🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
18. باب : النفخ في الطعام
باب: کھانے میں پھونک مارنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3288
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمُحَارِبِيُّ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ:" لَمْ يَكُنْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْفُخُ فِي طَعَامٍ، وَلَا شَرَابٍ، وَلَا يَتَنَفَّسُ فِي الْإِنَاءِ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھانے پینے کی چیزوں میں نہ پھونک مارتے تھے، اور نہ ہی برتن کے اندر سانس لیتے تھے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأطعمة/حدیث: 3288]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الأشربة 20 (3728)، سنن الترمذی/الأشربة 15 (1888)، (تحفة الأشراف: 6149)، وقد أخرجہ: حم1/220، 309ھ 357)، سنن الدارمی/الأشربة 27 (2180) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (سند میں شریک القاضی سئی الحفظ ہیں، جنہوں نے حدیث کو فعل رسول بنا دیا، جب کہ یہ قول رسول سے ثابت ہے کہ آپ نے ایسا کرنے سے منع فرمایا ہے، جب کہ مؤلف کے یہاں: (3429) نمبر پر آ رہا ہے)
قال الشيخ الألباني: ضعيف وقد صح من قوله صلى الله عليه وسلم
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
شريك بن عبد اللّٰه القاضي عنعن
و رواه أبو داود (3728) والحميدي (526) من طريق آخر عن عبدالكريم الجزري به بلفظ: ’’ نھي رسول اللّٰه ﷺ أن يتنفس في الإناء أو ينفخ فيه ‘‘ و سنده صحيح وھو يغني عنه
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 494

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن العباس القرشي، أبو العباسصحابي
👤←👥عكرمة مولى ابن عباس، أبو مجالد، أبو عبد الله
Newعكرمة مولى ابن عباس ← عبد الله بن العباس القرشي
ثقة
👤←👥عبد الكريم بن مالك الجزري، أبو سعيد
Newعبد الكريم بن مالك الجزري ← عكرمة مولى ابن عباس
ثقة متقن
👤←👥شريك بن عبد الله القاضي، أبو عبد الله
Newشريك بن عبد الله القاضي ← عبد الكريم بن مالك الجزري
صدوق سيء الحفظ يخطئ كثيرا
👤←👥عبد الرحيم بن عبد الرحمن المحاربي، أبو زياد
Newعبد الرحيم بن عبد الرحمن المحاربي ← شريك بن عبد الله القاضي
ثقة
👤←👥محمد بن العلاء الهمداني، أبو كريب
Newمحمد بن العلاء الهمداني ← عبد الرحيم بن عبد الرحمن المحاربي
ثقة حافظ
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
جامع الترمذي
1886
إذا شرب تنفس مرتين
سنن أبي داود
3728
أن يتنفس في الإناء أو ينفخ فيه
سنن ابن ماجه
3417
شرب فتنفس فيه مرتين
سنن ابن ماجه
3428
نهى رسول الله عن التنفس في الإناء
سنن ابن ماجه
3288
لم يكن رسول الله ينفخ في طعام ولا شراب ولا يتنفس في الإناء
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 3288 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث3288
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
یہ حدیث صحیح ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے برتن میں پھونک مارنے سے منع فرمایا۔ (دیکھیے ابن ماجہ حدیث: 3429)

(2)
حضرت ابو سعید ؓ سےروایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پینے کی چیز میں پھونک مارنے سےمنع فرمایا۔
ایک شخص نے کہا:
اگر برتن میں کوئی ناپسندیدہ چیز (تنکا وغیرہ)
نظر آ جائے تو؟ آپ نے فرمایا:
اسے انڈیل دو۔ (تھوڑا سا پانی انڈیل دو تاکہ وہ بھی نکل جائے)
اس نے کہا:
میں ایک سانس سے (پیتا ہوں تو)
سیر نہیں ہوتا۔
فرمایا:
پیالے کومنہ سے ہٹا لیا کرو۔ (جامع الترمذي، الأشرية، باب ماجاء في كراهية النفخ في الشراب، حديث: 1887)
 اس سے معلوم ہوا کہ برتن کو منہ سے ہٹا کر سانس لینا چاہیے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3288]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 3728
پانی کے برتن میں پھونک مارنا اور سانس لینا منع ہے۔
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے برتن میں سانس لینے یا پھونک مارنے سے منع فرمایا ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الأشربة /حدیث: 3728]
فوائد ومسائل:

افضل یہ ہے کہ انسان تین سانس میں پیے اور برتن کومنہ سے الگ کرکے سانس لے۔


کھانے پینے کی چیز میں پھونک مارنا بھی جائز نہیں۔
اگر کھانا یا مشروب زیادہ گرم ہو تو انتظار کرلے اور ٹھنڈا کرکے کھائے پئے۔
اس طرح اگر کوئی تنکا وغیرہ اس میں گرا پڑا ہوتو ہاتھ سے نکال لے پھونک نہ مارے۔


بعض علماء تبرک کےلئے قرآن کریم یا کوئی دعا پڑھ کے دم کرنے کو بھی ناجائز کہتے ہیں۔
جب کہ بعض علماء کہتے ہیں کہ سورۃ فاتحہ اور مسنون ادعیہ پڑھنے سے اس میں کچھ تاثیر پیدا ہوجاتی ہے۔
اس لئے وہ دم کرکے پھونک مارنے کو ممنوع نفخ میں شامل نہیں کرتے۔
بلکہ اس کو جائز قرار دیتے ہیں۔
(تفصیل کےلئے حدیث نمبر 3722۔
کے فوائد ومسائل دیکھیں)
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 3728]

مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث3428
پانی کے برتن میں سانس لینے کا بیان۔
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے برتن میں سانس لینے سے منع فرمایا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأشربة/حدیث: 3428]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
پانی دودھ یا کوئی اور مشروب پیتے ہوئے سانس لینے کی ضرورت ہو تو برتن منہ سے ہٹا کر سانس لینا چاہیے پھر دوبارہ حسب ضرورت پی لیا جائے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3428]

الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 1886
دو سانس میں پینے کا بیان۔
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب پیتے تھے تو دو سانس میں پیتے تھے۔ [سنن ترمذي/كتاب الأشربة/حدیث: 1886]
اردو حاشہ:
نوٹ:
(سند میں رشدین بن کریب ضعیف ہیں)
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 1886]