🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
38. باب : التمر
باب: کھجور کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3328
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدِّمَشْقِيُّ , حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ , حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ سَعْدٍ , عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ , عَنْ جَدَّتِهِ سَلْمَى , أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ:" بَيْتٌ لَا تَمْرَ فِيهِ , كَالْبَيْتِ لَا طَعَامَ فِيهِ".
سلمیٰ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس گھر میں کھجور نہ ہو وہ اس گھر کی طرح ہے جس میں کھانا ہی نہ ہو۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأطعمة/حدیث: 3328]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 15895، ومصباح الزجاجة: 1147) (حسن)» ‏‏‏‏ (عبیداللہ متکلم فیہ اور ہشام بن سعد ضعیف ہیں، نیز ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الضعیفة، للالبانی: 1776)
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥سلمى مولاة النبي، أم رافع، أم سلمىصحابي
👤←👥عبيد الله بن علي
Newعبيد الله بن علي ← سلمى مولاة النبي
صدوق حسن الحديث
👤←👥هشام بن سعد القرشي، أبو سعيد، أبو عباد، أبو سعد
Newهشام بن سعد القرشي ← عبيد الله بن علي
صدوق له أوهام
👤←👥محمد بن أبي فديك الديلي، أبو إسماعيل
Newمحمد بن أبي فديك الديلي ← هشام بن سعد القرشي
صدوق حسن الحديث
👤←👥دحيم القرشي، أبو سعيد
Newدحيم القرشي ← محمد بن أبي فديك الديلي
ثقة حافظ متقن
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن ابن ماجه
3328
بيت لا تمر فيه كالبيت لا طعام فيه
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 3328 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث3328
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
کھجور مکمل غذائی فوائد کی حامل ہے۔
اس کی موجودگی میں کوئی دوسری غذائی چیز موجود نہ ہو تب بھی گزارہ ہو سکتا ہے۔

(2)
کسی فصل کےموسم میں سال بھر کی ضرورت کے لیے غذائی چیز کو خرید کر رکھ لینا جائز ہے۔
ممنوع ذخیرہ اندوزی یہ ہے کہ عوام کو ایک چیز کی ضرورت ہو اور تاجر اسے بیچنے کی بجائے سنبھال کر رکھ لے تاکہ بھاؤ اور زیادہ ہو جائے۔

(3)
اس میں قناعت کا سبق ہے کہ جب کھجوریں موجود ہیں پھر طرح طرح کی اشیاء جمع کرنے کی کیا ضرورت ہے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3328]