🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
39. باب : إذا أتي بأول الثمرة
باب: موسم کے پہلے پھل کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3329
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ , وَيَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدِ بْنِ كَاسِبٍ , قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ , أَخْبَرَنِي سُهَيْلُ بْنُ أَبِي صَالِحٍ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , كَانَ إِذَا أُتِيَ بِأَوَّلِ الثَّمَرَةِ , قَالَ:" اللَّهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِي مَدِينَتِنَا , وَفِي ثِمَارِنَا , وَفِي مُدِّنَا , وَفِي صَاعِنَا بَرَكَةً مَعَ بَرَكَةٍ" , ثُمَّ يُنَاوِلُهُ أَصْغَرَ مَنْ بِحَضْرَتِهِ مِنَ الْوِلْدَانِ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جب موسم کا پہلا پھل آتا تو فرماتے: «اللهم بارك لنا في مدينتنا وفي ثمارنا وفي مدنا وفي صاعنا بركة مع بركة» یعنی اے اللہ! ہمارے شہر میں، ہمارے پھلوں میں، ہمارے مد میں، اور ہمارے صاع میں، ہمیں برکت عطا فرما، پھر آپ اپنے سامنے موجود بچوں میں سب سے چھوٹے بچے کو وہ پھل عنایت فرما دیتے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأطعمة/حدیث: 3329]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں جب پہلا پھل پیش کیا جاتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے: «اللَّهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِي مَدِينَتِنَا، وَفِي ثِمَارِنَا، وَفِي مُدِّنَا، وَفِي صَاعِنَا، بَرَكَةً مَعَ بَرَكَةٍ» اے اللہ! ہمارے شہر میں، ہمارے پھلوں میں، ہمارے مُد میں اور ہمارے صاع میں برکت کے ساتھ برکت عطا فرما۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم حاضر خدمت بچوں میں سے سب سے چھوٹے بچے کو وہ پھل وغیرہ عنایت فرما دیتے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأطعمة/حدیث: 3329]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الحج 85 (1373)، (تحفة الأشراف: 12707)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الدعوات 54 (3454)، موطا امام مالک/الجامع 1 (2)، مسند احمد (1/116، 169، 183، 2/124، 126، 330، 3/35، 47)، سنن الدارمی/الأطعمة 32 (2116) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم
 
الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أبو هريرة الدوسيصحابي
👤←👥أبو صالح السمان، أبو صالح
Newأبو صالح السمان ← أبو هريرة الدوسي
ثقة ثبت
👤←👥سهيل بن أبي صالح السمان، أبو يزيد
Newسهيل بن أبي صالح السمان ← أبو صالح السمان
ثقة
👤←👥عبد العزيز بن محمد الدراوردي، أبو محمد
Newعبد العزيز بن محمد الدراوردي ← سهيل بن أبي صالح السمان
صدوق حسن الحديث
👤←👥يعقوب بن كاسب المدني، أبو يوسف
Newيعقوب بن كاسب المدني ← عبد العزيز بن محمد الدراوردي
صدوق يهم
👤←👥محمد بن الصباح الجرجرائي، أبو جعفر
Newمحمد بن الصباح الجرجرائي ← يعقوب بن كاسب المدني
صدوق حسن الحديث
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح مسلم
3334
اللهم بارك لنا في ثمرنا وبارك لنا في مدينتنا وبارك لنا في صاعنا وبارك لنا في مدنا اللهم إن إبراهيم عبدك وخليلك ونبيك وإني عبدك ونبيك وإنه دعاك لمكة أدعوك للمدينة بمثل ما دعاك لمكة ومثله معه
صحيح مسلم
3335
اللهم بارك لنا في مدينتنا وفي ثمارنا وفي مدنا وفي صاعنا بركة مع بركة ثم يعطيه أصغر من يحضره من الولدان
جامع الترمذي
3454
اللهم بارك لنا في ثمارنا وبارك لنا في مدينتنا وبارك لنا في صاعنا ومدنا اللهم إن إبراهيم عبدك وخليلك ونبيك وإني عبدك ونبيك وإنه دعاك لمكة أدعوك للمدينة بمثل ما دعاك به لمكة ومثله معه قال ثم يدعو أصغر وليد يراه فيعطيه ذلك الثمر
سنن ابن ماجه
3329
اللهم بارك لنا في مدينتنا وفي ثمارنا وفي مدنا وفي صاعنا بركة مع بركة ثم يناوله أصغر من بحضرته من الولدان
المعجم الصغير للطبراني
907
اللهم بارك لهم في صاعهم ومدهم
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 3329 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث3329
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
باغ کا پہلا پھل کسی بزرگ شخصیت کی خدمت میں پیش کرنا چاہیے۔
اس میں اس شخصیت کی بزرگی کا اعتراف بھی ہے اور اس سے محبت کااظہار بھی۔

(2)
بڑوں کو چھوٹوں کے حق میں ہر مناسب موقع پر دعائے خیر کرنی چاہیے۔

(3)
بچوں کو کھانے پینے کی چیز دینے سے بچوں کے دل میں بزرگوں کی محبت پیدا ہوتی ہے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3329]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 3454
جب موسم کا پہلا پھل دیکھے تو کیا کہے؟
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ لوگ جب کھجور کا پہلا پھل دیکھتے تو اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس (توڑ کر) لاتے، جب اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لیتے تو فرماتے «اللهم بارك لنا في ثمارنا وبارك لنا في مدينتنا وبارك لنا في صاعنا ومدنا اللهم إن إبراهيم عبدك وخليلك ونبيك وإني عبدك ونبيك وإنه دعاك لمكة وأنا أدعوك للمدينة بمثل ما دعاك به لمكة ومثله» اے اللہ! ہمارے لیے ہمارے پھلوں میں برکت دے، اور ہمارے لیے ہمارے شہر میں برکت دے، ہمارے صاع میں برکت دے، ہمارے مد میں برکت دے، اے اللہ! ابراہیم علیہ السلام تیرے بندے ہیں، تیرے دوست ہیں ت۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ترمذي/كتاب الدعوات/حدیث: 3454]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
اے اللہ! ہمارے لیے ہمارے پھلوں میں برکت دے،
اور ہمارے لیے ہمارے شہر میں برکت دے،
ہمارے صاع میں برکت دے،
ہمارے مُد میں برکت دے،
اے اللہ! ابراہیم علیہ السلام تیرے بندے ہیں،
تیرے دوست ہیں تیرے نبی ہیں،
اور میں بھی تیرا بندہ اور تیرا نبی ہوں،
انہوں نے دعا کی تھی مکہ کے لیے،
میں تجھ سے دعا کرتا ہوں مدینہ کے لیے،
اسی طرح کی دعا جس طرح کی دعا ابراہیم علیہ السلام نے مکہ کے لیے کی تھی،
بلکہ اس سے دوگنی (برکت دے)
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 3454]

الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 3335
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سب سے پہلا پھل لایا جاتا تھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم یوں دعا فرماتے: اے اللہ! ہمارے لیے ہمارے مدینہ میں برکت دے اور ہمارے پھلوں میں اور ہمارے مد میں اور ہمارے صاع میں برکت در برکت فرما۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم وہ پھل موجود بچوں میں سب سے چھوٹے بچے کو عنایت فرماتے۔ [صحيح مسلم، حديث نمبر:3335]
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
مدینہ میں برکت کا مطلب یہ ہےکہ وہ خوب آباد وشاداب رہے،
اور اس کے مکینوں پر اللہ کا فضل وکرم ہو،
پھلوں اور پیداوار میں برکت کا مطلب یہ ہےکہ پھل اور پیداوار زیادہ سے زیادہ ہوں یعنی فصل بھر پور ہو،
قرآن مجید میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کی دعا کا ذکر ہے جو انہوں نے اس وقت کی تھی جب اپنی بیوی اور شیرخوار بچے کو مکہ کی بے آباد اور بے آب وگیاہ وادی میں چھوڑ رہے تھے:
اے اللہ! تو اپنے بندوں کے دلوں میں ان کی محبت والفت پیدا کر دے اور ان کو ان کی ضرورت کا رزق اور پھل پہنچا اور اس کو امن وسلامتی والا علاقہ بنادے،
(سورہ بقرہ سورہ ابراہیم)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بطور نظیر اس دعا کا ذکر کر کے اللہ تعالیٰ سے یہی دعا مزید اضافے کے ساتھ کی۔
اس دعا کا نتیجہ یہ ہے کہ دنیا بھر کا رزق اور پھل مکہ کی طرح مدینہ میں پہنچ رہا ہے اور جن ایمان والے بندوں کو مکہ سے محبت ہے ان سب کو مدینہ سے بھی محبت وپیار ہے۔
اور اس محبوبیت میں مدینہ کا حصہ مکہ سے بڑھ کر ہے نیز آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس دعا میں ابراہیم علیہ السلام کو اللہ کا بندہ،
اس کا خلیل اور اس کا نبی کہا ہےلیکن اپنے آپ کو صرف بندہ اور نبی کہا،
خلیل ہونے کا تذکرہ نہیں کیا،
یہ تواضع اور کسر نفس آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا اخلاق ہے۔
اورپھر آپ نیا اوردرخت کا پہلا پھل (نئے پھل)
اور کمسن بچے کی مناسبت سے یہ سبق دینے کے لیے اس کوعنایت فرماتے کہ ایسے موقعوں پر چھوٹے معصوم بچوں کو مقدم رکھنا چاہیے کیونکہ وہ تھوڑی چیز لے کر خوش ہو جاتے ہیں۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 3335]

Sunan Ibn Majah Hadith 3329 in Urdu