🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

پی ڈی ایف کتاب کو ٹیکسٹ میں کیسے کنورٹ کیا جاتا ہے سیکھنے کے لیے ہماری کلاس جوائن کریں اپنے آپ کو رجسٹر کیجیے۔ مزید تفصیلات کے لیے اس نمبر پر رابطہ کریں۔
+92-331-5902482 New
سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
47. باب : الخبز الملبق بالسمن
باب: گھی میں چپڑی روٹی کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3341
حَدَّثَنَا هَدِيَّةُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ , حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى السِّينَانِيُّ , حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ وَاقِدٍ , عَنْ أَيُّوبَ , عَنْ نَافِعٍ , عَنْ ابْنِ عُمَرَ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ" وَدِدْتُ لَوْ أَنَّ عِنْدَنَا خُبْزَةً بَيْضَاءَ مِنْ بُرَّةٍ سَمْرَاءَ مُلَبَّقَةٍ بِسَمْنٍ نَأْكُلُهَا"، قَالَ: فَسَمِعَ بِذَلِكَ رَجُلٌ مِنْ الْأَنْصَارِ , فَاتَّخَذَهُ فَجَاءَ بِهِ إِلَيْهِ , فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" فِي أَيِّ شَيْءٍ كَانَ هَذَا السَّمْنُ؟" , قَالَ: فِي عُكَّةِ ضَبٍّ , قَالَ: فَأَبَى أَنْ يَأْكُلَهُ.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دن فرمایا: میری خواہش ہے کہ اگر ہمارے پاس گھی میں چپڑی ہوئی گیہوں کی سفید روٹی ہوتی، تو ہم اسے کھاتے، ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا کہ یہ بات انصار میں ایک شخص نے سن لی، تو اس نے یہ روٹی تیار کی، اور اسے لے کر آپ کے پاس آیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: یہ گھی کس چیز میں تھا؟ اس نے جواب دیا: گوہ کی کھال کی کپی میں، ابن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کھانے سے انکار کر دیا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأطعمة/حدیث: 3341]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میرا جی چاہتا ہے کہ ہمارے پاس بھوری گندم کی سفید روٹی ہوتی جس میں گھی ملا ہوتا، ہم اسے کھاتے۔ ایک انصاری نے یہ بات سنی اور ایسی روٹی تیار کر کے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کر دی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ گھی کس چیز میں رکھا ہوا تھا؟ اس نے کہا: سانڈے کی (کھال سے بنی ہوئی) کپی میں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ روٹی کھانے سے انکار کر دیا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأطعمة/حدیث: 3341]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الأطعمة 38 (3818)، (تحفة الأشراف: 7551) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (سند میں حسین بن واقد وہم و خطا والے راوی ہیں)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف جدًا
سنن أبي داود (3818)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 496

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن عمر العدوي، أبو عبد الرحمنصحابي
👤←👥نافع مولى ابن عمر، أبو عبد الله
Newنافع مولى ابن عمر ← عبد الله بن عمر العدوي
ثقة ثبت مشهور
👤←👥أيوب السختياني، أبو عثمان، أبو بكر
Newأيوب السختياني ← نافع مولى ابن عمر
ثقة ثبتت حجة
👤←👥الحسين بن واقد المروزي، أبو علي، أبو عبد الله
Newالحسين بن واقد المروزي ← أيوب السختياني
صدوق حسن الحديث
👤←👥الفضل بن موسى السيناني، أبو عبد الله
Newالفضل بن موسى السيناني ← الحسين بن واقد المروزي
ثقة ثبت ربما أغرب
👤←👥هدية بن عبد الوهاب المروزي، أبو صالح
Newهدية بن عبد الوهاب المروزي ← الفضل بن موسى السيناني
ثقة
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن أبي داود
3818
وددت أن عندي خبزة بيضاء من برة سمراء ملبقة بسمن ولبن فقام رجل من القوم فاتخذه
سنن ابن ماجه
3341
وددت لو أن عندنا خبزة بيضاء من برة سمراء ملبقة بسمن نأكلها قال فسمع بذلك رجل من الأنصار فاتخذه فجاء به إليه فقال رسول الله في أي شيء كان هذا السمن قال في عكة ضب قال فأبى أن يأكله
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 3341 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث3341
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
«ملبقة» کامطلب اچھی طرح ملا کر یک جان کی ہوئی چیز ہے۔ (محمد عبدالباقی۔
حاشہ سنن ابن ماجہ)
یعنی روٹی میں گھی اس طرح ڈالا گیاتھا کہ وہ مل جل گیا تھا اس لیے ہم نے اس کا ترجمہ، چیڑی روٹی، کے بجائے، پراٹھا، کیا ہے۔

(2)
«عکة» چمڑے کے بنے ہوئے گول برتن کوکہتے ہیں جس میں گھی یا شہد رکھا جاتا ہے۔ (النہایة۔
مادہ:
ع ک ک)

(3)
«ضب» کا ترجمہ، گوہ یا سانڈ، کیا جاتا ہے۔
دوسرے معنی زیادہ صحیح معلوم ہوتے ہیں۔
واللہ اعلم۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3341]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 3818
ایک وقت میں دو قسم کے کھانے جمع کرنا۔
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے گندمی رنگ کے گیہوں کی سفید روٹی جو گھی اور دودھ میں چپڑی ہوئی ہو بہت محبوب ہے تو قوم میں سے ایک شخص کھڑا ہوا اور اسے بنا کر آپ کی خدمت میں لایا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: یہ کس برتن میں تھا؟ اس نے کہا: سانڈا (سوسمار) کی کھال کے بنے ہوئے ایک برتن میں تھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر تو اسے اٹھا لے جاؤ۔‏‏‏‏ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ حدیث منکر ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اور اس حدیث میں وارد ایوب، ایوب سختیانی نہیں ہیں۔ [سنن ابي داود/كتاب الأطعمة /حدیث: 3818]
فوائد ومسائل:
فائدہ: یہ روایت سندا ضعیف ہے۔
اور اس قسم کی چیزوں کی خواہش کرنا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مزاج کے خلاف تھا۔
ویسے ایک وقت میں کھانے کی ایک سے زائد چیزیں مہیا ہوں تو ان کے کھانے میں قطعا ً کوئی عیب نہیں۔
بنیادی ضرورت یہ ہے کہ چیزیں حلال اور طیب ہوں۔
نیز یہ کہ اسراف بھی نہ ہو۔
آئندہ حدیث 3835۔
ومابعد میں اس کا ذکر آرہا ہے۔
امام بخاری نے بھی یہ روایت ذکرکی ہے۔
حضرت عبد اللہ بن جعفر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ تازہ کھجور ککڑی کے ساتھ کھا رہے تھے۔
(صحیح البخاري، الأطعمة، باب جمع اللونین أو الطعامین بمرة، حدیث: 5449) اس طرح ثرید اور حیس بھی کئی نوع کے کھانوں کا مرکب ہوتا ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضوان اللہ عنہم اجمعین کھایا کرتے تھے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 3818]

Sunan Ibn Majah Hadith 3341 in Urdu