🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

51. بَابُ: الْخُرُوجِ إِلَى مِنًى
باب: (آٹھویں ذی الحجہ کو) منیٰ جانے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3004
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنْ إِسْمَاعِيل ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى بِمِنًى يَوْمَ التَّرْوِيَةِ، الظُّهْرَ وَالْعَصْرَ وَالْمَغْرِبَ وَالْعِشَاءَ وَالْفَجْرَ، ثُمَّ غَدَا إِلَى عَرَفَةَ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یوم الترویہ (آٹھویں ذی الحجہ) کو منیٰ میں ظہر، عصر، مغرب، عشاء اور فجر کی نمازیں پڑھیں، پھر نویں (ذی الحجہ) کی صبح کو عرفات تشریف لے گئے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 3004]
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ترویہ کے دن (8 ذوالحجہ کو) ظہر، عصر، مغرب، عشاء اور فجر (9 ذوالحجہ کو) منیٰ میں ادا کیں پھر عرفہ کی طرف روانہ ہوئے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 3004]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/الحج 50 (879)، (تحفة الأشراف: 5881) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3005
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ " أَنَّهُ كَانَ يُصَلِّي الصَّلَوَاتِ الْخَمْسَ بِمِنًى، ثُمَّ يُخْبِرُهُمْ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَفْعَلُ ذَلِكَ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ وہ پانچ وقت کی نماز منیٰ میں پڑھتے تھے، پھر انہیں بتاتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایسا ہی کرتے تھے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 3005]
حضرت نافع رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ منیٰ میں پانچ نمازیں پڑھتے تھے، پھر لوگوں کو بتاتے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی اسی طرح کرتے تھے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 3005]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 7737، ومصباح الزجاجة: 1051)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الحج 64 (195) (حسن)» ‏‏‏‏ (سند میں عبداللہ بن عمر ضعیف راوی ہیں، لیکن سابقہ ابن عباس رضی اللہ عنہما کی حدیث سے تقویت پاکر یہ حسن ہے)
وضاحت: ۱؎: آٹھویں ذی الحجہ کی ظہر، عصر مغرب اور عشاء اور نویں ذی الحجہ کی فجر۔
قال الشيخ الألباني: حسن لغيره
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
ولحديثه شواهد عند مسلم (۱۲۱۸) وغيره

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں