🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
103. . باب : فضل مكة
باب: مکہ کی فضیلت کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3109
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاق ، حَدَّثَنَا أَبَانُ بْنُ صَالِحٍ ، عَنْ الْحَسَنِ بْنِ مُسْلِمِ بْنِ يَنَّاقٍ ، عَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ شَيْبَةَ ، قَالَتْ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ عَامَ الْفَتْحِ، فَقَالَ:" يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّ اللَّهَ حَرَّمَ مَكَّةَ يَوْمَ خَلَقَ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضَ، فَهِيَ حَرَامٌ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ، لَا يُعْضَدُ شَجَرُهَا وَلَا يُنَفَّرُ صَيْدُهَا وَلَا يَأْخُذُ لُقْطَتَهَا إِلَّا مُنْشِدٌ"، فَقَالَ الْعَبَّاسُ: إِلَّا الْإِذْخِرَ، فَإِنَّهُ لِلْبُيُوتِ وَالْقُبُورِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِلَّا الْإِذْخِرَ".
صفیہ بنت شیبہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فتح مکہ کے سال خطبہ دیتے ہوئے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لوگو! اللہ نے مکہ کو اسی دن حرام قرار دے دیا جس دن اس نے آسمان و زمین کو پیدا کیا، اور وہ قیامت تک حرام رہے گا، نہ وہاں کا درخت کاٹا جائے گا، نہ وہاں کا شکار بدکایا جائے گا، اور نہ وہاں کی گری پڑی چیز اٹھائی جائے گی، البتہ اعلان کرنے والا اٹھا سکتا ہے، اس پر عباس رضی اللہ عنہ نے کہا: اذخر (نامی گھاس) کا اکھیڑنا جائز فرما دیجئیے کیونکہ وہ گھروں اور قبروں کے کام آتی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اچھا اذخر اکھاڑنا جائز ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 3109]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 15908، ومصباح الزجاجة: 1076)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الجنائز 76 (1349 تعلیقاً) (حسن)» ‏‏‏‏ (ابان بن صالح ضعیف ہیں، لیکن شاہد کی تقویت سے یہ حسن ہے، ملاحظہ ہو: الإرواء: 4 /249)
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥صفية بنت شيبة القرشيةلها رؤية
👤←👥الحسن بن مسلم الخزاعي
Newالحسن بن مسلم الخزاعي ← صفية بنت شيبة القرشية
ثقة
👤←👥أبان بن صالح القرشي، أبو بكر
Newأبان بن صالح القرشي ← الحسن بن مسلم الخزاعي
ثقة
👤←👥ابن إسحاق القرشي، أبو عبد الله، أبو بكر
Newابن إسحاق القرشي ← أبان بن صالح القرشي
صدوق مدلس
👤←👥يونس بن بكير الشيباني، أبو بكر، أبو بكير
Newيونس بن بكير الشيباني ← ابن إسحاق القرشي
صدوق حسن الحديث
👤←👥محمد بن نمير الهمداني، أبو عبد الرحمن
Newمحمد بن نمير الهمداني ← يونس بن بكير الشيباني
ثقة حافظ
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن ابن ماجه
3109
الله حرم مكة يوم خلق السموات والأرض فهي حرام إلى يوم القيامة لا يعضد شجرها لا ينفر صيدها لا يأخذ لقطتها إلا منشد إلا الإذخر فإنه للبيوت والقبور فقال رسول الله إلا الإذخر
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 3109 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث3109
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
مکہ ہمیشہ سے حرم ہے اور حرم رہے گا۔
حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اس کے حرم ہونے کا اعلان فرمایا۔

(2)
بعض احکام ایسے بھی ہیں جو تمام شریعتوں میں برابر قائم رہے ہیں۔
ان میں سے ایک کعبہ شریف کا حج اور حرم مکہ کی حرمت بھی ہے۔

(3)
حرم مکہ میں درخت کاٹنا منع ہے۔

(4)
حرم کی حدود میں شکار کرنا منع ہے۔

(5)
اگر جانور حرم کی حد میں داخل ہوجائےتو شکاری کے لیے جائز نہیں کہ اسے حرم کی حد سے نکالنے کی کوشش کرے۔

(6)
اذخر ایک خاص قسم کی گھاس ہےجو اس علاقے میں کثرت سے پیدا ہوتی ہے۔

(7)
اذخر گھاس حرم کی حد میں بھی کاٹنا جائز ہے۔

(8)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اذخر کی اجازت طلب کی گئی اور آپ نے اجازت دے دی اس کا یہ مطلب نہیں کہ رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم شرعی احکام میں ترمیم کا حق رکھتے ہیں بلکہ یہ استثنا بھی وحی کے ذریعے تھا کیونکہ ارشاد باری تعالی ہے:
(وَمَا يَنطِقُ عَنِ الْهَوَىٰ ‎﴿3﴾‏ إِنْ هُوَ إِلَّا وَحْيٌ يُوحَىٰ ‎)
 (النجم: 3، 4)
 پیغمبر اپنی خواہش سے کلام نہیں کرتے وہ تو وحی ہوتی ہے جو ان پر نازل ہوتی ہے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3109]

Sunan Ibn Majah Hadith 3109 in Urdu