یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
51. باب : الخروج إلى منى
باب: (آٹھویں ذی الحجہ کو) منیٰ جانے کا بیان۔
حدیث نمبر: 3005
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ " أَنَّهُ كَانَ يُصَلِّي الصَّلَوَاتِ الْخَمْسَ بِمِنًى، ثُمَّ يُخْبِرُهُمْ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَفْعَلُ ذَلِكَ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ وہ پانچ وقت کی نماز منیٰ میں پڑھتے تھے، پھر انہیں بتاتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایسا ہی کرتے تھے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 3005]
حضرت نافع رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ منیٰ میں پانچ نمازیں پڑھتے تھے، پھر لوگوں کو بتاتے کہ ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی اسی طرح کرتے تھے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 3005]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 7737، ومصباح الزجاجة: 1051)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الحج 64 (195) (حسن)» (سند میں عبداللہ بن عمر ضعیف راوی ہیں، لیکن سابقہ ابن عباس رضی اللہ عنہما کی حدیث سے تقویت پاکر یہ حسن ہے)
وضاحت: ۱؎: آٹھویں ذی الحجہ کی ظہر، عصر مغرب اور عشاء اور نویں ذی الحجہ کی فجر۔
قال الشيخ الألباني: حسن لغيره
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
ولحديثه شواهد عند مسلم (۱۲۱۸) وغيره
ولحديثه شواهد عند مسلم (۱۲۱۸) وغيره
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن ابن ماجه |
3005
| يصلي الصلوات الخمس بمنى |
Sunan Ibn Majah Hadith 3005 in Urdu
نافع مولى ابن عمر ← عبد الله بن عمر العدوي