🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن ٹیکسٹ کی صورت میں حاصل کریں۔ مزید تفصیل کے لیے رابطہ کریں۔
+92-331-5902482 New
سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
16. باب : الضب
باب: ضب (صحرائے نجد میں پائے جانے والے گوہ) کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3240
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدٍ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ: نَادَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الصُّفَّةِ حِينَ انْصَرَفَ مِنَ الصَّلَاةِ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ أَرْضَنَا أَرْضٌ مَضَبَّةٌ، فَمَا تَرَى فِي الضِّبَاب؟، قَالَ:" بَلَغَنِي أَنَّهُ أُمَّةً مُسِخَتْ" فَلَمْ يَأْمُرْ بِهِ، وَلَمْ يَنْهَ عَنْهُ.
ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز پڑھ کر لوٹے تو اہل صفہ میں سے ایک شخص نے آپ کو آواز دی، اور عرض کیا: اللہ کے رسول! ہمارے ملک میں ضب (گوہ) بہت ہوتی ہے، آپ اس سلسلے میں کیا فرماتے ہیں؟ آپ نے فرمایا: مجھے یہ خبر پہنچی ہے کہ یہ کوئی امت ہے جو مسخ کر دی گئی ہے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہ اس کے کھانے کا حکم دیا، اور نہ ہی منع فرمایا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الصيد/حدیث: 3240]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الصید والذبائح 7 (1951)، (تحفة الأشراف: 4315)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/5، 19، 66) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أبو سعيد الخدري، أبو سعيدصحابي
👤←👥المنذر بن مالك العوفي، أبو نضرة
Newالمنذر بن مالك العوفي ← أبو سعيد الخدري
ثقة
👤←👥داود بن أبي هند القشيري، أبو محمد، أبو بكر
Newداود بن أبي هند القشيري ← المنذر بن مالك العوفي
ثقة متقن
👤←👥عبد الرحيم بن سليمان الكناني، أبو علي
Newعبد الرحيم بن سليمان الكناني ← داود بن أبي هند القشيري
ثقة حافظ
👤←👥محمد بن العلاء الهمداني، أبو كريب
Newمحمد بن العلاء الهمداني ← عبد الرحيم بن سليمان الكناني
ثقة حافظ
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن ابن ماجه
3240
بلغني أنه أمة مسخت فلم يأمر به ولم ينه عنه
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 3240 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث3240
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
  (فماتری)
آپ کا کیا خیال ہے؟۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ کا کیا فیصلہ ہے یہ حلال ہے یاحرام ہے؟
(2)
 (بلغنی)
مجھے یہ بات پہنچی ہے۔
اس لفظ سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ بات نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو وحی کے ذریعے سے معلوم نہیں ہوئی تھی بلکہ ممکن ہے علمائے یہود سے سنی ہو۔
چونکہ ایسی باتوں کی تصدیق یا تکذیب نہیں کی جا سکتی جب تک وحی کے ذریعے سےان کا صحیح یا غلط ہونا معلوم نہ ہوجائے اس لیے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دوٹوک فیصلہ نہیں فرمایا۔

(3)
مشکوک چیز سے احتیاطاً اجتناب کیا جا سکتا ہے تاہم اسے صراحتاً حرام نہیں کہا جا سکتا۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3240]

Sunan Ibn Majah Hadith 3240 in Urdu