یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
16. باب : الاستنجاء بالحجارة والنهي عن الروث والرمة
باب: پتھر سے استنجاء کے جواز اور گوبر اور ہڈی سے ممانعت کا بیان۔
حدیث نمبر: 315
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ ، أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ . ح وحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، جَمِيعًا، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِي خُزَيْمَةَ ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ خُزَيْمَةَ ، عَنْ خُزَيْمَةَ بْنِ ثَابِتٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" فِي الِاسْتِنْجَاءِ ثَلَاثَةُ أَحْجَارٍ لَيْسَ فِيهَا رَجِيعٌ".
خزیمہ بن ثابت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”استنجاء کے لیے تین پتھر ہوں جن میں گوبر نہ ہو“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 315]
حضرت خزیمہ بن ثابت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”استنجا میں تین پتھر (استعمال) ہوتے ہیں، ان میں گوبر، لید نہ ہو۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 315]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الطہارة 21 (41)، (تحفة الأشراف: 3529)، مسند احمد (5/213، 214)، سنن الدارمی/الطہارة 11 (698) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
سنن أبي داود (41)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 387
إسناده ضعيف
سنن أبي داود (41)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 387
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن أبي داود |
41
| بثلاثة أحجار ليس فيها رجيع |
سنن الدارمي |
694
| ثلاثة أحجار ليس منهن رجيع |
سنن ابن ماجه |
315
| الاستنجاء ثلاثة أحجار ليس فيها رجيع |
مسندالحميدي |
436
| أولا يجد أحدكم ثلاثة أحجار؟ |
مسندالحميدي |
437
|
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 315 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث315
اردو حاشہ:
(رَجِيع)
كا لفظ گوبر لید اور انسانی فضلہ سب کے لیے بولا جاتا ہے یہاں اس کا ترجمہ گوبر اور لید اس لیے کیا گیا ہے کہ دوسری احادیث میں (روث)
کا لفظ ہے جو گدھے گھوڑے وغیرہ کی لید کے لیے بولا جاتا ہے۔
جب لید اور گوبر سے استنجا منع ہے تو انسانی فضلہ کا استعمال بدرجہ اولی منع ہوگا اس سے ماقبل کی روایت سے بھی جو صحیح ہے گوبر اور لید کے عدم استعمال کا اثبات ہوتا ہے اس لیے معناً یہ روایت بھی صحیح ہے۔
(رَجِيع)
كا لفظ گوبر لید اور انسانی فضلہ سب کے لیے بولا جاتا ہے یہاں اس کا ترجمہ گوبر اور لید اس لیے کیا گیا ہے کہ دوسری احادیث میں (روث)
کا لفظ ہے جو گدھے گھوڑے وغیرہ کی لید کے لیے بولا جاتا ہے۔
جب لید اور گوبر سے استنجا منع ہے تو انسانی فضلہ کا استعمال بدرجہ اولی منع ہوگا اس سے ماقبل کی روایت سے بھی جو صحیح ہے گوبر اور لید کے عدم استعمال کا اثبات ہوتا ہے اس لیے معناً یہ روایت بھی صحیح ہے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 315]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث سنن ابي داود 41
پتھر سے استنجاء کرنے کا بیان
«. . . فَقَالَ:" بِثَلَاثَةِ أَحْجَارٍ لَيْسَ فِيهَا رَجِيعٌ . . .»
”. . . آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”استنجاء تین پتھروں سے کرو جن میں گوبر نہ ہو . . .“ [سنن ابي داود/كِتَاب الطَّهَارَةِ: 41]
«. . . فَقَالَ:" بِثَلَاثَةِ أَحْجَارٍ لَيْسَ فِيهَا رَجِيعٌ . . .»
”. . . آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”استنجاء تین پتھروں سے کرو جن میں گوبر نہ ہو . . .“ [سنن ابي داود/كِتَاب الطَّهَارَةِ: 41]
فوائد و مسائل:
یہ روایت سنداً ضعیف ہے۔ تاہم صحیح حدیث میں گوبر اور ہڈی سے استنجا کی ممانعت ثابت ہے۔ [صحيح مسلم، حديث: 262]
غالباً اسی لیے شیخ البانی رحمہ اللہ نے اسے صحیح کہا ہے۔
یہ روایت سنداً ضعیف ہے۔ تاہم صحیح حدیث میں گوبر اور ہڈی سے استنجا کی ممانعت ثابت ہے۔ [صحيح مسلم، حديث: 262]
غالباً اسی لیے شیخ البانی رحمہ اللہ نے اسے صحیح کہا ہے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 41]
Sunan Ibn Majah Hadith 315 in Urdu
عمارة بن خزيمة الأنصاري ← خزيمة بن ثابت الأنصاري