🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
96. باب : إشعار البدن
باب: اونٹوں کے اشعار کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3097
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ هِشَامٍ الدَّسْتُوَائِيِّ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِي حَسَّانَ الْأَعْرَجِ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ " أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَشْعَرَ الْهَدْيَ فِي السَّنَامِ الْأَيْمَنِ، وَأَمَاطَ عَنْهُ الدَّمَ"، وَقَالَ عَلِيٌّ فِي حَدِيثِهِ: بِذِي الْحُلَيْفَةِ، وَقَلَّدَ نَعْلَيْنِ.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہدی کے اونٹ کے داہنے کوہان میں اشعار کیا، اور اس سے خون صاف کیا، علی بن محمد نے اپنی روایت میں کہا کہ اشعار ذو الحلیفہ میں کیا، اور دو جوتیاں اس کے گلے میں لٹکائیں۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 3097]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الحج 32 (1243)، سنن ابی داود/الحج 15 (1752)، سنن الترمذی/الحج 67 (906)، سنن النسائی/الحج 64 (2772)، 67 (2781)، 70 (2793)، (تحفة الأشراف: 6459)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الحج 23 (1549)، مسند احمد (1/216، 254، 280، 339، 344، 347، 372)، سنن الدارمی/المناسک 68 (1953) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ہدی کے اونٹ کے داہنے کوہان کو چیر کر اس سے خون نکالنے اور اسے آس پاس مل دینے کا نام اشعار ہے، یہ بھی ہدی کے جانور کی علامت اور پہچان ہے۔ اشعار مسنون ہے اس کا انکار صرف امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ نے کیا ہے وہ کہتے ہیں: یہ مثلہ ہے جو جائز نہیں لیکن صحیح یہ ہے کہ مثلہ ناک، کان وغیرہ کاٹنے کو کہتے ہیں، اشعار فصد یا حجامت کی طرح ہے جو صحیح حدیث سے ثابت ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن العباس القرشي، أبو العباسصحابي
👤←👥مسلم بن عبد الله البصري، أبو حسان
Newمسلم بن عبد الله البصري ← عبد الله بن العباس القرشي
ثقة
👤←👥قتادة بن دعامة السدوسي، أبو الخطاب
Newقتادة بن دعامة السدوسي ← مسلم بن عبد الله البصري
ثقة ثبت مشهور بالتدليس
👤←👥هشام بن أبي عبد الله الدستوائي، أبو بكر
Newهشام بن أبي عبد الله الدستوائي ← قتادة بن دعامة السدوسي
ثقة ثبت وقد رمي بالقدر
👤←👥وكيع بن الجراح الرؤاسي، أبو سفيان
Newوكيع بن الجراح الرؤاسي ← هشام بن أبي عبد الله الدستوائي
ثقة حافظ إمام
👤←👥علي بن محمد الكوفي، أبو الحسن
Newعلي بن محمد الكوفي ← وكيع بن الجراح الرؤاسي
ثقة
👤←👥ابن أبي شيبة العبسي، أبو بكر
Newابن أبي شيبة العبسي ← علي بن محمد الكوفي
ثقة حافظ صاحب تصانيف
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
1545
انطلق النبي من المدينة بعد ما ترجل وادهن ولبس إزاره ورداءه هو وأصحابه لم ينه عن شيء من الأردية والأزر تلبس إلا المزعفرة التي تردع على الجلد أصبح بذي الحليفة ركب راحلته حتى استوى على البيداء أهل هو وأصحابه وقلد بدنته وذلك لخمس بقين من
صحيح مسلم
3016
صلى رسول الله الظهر بذي الحليفة دعا بناقته فأشعرها في صفحة سنامها الأيمن وسلت الدم وقلدها نعلين ركب راحلته لما استوت به على البيداء أهل بالحج
جامع الترمذي
906
قلد نعلين وأشعر الهدي في الشق الأيمن بذي الحليفة وأماط عنه الدم
سنن أبي داود
1770
صلى في مسجده بذي الحليفة ركعتيه أوجب في مجلسه فأهل بالحج حين فرغ من ركعتيه فسمع ذلك منه أقوام فحفظته عنه ركب فلما استقلت به ناقته أهل وأدرك ذلك منه أقوام وذلك أن الناس إنما كانوا يأتون أرسالا فسمعوه حين استقلت به ناقته يهل فقالوا إنما أهل رسول الله حين اس
سنن أبي داود
1752
صلى الظهر بذي الحليفة ثم دعا ببدنة فأشعرها من صفحة سنامها الأيمن ثم سلت عنها الدم وقلدها بنعلين أتي براحلته فلما قعد عليها واستوت به على البيداء أهل بالحج
سنن ابن ماجه
3097
أشعر الهدي في السنام الأيمن وأماط عنه الدم
سنن النسائى الصغرى
2775
أشعر بدنه من الجانب الأيمن وسلت الدم عنها وأشعرها
سنن النسائى الصغرى
2776
أشعر في سنامها من الشق الأيمن ثم سلت عنها وقلدها نعلين لما استوت به على البيداء أهل
سنن النسائى الصغرى
2784
أشعر الهدي في جانب السنام الأيمن ثم أماط عنه الدم وقلده نعلين ركب ناقته فلما استوت به البيداء لبى أحرم عند الظهر وأهل بالحج
سنن النسائى الصغرى
2793
أشعر الهدي من جانب السنام الأيمن ثم أماط عنه الدم ثم قلده نعلين ركب ناقته فلما استوت به البيداء أحرم بالحج أحرم عند الظهر وأهل بالحج
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 3097 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث3097
اردو حاشہ:
فوئاد و مسائل:
اشعار کا مطلب یہ ہے کہ اونٹ کی کوہان پر ایک طرف اتنا زخم کیا جائےکہ خون بہہ پڑے۔
یہ اس بات کی علامت ہوتی ہے کہ یہ ہدی کا جانور ہے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3097]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 1752
اشعار کا بیان۔
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ذی الحلیفہ میں ظہر پڑھی پھر آپ نے ہدی کا اونٹ منگایا اور اس کے کوہان کے داہنی جانب اشعار ۱؎ کیا، پھر اس سے خون صاف کیا اور اس کی گردن میں دو جوتیاں پہنا دیں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سواری لائی گئی جب آپ اس پر بیٹھ گئے اور وہ مقام بیداء میں آپ کو لے کر سیدھی کھڑی ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حج کا تلبیہ پڑھا۔ [سنن ابي داود/كتاب المناسك /حدیث: 1752]
1752. اردو حاشیہ:
➊ حرم کی طرف بھیجے جانے والے اونٹوں کے کوہانوں کی دائیں طرف معمولی سا چیر لگا کر اس کا خون اس پر چیڑ دنیا «اشعار» ‏‏‏‏ کہلاتا ہے۔اور یہ علامت ہوتی ہے کہ یہ جانور اللہ کے لیے ھدی ہے اور حرم کی طرف بھیجا جا رہا ہے۔یہ عمل سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہےمگر بکریوں کو «اشعار» ‏‏‏‏ نہیں کیا جاتا۔کچھ علماء گایوں میں بھی اشعار کے قائل ہیں۔ اس کے ساتھ قربانی کے جانوروں کے گلوں میں جوتوں کے ہار ڈالنا بھی مسنون عمل ہےاور اسے تقلید کہتے ہیں۔یہ اعمال قدیم زمانے سے چلے آرہے تھے جنہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بحال رکھا۔
➋ بیداء ذوالحلیفہ کا وہ میدان ہے جو جانب جنوب میں تھا جس سے ہوکر مکہ کی راہ پر جاتے تھے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 1752]

الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 1770
احرام کے وقت کا بیان۔
سعید بن جبیر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے کہا: ابوالعباس! مجھے تعجب ہے کہ کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے احرام باندھنے کے سلسلے میں اختلاف رکھتے ہیں کہ آپ نے احرام کب باندھا؟ تو انہوں نے کہا: اس بات کو لوگوں میں سب سے زیادہ میں جانتا ہوں، چونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ہی حج کیا تھا اسی وجہ سے لوگوں نے اختلاف کیا ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حج کی نیت کر کے مدینہ سے نکلے، جب ذی الحلیفہ کی اپنی مسجد میں آپ نے اپنی دو رکعتیں ادا کیں تو اسی مجلس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے احرام باندھا اور دو رکعتوں سے فارغ ہونے کے بعد حج کا تلبیہ پڑھا، لوگوں نے اس کو سنا اور میں نے اس کو یاد رکھا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سوار ہوئے جب آپ کی اونٹنی آپ کو لے کر سیدھی کھڑی ہو گئی تو آپ نے تلبیہ پڑھا، بعض لوگوں نے اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو تلبیہ پڑھتے ہوئے پایا، اور یہ اس وجہ سے کہ لوگ الگ الگ ٹکڑیوں میں آپ کے پاس آتے تھے، تو جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنی آپ کو لے کر اٹھی تو انہوں نے آپ کو تلبیہ پکارتے ہوئے سنا تو کہا: آپ نے تلبیہ اس وقت کہا ہے جب آپ کی اونٹنی آپ کو لے کر کھڑی ہوئی پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم چلے، جب مقام بیداء کی اونچائی پر چڑھے تو تلبیہ کہا تو بعض لوگوں نے اس وقت اسے سنا تو انہوں نے کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی وقت تلبیہ کہا ہے جب آپ بیداء کی اونچائی پر چڑھے حالانکہ اللہ کی قسم آپ نے وہیں تلبیہ کہا تھا جہاں آپ نے نماز پڑھی تھی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وقت تلبیہ کہا جب اونٹنی آپ کو لے کر سیدھی ہوئی اور پھر آپ نے بیداء کی اونچائی چڑھتے وقت تلبیہ کہا۔ سعید کہتے ہیں: جس نے ابن عباس رضی اللہ عنہما کی بات کو لیا تو اس نے اس جگہ پر جہاں اس نے نماز پڑھی اپنی دونوں رکعتوں سے فارغ ہونے کے بعد تلبیہ کہا۔ [سنن ابي داود/كتاب المناسك /حدیث: 1770]
1770. اردو حاشیہ: «اھل» ‏‏‏‏ کے معنی ہیں (اپنی آواز بلند کی) «لبیک اللهم لبیک» ‏‏‏‏ بآواز بلند پکارا_اوراحرام کےمعنی میں بھی استعمال ہوتا ہے۔خیال رہے یہ حدیث ضعیف ہے۔ شیخ البانی ﷫نے بھی اسے الضعیفہ میں درج کیاہے۔ لیکن علامہ احمد شاکرنےاس حدیث کوصحیح قراردیا ہے_
➋ اس روایت مین ذوالحلیفہ میں جو دورکعتیں پڑھنے کا ذکر ہے جس کے بعد آپ نے حج کے لیے تلبیہ پکارا اس سے مراد نماز ظہر کی دو رکعت (نماز قصر) ہے جیسا کہ صحیح مسلم (حدیث:1243،)اور سنن نسائی (حدیث:2756)میں صراحت ہے۔اس لیے اس کے آخر میں حضرت سعید بن جبیر کے قول سے احرام کے وقت دو رکعت پڑھنے کا اثبات مترشح ہو رہا ہے وہ صحیح نہیں۔ کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا کوئی واضح ثبوت نہیں۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 1770]

فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث2776
قربانی کے اونٹوں سے اشعار کے بعد خون صاف کرنے کا بیان۔
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب ذوالحلیفہ میں تھے تو آپ نے اپنے (قربانی کے) اونٹ کے متعلق حکم دیا تو اس کے کوہان کے دائیں جانب اشعار کیا گیا پھر آپ نے اس کا خون صاف کیا اور اس کے گلے میں دو جوتیاں لٹکائیں تو جب بیداء میں آپ کو لے کر وہ پورے طور پر کھڑی ہو گئی تو آپ نے لبیک پکارا۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2776]
اردو حاشہ:
(1) خون پونچھنے کا مطلب یہ ہے کہ زخم سے نکلنے والا خون ہاتھ وغیرہ سے کوہان کی اشعار والی جانب پھیلا دیا جائے تاکہ دور سے نظر آئے۔ یہ مطلب نہیں کہ خون اس طرح صاف کیا جائے کہ نشان نہ رہے۔ اس طرح تو اشعار کا اصل مقصد فوت ہو جائے گا۔
(2) اپنی اونٹنی معلوم ہوا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سب اونٹوں کو اشعار نہیں کیا، بعض کو کیا۔
(3) بیداء پر چڑھی بیداء ذوالحلیفہ سے بلندی پر تھا۔ اسے ٹیلہ یا پہاڑ بھی کہا گیا ہے۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 2776]

فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث2784
ہدی کو قلادۃ پہنانے کا بیان۔
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب ذوالحلیفہ آئے تو آپ نے ہدی کے دائیں کوہان کی جانب اشعار کیا پھر اس سے خون صاف کیا، اور اس کے گلے میں دو جوتیاں لٹکائیں، پھر آپ اپنی اونٹنی پر سوار ہوئے، اور جب وہ آپ کو کو لے کر سیدھی کھڑی ہو گئی تو آپ نے تلبیہ پکارا اور ظہر کے وقت احرام باندھا، اور حج کا تلبیہ پکارا۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2784]
اردو حاشہ:
تفصیل کے لیے دیکھیے، حدیث: 2758۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 2784]

فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث2793
ہدی کے گلے میں دو جوتیاں لٹکانے کا بیان۔
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب ذوالحلیفہ پہنچے تو ہدی کے داہنی کوہان کی جانب اشعار کیا، پھر اس کا خون صاف کیا، پھر اس کے گلے میں دو جوتے ڈالے، پھر اپنی اونٹنی پر سوار ہوئے تو جب وہ بیداء میں آپ لے کر پورے طور پر کھڑی ہو گئی تو آپ نے حج کا احرام باندھا اور ظہر کے وقت احرام باندھا، اور حج کا تلبیہ پکارا۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2793]
اردو حاشہ:
قلادے میں جوتوں کے علاوہ درخت کا چھلکا وغیرہ بھی ڈالا جا سکتا ہے۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 2793]

الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 906
اونٹوں کے اشعار کا بیان۔
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ذو الحلیفہ میں (ہدی کے جانور کو) دو جوتیوں کے ہار پہنائے اور ان کی کوہان کے دائیں طرف اشعار ۱؎ کیا اور اس سے خون صاف کیا۔ [سنن ترمذي/كتاب الحج/حدیث: 906]
اردو حاشہ:
1؎:
ہدی کے اونٹ کی کوہان پر داہنے جانب چیر کر خون نکالنے اور اس کے آس پاس مل دینے کا نام اشعار ہے،
یہ ہدی کے جانوروں کی علامت اور پہچان ہے۔
2 ؎:
وکیع کے اس قول سے ان لوگوں کو عبرت حاصل کرنی چاہئے جو آئمہ کے اقوال کو حدیث رسول کے مخالف پا کر بھی انہیں اقوال سے حجت پکڑتے ہیں اور حدیث رسول کو پس پشت ڈال دیتے ہیں۔
اس حدیث میں اندھی تقلید کا زبردست رد ہے۔
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 906]

الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 3016
حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر کی نماز ذوالحلیفہ میں پڑھی، پھر اپنی اونٹنی کو منگوایا اور اس کی کوہان کے دائیں طرف زخم لگایا اور خون کو صاف کر دیا، اور اس کے گلے میں دو جوتیوں کا ہار ڈال دیا، پھر اپنی اونٹنی (سواری) پر سوار ہوئے، جب آپ صلی الله عليہ وسلم کی سواری بیداء پر سیدھی کھڑی ہوئی، تو آپ صلی الله عليہ وسلم نے حج کا تلبیہ کہا۔ [صحيح مسلم، حديث نمبر:3016]
حدیث حاشیہ:
مفردات الحدیث:
(1)
اَشْعَرَهَا:
اشعار سے ماخوذ ہے،
جس کا معنی ہے،
علامت ونشانی،
آگاہی واعلام،
اور یہاں مقصد ہے،
قربانی کے کوہان کے پاس علامت اور نشان کے طور پر،
زخم لگانا،
تا کہ لوگوں کو اس کے ہدی ہونے کا پتہ چل سکے۔
(2)
قَلَّدَهَا نَعْلَيْن:
گلے میں دو جوتیوں کا ہار ڈالنا۔
فوائد ومسائل:
اونٹ کے کوہان کی دائیں طرف چھری یا کسی اور دھار والا آلہ سے خون بہانا،
امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کے سوا تمام ائمہ کے نزدیک مستحب ہے۔
لیکن امام مالک رحمۃ اللہ علیہ اونٹ کی کوہان کے بائیں جانب اشعار کرنے کے قائل ہیں،
متاخرین احناف نے امام صاحب کے قول (کہ اشعار بدعت ہے،
اشعار مثلہ ہے)
کی تاویل کی ہے،
کہ ان کا قول ان لوگوں کے اشعار کے بارے میں ہے،
جو انتہائی گہرا زخم لگاتے تھے،
جس کی وجہ سے اونٹ کی ہلاکت کا خدشہ ہوتا تھا،
وگرنہ امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ اشعارکو کیسے مکروہ کہہ سکتے ہیں،
جبکہ بکثرت احادیث سے اشعار ثابت ہے،
(شرح صحیح مسلم ج3 ص 472 سعیدی فتح الملھم ج3 ص310)
اس طرح ہدی کی گردن میں (خواہ بکری ہو)
جوتیوں کا ہار ڈالا جائےگا،
امام مالک رحمۃ اللہ علیہ بکری کے گلے میں ہارڈالنے کے قائل نہیں ہیں۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 3016]

مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 1545
1545. حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے، انھوں نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین کنگھی کرنے، تیل لگانے، تہبند پہننے اور چادر اوڑھنے کے بعد مدینہ منورہ سے روانہ ہوئے۔ اور آپ نے کسی قسم کی چادر اور تہبند پہننے سے منع نہیں فرمایا، البتہ زعفران سے رنگ ہوئے کپڑے جن سے بدن پر زعفران لگے ان سے منع فرمایا۔ الغرض صبح کے وقت آپ ذوالحلیفہ سے اپنی اونٹنی پر سوار ہوئے اور جب مقام بیداء پر پہنچے تو آپ نے اور آپ کے صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین نے لبیک کہااور آپ نے اپنی قربانیوں کے گلے میں قلادے ڈال دیے۔ اور یہ پچیس ذوالعقیدہ کاواقعہ ہے۔ پھر آپ چار ذوالحجہ کو مکہ مکرمہ پہنچے تو کعبہ کا طواف کیا اور صفا مروہ کے درمیان سعی فرمائی۔ چونکہ آپ قربانی کے اونٹ ساتھ لائے تھے اور انھیں قلادہ پہناچکے تھے۔ ا س لیے احرام نہ کھول سکے۔ پھر آپ مکہ کی بلندی پر مقام حجون کےپاس فروکش ہوئے۔ آپ حج کاحرام باندھے ہوئے تھے۔ اس بنا پر۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [صحيح بخاري، حديث نمبر:1545]
حدیث حاشیہ:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہفتہ کے دن مدینہ منورہ سے بتاریخ 25 ذی قعدہ کو نکلے تھے۔
اگر مہینہ تیس دن کا ہوتا تو پانچ دن باقی رہے تھے۔
لیکن اتفاق سے مہینہ 29 دن کا ہوگیا اور ذی الحجہ کی پہلی تاریخ پنج شنبہ کو واقع ہوئی۔
کیونکہ دوسری روایتوں سے ثابت ہے کہ آپ عرفات میں جمعہ کے دن ٹھہرے تھے۔
ابن حزم نے جو کہا کہ آپ جمعرات کے دن مدینہ سے نکلے تھے یہ ذہن میں نہیں آتا۔
البتہ ممکن ہے کہ آپ جمعہ کو مدینہ سے نکلے ہوں۔
مگر صحیحین کی روایتوں میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس دن ظہر کی نماز مدینہ میں چار رکعتیں پڑھیں اور عصر کی ذوالحلیفہ میں دو رکعتیں۔
ان روایتوں سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ وہ جمعہ کا دن نہ تھا۔
حجون پہاڑ محصب کے قریب مسجد عقبہ کے برابر ہے۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 1545]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:1545
1545. حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے، انھوں نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین کنگھی کرنے، تیل لگانے، تہبند پہننے اور چادر اوڑھنے کے بعد مدینہ منورہ سے روانہ ہوئے۔ اور آپ نے کسی قسم کی چادر اور تہبند پہننے سے منع نہیں فرمایا، البتہ زعفران سے رنگ ہوئے کپڑے جن سے بدن پر زعفران لگے ان سے منع فرمایا۔ الغرض صبح کے وقت آپ ذوالحلیفہ سے اپنی اونٹنی پر سوار ہوئے اور جب مقام بیداء پر پہنچے تو آپ نے اور آپ کے صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین نے لبیک کہااور آپ نے اپنی قربانیوں کے گلے میں قلادے ڈال دیے۔ اور یہ پچیس ذوالعقیدہ کاواقعہ ہے۔ پھر آپ چار ذوالحجہ کو مکہ مکرمہ پہنچے تو کعبہ کا طواف کیا اور صفا مروہ کے درمیان سعی فرمائی۔ چونکہ آپ قربانی کے اونٹ ساتھ لائے تھے اور انھیں قلادہ پہناچکے تھے۔ ا س لیے احرام نہ کھول سکے۔ پھر آپ مکہ کی بلندی پر مقام حجون کےپاس فروکش ہوئے۔ آپ حج کاحرام باندھے ہوئے تھے۔ اس بنا پر۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [صحيح بخاري، حديث نمبر:1545]
حدیث حاشیہ:
امام بخاری ؒ نے اپنا عنوان حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کے درج ذیل ارشاد سے ثابت کیا ہے:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی قسم کی چادر اور تہبند سے منع نہیں فرمایا، البتہ زعفران سے رنگے ہوئے کپڑے جن سے بدن پر زعفران لگے ان سے منع فرمایا۔
یعنی احرام میں ورس اور زعفران سے رنگی چادریں استعمال کرنا ممنوع ہیں۔
اس کے علاوہ انسانی قد وقامت کے مطابق سلے ہوئے کپڑے بھی جائز نہیں ہیں، البتہ عورتوں پر سلے ہوئے کپڑے استعمال کرنے پر پابندی نہیں۔
اس حدیث سے امام بخاری ؒ نے متعدد مسائل اخذ کیے ہیں، جنہیں آئندہ جستہ جستہ ذکر کیا جائے گا۔
إن شاءاللہ
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 1545]