🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
30. باب : القديد
باب: سوکھے گوشت کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3312
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ أَسَدٍ , حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ , حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ أَبِي خَالِدٍ , عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ , عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ , قَالَ: أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ فَكَلَّمَهُ , فَجَعَلَ تُرْعَدُ فَرَائِصُهُ , فَقَالَ لَهُ:" هَوِّنْ عَلَيْكَ , فَإِنِّي لَسْتُ بِمَلِكٍ , إِنَّمَا أَنَا ابْنُ امْرَأَةٍ تَأْكُلُ الْقَدِيدَ" , قَالَ أَبُو عَبْد اللَّهِ: إِسْمَاعِيل وَحْدَهُ , وَصَلَهُ.
ابومسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک شخص آیا، آپ نے اس سے گفتگو کی تو (خوف کی وجہ سے) اس کے مونڈھے کانپنے لگے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے کہا: ڈرو نہیں، اطمینان رکھو، میں کوئی بادشاہ نہیں ہوں، میں تو ایک ایسی عورت کا بیٹا ہوں جو سوکھا گوشت کھایا کرتی تھی ۱؎۔ ابوعبداللہ ابن ماجہ کہتے ہیں: صرف اسماعیل نے اسے موصول بیان کیا ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأطعمة/حدیث: 3312]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 10006، ومصباح الزجاجة: 1140) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: «قدید» : ایسے گوشت کو کہتے ہیں جسے نمک لگا کر دھوپ میں سکھایا گیا ہو۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
إسماعيل بن أبي خالد عنعن في ھذا السند
و صرح بالسماع في الرواية المرسلة عند الخطيب (278/6) والمرسل أصح كما قال الدار قطني وغيره
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 495

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أبو مسعود الأنصاري، أبو مسعودصحابي
👤←👥قيس بن أبي حازم البجلي، أبو عبد الله
Newقيس بن أبي حازم البجلي ← أبو مسعود الأنصاري
ثقة
👤←👥إسماعيل بن أبي خالد البجلي، أبو عبد الله
Newإسماعيل بن أبي خالد البجلي ← قيس بن أبي حازم البجلي
ثقة ثبت
👤←👥جعفر بن عون القرشي، أبو عون
Newجعفر بن عون القرشي ← إسماعيل بن أبي خالد البجلي
ثقة
👤←👥إسماعيل بن أبي الحارث البغدادي، أبو إسحاق
Newإسماعيل بن أبي الحارث البغدادي ← جعفر بن عون القرشي
ثقة
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن ابن ماجه
3312
هون عليك فإني لست بملك إنما أنا ابن امرأة تأكل القديد
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 3312 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث3312
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
مذکورہ روایت کو ہمارے فاضل محقق نے سنداً ضعیف قرار دیا ہے جبکہ دیگر محققین نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔
شیخ البانی رحمۃ اللہ علیہ  نےاس پر کافی مفصل بحث کی ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ تصحیح حدیث والی رائے ہی درست ہے لہٰذا روایت دیگر شواہد کی بنا پر قابل حجت ہے۔
واللہ اعلم . تفصیل کےلیے دیکھیے: (سلسلة الأحاديث الصحيحة للألبانى رقم: 1876، وسنن ابن ماجة بتحقيق الدكتور بشار عواد رقم: 3312)

(2)
اہل عرب گوشت کو محفوظ رکھنے کے لیے اس کے لمبے ٹکڑے کاٹ کر نمک لگا کر دھوپ میں خشک کرلیا کرتے تھے۔
اسے قدید کہتے ہیں۔
بعد میں ضرورت پڑنے پر اسے پکا لیا جاتا ہے۔

(3)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی والدہ کا ذکر اس لیے فرمایا کہ اس شخص کی گھبراہٹ دور ہوجائے جو اس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمت کے احساس سے طاری ہو گئی تھی۔

(4)
تواضع کے طور پراپنے آپ کو ایک عام انسان کے طور پر پیش کرنا اللہ کی نعمت کا انکار نہیں۔

(5)
بڑے عالم یا بڑے مقام پر فائز شخص کو عام لوگوں سے بات کرتے وقت ایسا انداز اختیار کرنا چاہیے جس سے وہ مانوس ہو جائیں اور آسانی سے اپنی بات کہہ سن سکیں۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3312]