سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
103. . باب : فضل مكة
باب: مکہ کی فضیلت کا بیان۔
حدیث نمبر: 3108
حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ حَمَّادٍ الْمِصْرِيُّ ، أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، أَخْبَرَنِي عُقَيْلٌ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مُسْلِمٍ ، أَنَّهُ قَالَ: إِنَّ أَبَا سَلَمَةَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ، أَخْبَرَهُ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَدِيِّ بْنِ الْحَمْرَاءِ ، قَالَ لَهُ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ عَلَى نَاقَتِهِ وَاقِفٌ بِالْحَزْوَرَةِ، يَقُولُ:" وَاللَّهِ إِنَّكِ لَخَيْرُ أَرْضِ اللَّهِ، وَأَحَبُّ أَرْضِ اللَّهِ إِلَيَّ، وَاللَّهِ لَوْلَا أَنِّي أُخْرِجْتُ مِنْكِ مَا خَرَجْتُ".
عبداللہ بن عدی بن حمراء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ اپنی اونٹنی پر حزورہ (مکہ میں ایک مقام) میں کھڑے فرما رہے تھے: ”قسم اللہ کی! بلاشبہ تو اللہ کی ساری زمین سے بہتر ہے، اور اللہ کی زمین میں مجھے سب سے زیادہ پسند ہے، قسم اللہ کی! اگر میں تجھ سے نکالا نہ جاتا تو میں نہ نکلتا“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 3108]
حضرت عبداللہ بن عدی بن حمراء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ اپنی اونٹنی پر حزورہ کے مقام پر کھڑے تھے اور فرما رہے تھے: ” «وَاللّٰهِ إِنَّكِ لَخَيْرُ أَرْضِ اللّٰهِ، وَأَحَبُّ أَرْضِ اللّٰهِ إِلَيَّ، وَلَوْلَا أَنِّي أُخْرِجْتُ مِنْكِ مَا خَرَجْتُ» ”قسم ہے اللہ کی! تو اللہ کی زمین میں سب سے بہترین (اور افضل مقام) ہے اور اللہ کی (ساری) زمین میں سے تو مجھے سب سے زیادہ محبوب ہے۔ قسم ہے اللہ کی! اگر مجھے تیرے اندر سے نکالا نہ جاتا تو میں (کبھی) نہ نکلتا۔“” [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 3108]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/المناقب 69 (3925)، (تحفة الأشراف: 6641)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/305)، سنن الدارمی/السیر 67 (2552) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥عبد الله بن عدي الثقفي، أبو عمرو، أبو عمر | صحابي | |
👤←👥أبو سلمة بن عبد الرحمن الزهري، أبو سلمة أبو سلمة بن عبد الرحمن الزهري ← عبد الله بن عدي الثقفي | ثقة إمام مكثر | |
👤←👥محمد بن شهاب الزهري، أبو بكر محمد بن شهاب الزهري ← أبو سلمة بن عبد الرحمن الزهري | الفقيه الحافظ متفق على جلالته وإتقانه | |
👤←👥عقيل بن خالد الأيلي، أبو خالد عقيل بن خالد الأيلي ← محمد بن شهاب الزهري | ثقة ثبت | |
👤←👥الليث بن سعد الفهمي، أبو الحارث الليث بن سعد الفهمي ← عقيل بن خالد الأيلي | ثقة ثبت فقيه إمام مشهور | |
👤←👥عيسى بن حماد التجيبي، أبو موسى عيسى بن حماد التجيبي ← الليث بن سعد الفهمي | ثقة |
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن ابن ماجه |
3108
| إنك لخير أرض الله وأحب أرض الله إلي والله لولا أني أخرجت منك ما خرجت |
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 3108 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث3108
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
مکہ مکرمہ دنیا میں سب سے افضل شہر ہے۔
(2)
مکہ مکرمہ مدینہ منورہ سے بھی افضل ہے کیونکہ وہاں بیت اللہ شریف واقع ہے۔
جو مسجد نبوی سے افضل مقام ہے۔
(3)
مقدس مقامات سے محبت رکھنی چاہیے۔
(4)
تاکید کے طور پر اللہ کی قسم کھانا جائز ہے۔
اگرچہ مخاطب کو کلام کی صحت میں شک نہ ہو۔
تاہم ہر بات میں بلاضرورت قسم کھانا مکروہ ہے۔
فوائد و مسائل:
(1)
مکہ مکرمہ دنیا میں سب سے افضل شہر ہے۔
(2)
مکہ مکرمہ مدینہ منورہ سے بھی افضل ہے کیونکہ وہاں بیت اللہ شریف واقع ہے۔
جو مسجد نبوی سے افضل مقام ہے۔
(3)
مقدس مقامات سے محبت رکھنی چاہیے۔
(4)
تاکید کے طور پر اللہ کی قسم کھانا جائز ہے۔
اگرچہ مخاطب کو کلام کی صحت میں شک نہ ہو۔
تاہم ہر بات میں بلاضرورت قسم کھانا مکروہ ہے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3108]
Sunan Ibn Majah Hadith 3108 in Urdu
أبو سلمة بن عبد الرحمن الزهري ← عبد الله بن عدي الثقفي