یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
8. باب : الأكل باليمين
باب: دائیں ہاتھ سے کھانے کا بیان۔
حدیث نمبر: 3266
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا الْهِقْلُ بْنُ زِيَادٍ ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ:" لِيَأْكُلْ أَحَدُكُمْ بِيَمِينِهِ، وَلْيَشْرَبْ بِيَمِينِهِ، وَلْيَأْخُذْ بِيَمِينِهِ، وَلْيُعْطِ بِيَمِينِهِ، فَإِنَّ الشَّيْطَانَ يَأْكُلُ بِشِمَالِهِ، وَيَشْرَبُ بِشِمَالِهِ، وَيُعْطِي بِشِمَالِهِ، وَيَأْخُذُ بِشِمَالِهِ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں ہر شخص کو چاہیئے کہ وہ دائیں ہاتھ سے کھائے، دائیں ہاتھ سے پیئے، دائیں ہاتھ سے لے، دائیں ہاتھ سے دے، اس لیے کہ شیطان بائیں ہاتھ سے کھاتا ہے، بائیں ہاتھ سے پیتا ہے، بائیں ہاتھ سے دیتا ہے اور بائیں ہاتھ سے لیتا ہے“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأطعمة/حدیث: 3266]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے ہر ایک کو چاہیے کہ دائیں ہاتھ سے کھائے، دائیں ہاتھ سے پیے، دائیں ہاتھ سے لے اور دائیں ہاتھ سے دے، کیونکہ شیطان بائیں ہاتھ سے کھاتا ہے، بائیں ہاتھ سے پیتا ہے، بائیں ہاتھ سے دیتا اور بائیں ہاتھ سے لیتا ہے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الأطعمة/حدیث: 3266]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 15420، ومصباح الزجاجة: 1123)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/349) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥أبو هريرة الدوسي | صحابي | |
👤←👥أبو سلمة بن عبد الرحمن الزهري، أبو سلمة أبو سلمة بن عبد الرحمن الزهري ← أبو هريرة الدوسي | ثقة إمام مكثر | |
👤←👥يحيى بن أبي كثير الطائي، أبو نصر يحيى بن أبي كثير الطائي ← أبو سلمة بن عبد الرحمن الزهري | ثقة ثبت لكنه يدلس ويرسل | |
👤←👥هشام بن حسان الأزدي، أبو عبد الله هشام بن حسان الأزدي ← يحيى بن أبي كثير الطائي | ثقة حافظ | |
👤←👥هقل بن زياد السكسكي، أبو عبد الله هقل بن زياد السكسكي ← هشام بن حسان الأزدي | ثقة | |
👤←👥هشام بن عمار السلمي، أبو الوليد هشام بن عمار السلمي ← هقل بن زياد السكسكي | صدوق جهمي كبر فصار يتلقن |
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن ابن ماجه |
3266
| ليأكل أحدكم بيمينه وليشرب بيمينه وليأخذ بيمينه وليعط بيمينه إن الشيطان يأكل بشماله ويشرب بشماله ويعطي بشماله ويأخذ بشماله |
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 3266 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث3266
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
وہ تمام کام جوعرف میں اچھے سمجھے جاتے ہیں یا طبعاً ناگوار نہیں ان میں دایاں ہاتھ استعمال کرنا چاہیے۔
دوسرے کاموں میں بایاں ہاتھ استعمال کیا جائے۔
(2)
احادیث میں بہت سے کاموں کےبارے میں دائیں جانب کو اہمیت دینے کا ذکر موجود ہے مثلاً:
کھانا، پینا، لینا، دینا، وضو، غسل، کنگھی کرنا، کپڑا پہننا، جوتا پہننا، سر کےبال کٹوانا یامنڈوانا، لکھنا، مسجد میں داخل ہونا، بیت الخلاء سے باہر آنا وغیرہ۔
اور بہت سے دوسرے کاموں میں بائیں جانب کا ذکر ہے مثلاً:
استنجاء کرنا، بیت الخلاء میں داخل ہونا، مسجد سےباہر آنا، لباس یا جوتا اتارنا وغیرہ۔
(3)
جوکام شیطان کو پسند ہیں مومن کو ان سے ا جتناب کرنا چاہیے۔
فوائد و مسائل:
(1)
وہ تمام کام جوعرف میں اچھے سمجھے جاتے ہیں یا طبعاً ناگوار نہیں ان میں دایاں ہاتھ استعمال کرنا چاہیے۔
دوسرے کاموں میں بایاں ہاتھ استعمال کیا جائے۔
(2)
احادیث میں بہت سے کاموں کےبارے میں دائیں جانب کو اہمیت دینے کا ذکر موجود ہے مثلاً:
کھانا، پینا، لینا، دینا، وضو، غسل، کنگھی کرنا، کپڑا پہننا، جوتا پہننا، سر کےبال کٹوانا یامنڈوانا، لکھنا، مسجد میں داخل ہونا، بیت الخلاء سے باہر آنا وغیرہ۔
اور بہت سے دوسرے کاموں میں بائیں جانب کا ذکر ہے مثلاً:
استنجاء کرنا، بیت الخلاء میں داخل ہونا، مسجد سےباہر آنا، لباس یا جوتا اتارنا وغیرہ۔
(3)
جوکام شیطان کو پسند ہیں مومن کو ان سے ا جتناب کرنا چاہیے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3266]
Sunan Ibn Majah Hadith 3266 in Urdu
أبو سلمة بن عبد الرحمن الزهري ← أبو هريرة الدوسي