پی ڈی ایف کتاب کو ٹیکسٹ میں کیسے کنورٹ کیا جاتا ہے سیکھنے کے لیے ہماری کلاس جوائن کریں اپنے آپ کو رجسٹر کیجیے۔ مزید تفصیلات کے لیے اس نمبر پر رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
38. باب في الجمع بين لونين من الطعام
باب: ایک وقت میں دو قسم کے کھانے جمع کرنا۔
حدیث نمبر: 3818
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ أَبِي رِزْمَةَ، أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى، عَنْ حُسَيْنِ بْنِ وَاقِدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: وَدِدْتُ أَنَّ عِنْدِي خُبْزَةً بَيْضَاءَ مِنْ بُرَّةٍ سَمْرَاءَ مُلَبَّقَةً بِسَمْنٍ وَلَبَنٍ، فَقَامَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ، فَاتَّخَذَهُ فَجَاءَ بِهِ، فَقَالَ: فِي أَيِّ شَيْءٍ كَانَ هَذَا؟ قَالَ: فِي عُكَّةِ ضَبٍّ، قَالَ: ارْفَعْهُ"، قَالَ أَبُو دَاوُد: هَذَا حَدِيثٌ مُنْكَرٌ، قَالَ أَبُو دَاوُد: وَأَيُّوبُ لَيْسَ هُوَ السَّخْتِيَانِيُّ.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے گندمی رنگ کے گیہوں کی سفید روٹی جو گھی اور دودھ میں چپڑی ہوئی ہو بہت محبوب ہے“ تو قوم میں سے ایک شخص کھڑا ہوا اور اسے بنا کر آپ کی خدمت میں لایا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”یہ کس برتن میں تھا؟“ اس نے کہا: سانڈا (سوسمار) کی کھال کے بنے ہوئے ایک برتن میں تھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر تو اسے اٹھا لے جاؤ“۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ حدیث منکر ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اور اس حدیث میں وارد ایوب، ایوب سختیانی نہیں ہیں۔ [سنن ابي داود/كتاب الأطعمة /حدیث: 3818]
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرا جی چاہ رہا ہے کہ گندم کی سفید روٹی کھاؤں جو گھی اور دودھ میں گوندھی گئی ہو۔“ تو لوگوں میں سے ایک شخص اٹھا اور پکوا کر لے آیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کر دی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”یہ گھی کس چیز میں تھا؟“ اس نے کہا: ”سانڈے کی کھال کی کپی میں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے اٹھا لو۔“ امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”یہ حدیث منکر ہے۔“ امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”سند میں مذکور ایوب، ایوب سختیانی نہیں ہے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الأطعمة /حدیث: 3818]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابن ماجہ/الأطعمة 47 (3341)، (تحفة الأشراف: 7551) (ضعیف)» (اس کے راوی ایوب بن خوط متروک الحدیث ہیں)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
ابن ماجه (3341)
أيوب ھذا ينظر فيه ولعله ابن خوط كما في النكت الظراف (75/9) وھو متروك (تقريب التهذيب: 612)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 136
إسناده ضعيف
ابن ماجه (3341)
أيوب ھذا ينظر فيه ولعله ابن خوط كما في النكت الظراف (75/9) وھو متروك (تقريب التهذيب: 612)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 136
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن أبي داود |
3818
| وددت أن عندي خبزة بيضاء من برة سمراء ملبقة بسمن ولبن فقام رجل من القوم فاتخذه |
سنن ابن ماجه |
3341
| وددت لو أن عندنا خبزة بيضاء من برة سمراء ملبقة بسمن نأكلها قال فسمع بذلك رجل من الأنصار فاتخذه فجاء به إليه فقال رسول الله في أي شيء كان هذا السمن قال في عكة ضب قال فأبى أن يأكله |
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 3818 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 3818
فوائد ومسائل:
فائدہ: یہ روایت سندا ضعیف ہے۔
اور اس قسم کی چیزوں کی خواہش کرنا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مزاج کے خلاف تھا۔
ویسے ایک وقت میں کھانے کی ایک سے زائد چیزیں مہیا ہوں تو ان کے کھانے میں قطعا ً کوئی عیب نہیں۔
بنیادی ضرورت یہ ہے کہ چیزیں حلال اور طیب ہوں۔
نیز یہ کہ اسراف بھی نہ ہو۔
آئندہ حدیث 3835۔
ومابعد میں اس کا ذکر آرہا ہے۔
امام بخاری نے بھی یہ روایت ذکرکی ہے۔
حضرت عبد اللہ بن جعفر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ تازہ کھجور ککڑی کے ساتھ کھا رہے تھے۔
(صحیح البخاري، الأطعمة، باب جمع اللونین أو الطعامین بمرة، حدیث: 5449) اس طرح ثرید اور حیس بھی کئی نوع کے کھانوں کا مرکب ہوتا ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضوان اللہ عنہم اجمعین کھایا کرتے تھے۔
فائدہ: یہ روایت سندا ضعیف ہے۔
اور اس قسم کی چیزوں کی خواہش کرنا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مزاج کے خلاف تھا۔
ویسے ایک وقت میں کھانے کی ایک سے زائد چیزیں مہیا ہوں تو ان کے کھانے میں قطعا ً کوئی عیب نہیں۔
بنیادی ضرورت یہ ہے کہ چیزیں حلال اور طیب ہوں۔
نیز یہ کہ اسراف بھی نہ ہو۔
آئندہ حدیث 3835۔
ومابعد میں اس کا ذکر آرہا ہے۔
امام بخاری نے بھی یہ روایت ذکرکی ہے۔
حضرت عبد اللہ بن جعفر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ تازہ کھجور ککڑی کے ساتھ کھا رہے تھے۔
(صحیح البخاري، الأطعمة، باب جمع اللونین أو الطعامین بمرة، حدیث: 5449) اس طرح ثرید اور حیس بھی کئی نوع کے کھانوں کا مرکب ہوتا ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضوان اللہ عنہم اجمعین کھایا کرتے تھے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 3818]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث3341
گھی میں چپڑی روٹی کا بیان۔
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دن فرمایا: ”میری خواہش ہے کہ اگر ہمارے پاس گھی میں چپڑی ہوئی گیہوں کی سفید روٹی ہوتی، تو ہم اسے کھاتے، ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا کہ یہ بات انصار میں ایک شخص نے سن لی، تو اس نے یہ روٹی تیار کی، اور اسے لے کر آپ کے پاس آیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: یہ گھی کس چیز میں تھا؟ اس نے جواب دیا: گوہ کی کھال کی کپی میں، ابن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کھانے سے انکار کر دیا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأطعمة/حدیث: 3341]
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دن فرمایا: ”میری خواہش ہے کہ اگر ہمارے پاس گھی میں چپڑی ہوئی گیہوں کی سفید روٹی ہوتی، تو ہم اسے کھاتے، ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا کہ یہ بات انصار میں ایک شخص نے سن لی، تو اس نے یہ روٹی تیار کی، اور اسے لے کر آپ کے پاس آیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: یہ گھی کس چیز میں تھا؟ اس نے جواب دیا: گوہ کی کھال کی کپی میں، ابن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کھانے سے انکار کر دیا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأطعمة/حدیث: 3341]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
«ملبقة» کامطلب اچھی طرح ملا کر یک جان کی ہوئی چیز ہے۔ (محمد عبدالباقی۔
حاشہ سنن ابن ماجہ)
یعنی روٹی میں گھی اس طرح ڈالا گیاتھا کہ وہ مل جل گیا تھا اس لیے ہم نے اس کا ترجمہ، چیڑی روٹی، کے بجائے، پراٹھا، کیا ہے۔
(2)
«عکة» چمڑے کے بنے ہوئے گول برتن کوکہتے ہیں جس میں گھی یا شہد رکھا جاتا ہے۔ (النہایة۔
مادہ:
ع ک ک)
(3)
«ضب» کا ترجمہ، گوہ یا سانڈ، کیا جاتا ہے۔
دوسرے معنی زیادہ صحیح معلوم ہوتے ہیں۔
واللہ اعلم۔
فوائد و مسائل:
(1)
«ملبقة» کامطلب اچھی طرح ملا کر یک جان کی ہوئی چیز ہے۔ (محمد عبدالباقی۔
حاشہ سنن ابن ماجہ)
یعنی روٹی میں گھی اس طرح ڈالا گیاتھا کہ وہ مل جل گیا تھا اس لیے ہم نے اس کا ترجمہ، چیڑی روٹی، کے بجائے، پراٹھا، کیا ہے۔
(2)
«عکة» چمڑے کے بنے ہوئے گول برتن کوکہتے ہیں جس میں گھی یا شہد رکھا جاتا ہے۔ (النہایة۔
مادہ:
ع ک ک)
(3)
«ضب» کا ترجمہ، گوہ یا سانڈ، کیا جاتا ہے۔
دوسرے معنی زیادہ صحیح معلوم ہوتے ہیں۔
واللہ اعلم۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3341]
Sunan Abi Dawud Hadith 3818 in Urdu
نافع مولى ابن عمر ← عبد الله بن عمر العدوي