🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

New یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482 New
سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
24. باب : الأكل في المسجد
باب: مسجد میں کھانے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3300
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدِ بْنِ كَاسِبٍ ، وَحَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى , قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ زِيَادٍ الْحَضْرَمِيُّ ، أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الْحَارِثِ بْنِ جَزْءٍ الزُّبَيْدِيَّ ، يَقُولُ:" كُنَّا نَأْكُلُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فِي الْمَسْجِدِ , الْخُبْزَ وَاللَّحْمَ".
عبداللہ بن حارث بن جزء زبیدی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں مسجد میں روٹی اور گوشت کھایا کرتے تھے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأطعمة/حدیث: 3300]
حضرت عبداللہ بن حارث بن جزء زبیدی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ہم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانۂ مبارک میں مسجد میں گوشت روٹی کھا لیا کرتے تھے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأطعمة/حدیث: 3300]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 5238، ومصباح الزجاجة: 1133) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: مسجد کے اندر کھانے میں کچھ حرج نہیں خصوصاً مسافروں کے لئے اور جن لوگوں کے گھر نہیں ہیں،لیکن یہ ضرور ہے کہ مسجد کو آلودہ، اور گندہ، اور غلیظ نہ کریں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن الحارث الزبيدي، أبو الحارثصحابي
👤←👥سليمان بن زياد الحضرمي
Newسليمان بن زياد الحضرمي ← عبد الله بن الحارث الزبيدي
ثقة
👤←👥عمرو بن الحارث الأنصاري، أبو أيوب، أبو أمية
Newعمرو بن الحارث الأنصاري ← سليمان بن زياد الحضرمي
ثقة فقيه حافظ
👤←👥عبد الله بن وهب القرشي، أبو محمد
Newعبد الله بن وهب القرشي ← عمرو بن الحارث الأنصاري
ثقة حافظ
👤←👥حرملة بن يحيى التجيبي، أبو حفص
Newحرملة بن يحيى التجيبي ← عبد الله بن وهب القرشي
صدوق حسن الحديث
👤←👥يعقوب بن كاسب المدني، أبو يوسف
Newيعقوب بن كاسب المدني ← حرملة بن يحيى التجيبي
صدوق يهم
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن ابن ماجه
3300
كنا نأكل على عهد رسول الله في المسجد الخبز واللحم
سنن ابن ماجه
3311
أكلنا مع رسول الله طعاما في المسجد لحما قد شوي فمسحنا أيدينا بالحصباء ثم قمنا فصلي ولم يتوضأ
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 3300 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث3300
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
مسجد میں کھانا پینا جائز ہے لیکن اسے عادت نہیں بنانا چاہیے۔

(2)
مسجد میں کھاناکھاتے وقت مسجد کی صفائی کا خیال رکھنا چاہیے۔
کھانے کی چیز فرش، چٹائی اور قالین وغیرہ پر نہ گرنے دی جائے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3300]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث3311
بھنے ہوئے گوشت کا بیان۔
عبداللہ بن حارث بن جزء زبیدی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مسجد میں بھنا ہوا گوشت کھایا، پھر ہم نے اپنے ہاتھ کنکریوں سے پونچھ لیے، پھر ہم نماز کے لیے کھڑے ہو گئے اور ہم نے (پھر سے) وضو نہیں کیا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأطعمة/حدیث: 3311]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
مسجد میں کھانا کھانا جائز ہے۔

(2)
بھنا ہوا گوشت کھانا درست ہے۔

(3)
اللہ کی نعمتوں کے استعمال سے پرہیز کا نام زہد نہیں بلکہ حرام سے اجتناب اور دنیا کے لالچ سے بچنا زہد ہے۔

(4)
آگ پر پکی ہوئی چیز کھانے سے وضو نہیں ٹوٹتا۔ دیکھیے: (سنن ابن ماجة، حدیث: 488، 493)
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3311]

Sunan Ibn Majah Hadith 3300 in Urdu