🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

New یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482 New
سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
23. باب : عرض الطعام
باب: کھانا پیش کیے جانے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3299
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ , قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ أَبِي هِلَالٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَوَادَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، رَجُلٌ مِنْ بَنِي عَبْدِ الْأَشْهَلِ، قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَتَغَدَّى، فَقَالَ:" ادْنُ فَكُلْ"، فَقُلْتُ: إِنِّي صَائِمٌ، فَيَا لَهْفَ نَفْسِي! هَلَّا كُنْتُ طَعِمْتُ مِنْ طَعَامِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
انس بن مالک رضی اللہ عنہ (جو قبیلہ بنی عبدالاشہل کے ایک شخص ہیں) کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، اس وقت آپ دوپہر کا کھانا کھا رہے تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آؤ کھانا کھاؤ،، میں نے عرض کیا: میں روزے سے ہوں، تو ہائے افسوس کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کھانے میں سے کیوں نہیں کھا لیا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأطعمة/حدیث: 3299]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ جن کا تعلق قبیلۂ بنو عبدالاشہل سے تھا، ان سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم دوپہر (صبح) کا کھانا کھا رہے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آئیے، کھانا کھائیے۔ میں نے کہا: میں روزے سے ہوں۔ افسوس! کاش میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کھانے میں سے کچھ کھا لیتا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأطعمة/حدیث: 3299]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «أنظر حدیث رقم: (1667) (حسن صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:حسن

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أنس بن مالك الكعبي، أبو مية، أبو أميمة، أبو أميةصحابي
👤←👥عبد الله بن سوادة القشيري
Newعبد الله بن سوادة القشيري ← أنس بن مالك الكعبي
ثقة
👤←👥محمد بن سليم الراسبي، أبو هلال
Newمحمد بن سليم الراسبي ← عبد الله بن سوادة القشيري
صدوق فيه لين
👤←👥وكيع بن الجراح الرؤاسي، أبو سفيان
Newوكيع بن الجراح الرؤاسي ← محمد بن سليم الراسبي
ثقة حافظ إمام
👤←👥علي بن محمد الكوفي، أبو الحسن
Newعلي بن محمد الكوفي ← وكيع بن الجراح الرؤاسي
ثقة
👤←👥ابن أبي شيبة العبسي، أبو بكر
Newابن أبي شيبة العبسي ← علي بن محمد الكوفي
ثقة حافظ صاحب تصانيف
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن ابن ماجه
3299
ادن فكل فقلت إني صائم فيا لهف نفسي هلا كنت طعمت من طعام رسول الله
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 3299 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث3299
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
اس روایت کے راوی وہ حضرت انس بن مالک نہیں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خادم خاص اور حضرت ام سلیم ؓ کے بیٹے تھے بلکہ یہ ایک اور صحابی ہیں اس لیے راوی کے وضاحت کر دی کہ ان کا تعلق بنوعبد الاشہل کے قبیلے سے ہے۔

(2)
روزے دار کواگر کھانے کی دعوت دی جائے تو نفلی روزہ چھوڑ کر دعوت قبول کرلینا بہتر ہے تاہم روزہ مکمل کرنا بھی جائز ہے۔

(3)
اگر کھانے کی دعوت دینے پر دوسرا شخص معذرت کرلے تو زیادہ اصرار نہیں کرنا چاہیے۔

(4)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کھانا ایک عظیم شرف ہے جس کے چھوٹ جانے پر صحابی کو بعد میں افسوس ہوا کیونکہ روزہ تو بعد میں بھی رکھا جا سکتا تھا۔
دوسرے علاقے میں رہائش پذیر ہونے کی وجہ سےانہیں دوبارہ ایسا موقع نہیں ملا کہ یہ شرف حاصل کر سکیں۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3299]

Sunan Ibn Majah Hadith 3299 in Urdu