لیے اس کی جنگی چالوں کو ناکام بنانا ضروری ہے۔

(2)
جنگ میں دھوکا دینے کا مطلب یہ ہے کہ ایسی نقل وحرکت کی جائے جس سے دشمن دھوکا کھا جائےاور مسلمانوں کی فوج کے اصل مقصد کو نہ سمجھ سکے لہٰذا بروقت مسلمانوں کی چال کا توڑ نہ کرسکے۔

(3)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عادت مبارکہ تھی کہ جب کسی طرف جنگی مہم روانہ کرنے کا ارادہ ہوتا تو کسی دوسری طرف کے علاقے کے بارے میں معلومات حاصل کرتے۔ (صحيح البخاري، المغازي، باب حديث كعب بن مالك، حديث: 4418)
مقصد یہ ہوتا تھا کہ بات اگر دشمن کے کسی جاسوس تک پہنچے تو وہ اس سے صحیح نتیجہ نہ نکال سکے اور اس طرح دشمن اندھیرے میں رہے۔

(4)
اس لفظ کو (خدعة)
بھی پڑھا گیا ہے یعنی جنگ دھوکا دینے والی چیز ہے۔
ہر فریق فتح کی امید رکھتے ہوئے لڑتا ہے لیکن ہر ایک کی امید پوری نہیں ہوتی۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 2833]

Sunan Ibn Majah Hadith 2833 in Urdu