یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
12. باب : النهي عن ذبح الأضحية قبل الصلاة
باب: نماز عید سے پہلے قربانی کی ممانعت۔
حدیث نمبر: 3154
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ أَبِي زَيْدٍ ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ وَقَالَ غَيْرُ عَبْدِ الْأَعْلَى، عَنْ عَمْرِو بْنِ بُجْدَانَ، عَنْ أَبِي زَيْدٍ، ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى أَبُو مُوسَى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ بُجْدَانَ ، عَنْ أَبِي زَيْدٍ الْأَنْصَارِيِّ ، قَالَ: مَرَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِدَارٍ مِنْ دُورِ الْأَنْصَارِ فَوَجَدَ رِيحَ قُتَارٍ، فَقَالَ:" مَنْ هَذَا الَّذِي ذَبَحَ؟"، فَخَرَجَ إِلَيْهِ رَجُلٌ مِنَّا، فَقَالَ: أَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ، ذَبَحْتُ قَبْلَ أَنْ أُصَلِّيَ، لِأُطْعِمَ أَهْلِي وَجِيرَانِي، فَأَمَرَهُ أَنْ يُعِيدَ، فَقَالَ: لَا وَاللَّهِ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ، مَا عِنْدِي إِلَّا جَذَعٌ أَوْ حَمَلٌ مِنَ الضَّأْنِ، قَالَ:" اذْبَحْهَا وَلَنْ تُجْزِئَ جَذَعَةٌ عَنْ أَحَدٍ بَعْدَكَ".
ابوزید انصاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر انصار کے گھروں میں سے ایک گھر سے ہوا، تو آپ نے وہاں گوشت بھوننے کی خوشبو پائی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کس شخص نے ذبح کیا ہے“؟ ہم میں سے ایک شخص آپ کی طرف نکلا، اور آ کر اس نے عرض کیا کہ اللہ کے رسول! میں نے نماز عید سے پہلے ذبح کر لیا، تاکہ گھر والوں اور پڑوسیوں کو کھلا سکوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے دوبارہ قربانی کا حکم دیا، اس شخص نے عرض کیا: قسم ہے اس ذات کی جس کے سوا کوئی سچا معبود نہیں، میرے پاس ایک جذعہ یا بھیڑ کے بچہ کے علاوہ کچھ بھی نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسی کو ذبح کر لو اور تمہارے بعد کسی کے لیے جذعہ کافی نہیں ہو گا“۔ [سنن ابن ماجه/كِتَابُ الْأَضَاحِي/حدیث: 3154]
حضرت ابو زید (عمرو بن اخطب) انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم انصار کے ایک گھر کے پاس سے گزرے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو گوشت پکنے (یا بھننے) کی خوشبو محسوس ہوئی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ کون ہے جس نے (پہلے ہی) ذبح کر لیا ہے؟“ ہمارا ایک (انصاری) آدمی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف باہر نکلا اور عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول! میں ہوں، میں نے نماز (عید) سے پہلے (قربانی کا جانور) ذبح کر لیا تھا تاکہ اپنے گھر والوں اور ہمسائیوں کو کھلاؤں۔“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے دوبارہ ذبح کرنے کا حکم دیا تو اس نے کہا: ”قسم ہے اللہ کی جس کے سوا کوئی معبود نہیں! میرے پاس تو صرف بھیڑ کا ایک میمنا ہے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسی کو ذبح کر دے، تیرے بعد کسی کی طرف سے جذعہ (قربان کرنا) کافی نہیں ہو گا۔“ [سنن ابن ماجه/كِتَابُ الْأَضَاحِي/حدیث: 3154]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 10699، ومصباح الزجاجة: 1092)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/77، 340، 341) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن ابن ماجه |
3154
| ما عندي إلا جذع أو حمل من الضأن قال اذبحها ولن تجزئ جذعة عن أحد بعدك |
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 3154 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث3154
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
مذکورہ روایت کو شیخ البانی ؒ نے مطلق صحیح اور شیخ زبیر رضی اللہ عنہ نے بھی مطلق سنداً حسن کہا ہے۔
لیکن درست بات یہ معلوم ہوتی ہے کہ اس روایت میں (اوحمل من الضان)
کے الفاظ صحیح نہیں ہیں کیونکہ صحیح بخاری وغیرہ میں مذکورہ جملے کی بجائے (من المعز)
کے الفاظ ہیں۔
علاوہ ازیں مسند احمد کے محققین نے بھی اسی طرف اشارہ کیا ہے۔
تفصیل کے لیے دیکھیے (الموسوعة الحديثية مسندالإمام أحمد: 34/ 334)
لہٰذا بھیڑ کا جذعه (ایک سال دنبہ، چھترا)
مطلق جائز ہے جیسا کہ حدیث ہے:
(ان الجذع يوفي مما توفي منه الثنية) (سنن ابن ماجة الأضاحي، باب مايجزي من الاضاحي، حديث: 3140)
جذعہ جانور دو دانتے کی جگہ کفایت کرجاتا ہے۔
تاہم افضلیت دو دانتا جانور قربانی کرنے میں ہے جیسا کہ تفصیل حدیث نمبر: 3140 کے فوائد میں گزرچکی ہے۔
نیز جذعہ (ایک سالہ دنبہ چھترا)
صرف بھیڑ کی قسم سے جائز ہے بکری کا جذعہ (ایک سالہ)
جائز نہیں۔
واللہ اعلم۔
فوائد و مسائل:
(1)
مذکورہ روایت کو شیخ البانی ؒ نے مطلق صحیح اور شیخ زبیر رضی اللہ عنہ نے بھی مطلق سنداً حسن کہا ہے۔
لیکن درست بات یہ معلوم ہوتی ہے کہ اس روایت میں (اوحمل من الضان)
کے الفاظ صحیح نہیں ہیں کیونکہ صحیح بخاری وغیرہ میں مذکورہ جملے کی بجائے (من المعز)
کے الفاظ ہیں۔
علاوہ ازیں مسند احمد کے محققین نے بھی اسی طرف اشارہ کیا ہے۔
تفصیل کے لیے دیکھیے (الموسوعة الحديثية مسندالإمام أحمد: 34/ 334)
لہٰذا بھیڑ کا جذعه (ایک سال دنبہ، چھترا)
مطلق جائز ہے جیسا کہ حدیث ہے:
(ان الجذع يوفي مما توفي منه الثنية) (سنن ابن ماجة الأضاحي، باب مايجزي من الاضاحي، حديث: 3140)
جذعہ جانور دو دانتے کی جگہ کفایت کرجاتا ہے۔
تاہم افضلیت دو دانتا جانور قربانی کرنے میں ہے جیسا کہ تفصیل حدیث نمبر: 3140 کے فوائد میں گزرچکی ہے۔
نیز جذعہ (ایک سالہ دنبہ چھترا)
صرف بھیڑ کی قسم سے جائز ہے بکری کا جذعہ (ایک سالہ)
جائز نہیں۔
واللہ اعلم۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3154]
Sunan Ibn Majah Hadith 3154 in Urdu
عمرو بن بجدان العامري ← عمرو بن أخطب الأنصاري