علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
42. باب : من قال كان فسخ الحج لهم خاصة
باب: جو لوگ کہتے ہیں کہ حج کا فسخ یعنی اس کو عمرہ میں تبدیل کر دینے کا حکم صحابہ کے لیے خاص تھا ان کی دلیل۔
حدیث نمبر: 2985
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ:" كَانَتِ الْمُتْعَةُ فِي الْحَجِّ لِأَصْحَابِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، خَاصَّةً".
ابوذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ حج تمتع اصحاب محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے خاص تھا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 2985]
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”حج میں تمتع کرنا صرف حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ رضی اللہ عنہم کے لیے تھا۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 2985]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الحج 23 (1224)، موقوفاً، سنن النسائی/الحج 77 (2811، 2812، 2813)، (تحفة الأشراف: 11995) (صحیح)» (موقوف صحیح ہے، لیکن سابقہ حج کو فسخ کر کے عمرہ میں بدل (دینے والی احادیث کے خلاف ہے)
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح مسلم |
2967
| لا تصلح المتعتان إلا لنا خاصة يعني متعة النساء ومتعة الحج |
صحيح مسلم |
2966
| كانت لنا رخصة يعني المتعة في الحج |
صحيح مسلم |
2965
| المتعة في الحج لأصحاب محمد خاصة |
سنن ابن ماجه |
2985
| المتعة في الحج لأصحاب محمد خاصة |
مسندالحميدي |
132
| إنما كان فسخ الحج من رسول الله صلى الله عليه وسلم لنا خاصة |
مسندالحميدي |
135
| إنما كان فسخ الحج من رسول الله صلى الله عليه وسلم لنا خاصة |
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 2985 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث2985
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
یہ حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ کی رائے ہے جو درست نہیں کیونکہ حدیث: 2980 میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد بیان ہوچکا ہےکہ یہ حکم ہمیشہ کے لیے ہے۔
ممکن ہے حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ نے یہ فرمان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نہ سنا ہو، نہ کسی صحابی سے سنا ہو۔
یا اگر کسی صحابی سے سنا ہے تو ممکن ہے کہ کسی وجہ سے اس پر اطمینان نہ ہوا ہو۔
واللہ اعلم
فوائد و مسائل:
یہ حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ کی رائے ہے جو درست نہیں کیونکہ حدیث: 2980 میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد بیان ہوچکا ہےکہ یہ حکم ہمیشہ کے لیے ہے۔
ممکن ہے حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ نے یہ فرمان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نہ سنا ہو، نہ کسی صحابی سے سنا ہو۔
یا اگر کسی صحابی سے سنا ہے تو ممکن ہے کہ کسی وجہ سے اس پر اطمینان نہ ہوا ہو۔
واللہ اعلم
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 2985]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد ابراهيم بن بشير حفظ الله، فوائد و مسائل، مسند الحميدي، تحت الحديث:132
132- سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے حج کو فسخ (حج تمتع) کرنے کا حکم ہمارے لیے مخصوص تھا۔ [مسند الحمیدی/حدیث نمبر:132]
فائدہ:
اس حدیث میں جو حج کو عمرہ میں تبدیل کیا گیا تھا، اس کا ذکر ہے، اس کی وجوہات میں سے ایک وجہ یہ بھی ہے کہ چونکہ حج کے مہینوں میں عمرے کو مکروہ خیال کیا جا تا تھا، اس غلط نظریے کی تردید کی غرض سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس طرح کیا تھا۔ تفصیل کے لیے ملاحظہ فرمائیں (عون المعبود: 209/10)
اس حدیث میں جو حج کو عمرہ میں تبدیل کیا گیا تھا، اس کا ذکر ہے، اس کی وجوہات میں سے ایک وجہ یہ بھی ہے کہ چونکہ حج کے مہینوں میں عمرے کو مکروہ خیال کیا جا تا تھا، اس غلط نظریے کی تردید کی غرض سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس طرح کیا تھا۔ تفصیل کے لیے ملاحظہ فرمائیں (عون المعبود: 209/10)
[مسند الحمیدی شرح از محمد ابراهيم بن بشير، حدیث/صفحہ نمبر: 132]
الشيخ محمد ابراهيم بن بشير حفظ الله، فوائد و مسائل، مسند الحميدي، تحت الحديث:135
135- سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے حج کو فسخ (حج تمتع) کرنے کا حکم ہمارے لیے مخصوص تھا۔ [مسند الحمیدی/حدیث نمبر:135]
فائدہ:
اس حدیث پر فوائد، ح: 132 میں گزر چکے ہیں۔
اس حدیث پر فوائد، ح: 132 میں گزر چکے ہیں۔
[مسند الحمیدی شرح از محمد ابراهيم بن بشير، حدیث/صفحہ نمبر: 135]
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 2967
حضرت ابوذر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں، دو متعے ہمارے لیے ہی جائز تھے، یعنی، حج تمتع اور عورتوں سے متعہ۔ [صحيح مسلم، حديث نمبر:2967]
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
حضرت ابو ذر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے نزدیک حج کو فسخ کر کے عمرہ کرنا اور پھر حج کرنا،
یعنی متع فسخ الحج حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی طرح اس سال کے ساتھ خاص تھا اب جائز نہیں ہے،
اسی طرح عورتوں سے متع کی اجازت عہد نبوی میں تھی آخر کار اس کی اجازت منسوخ ہو گئی تھی،
آج کل جو انسان قربانی ساتھ لے کر نہ جائے اسے میقات سے صرف عمرہ احرام باندھنا چاہیے اور حج تمتع کی نیت کرنی چاہیے تاکہ اس اختلاف سے نکل سکے۔
فوائد ومسائل:
حضرت ابو ذر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے نزدیک حج کو فسخ کر کے عمرہ کرنا اور پھر حج کرنا،
یعنی متع فسخ الحج حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی طرح اس سال کے ساتھ خاص تھا اب جائز نہیں ہے،
اسی طرح عورتوں سے متع کی اجازت عہد نبوی میں تھی آخر کار اس کی اجازت منسوخ ہو گئی تھی،
آج کل جو انسان قربانی ساتھ لے کر نہ جائے اسے میقات سے صرف عمرہ احرام باندھنا چاہیے اور حج تمتع کی نیت کرنی چاہیے تاکہ اس اختلاف سے نکل سکے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 2967]
Sunan Ibn Majah Hadith 2985 in Urdu
يزيد بن شريك التيمي ← أبو ذر الغفاري