🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
25. باب : النهي عن البول في الماء الراكد
باب: ٹھہرے ہوئے پانی میں پیشاب کرنا منع ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 343
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ ، أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ" نَهَى عَنْ أَنْ يُبَالَ فِي الْمَاءِ الرَّاكِدِ".
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ٹھہرے ہوئے پانی میں پیشاب کرنے سے منع فرمایا ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 343]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الطہارة 28 (281)، سنن النسائی/ الطہا رة 31 (35)، (تحفة الأشراف: 2911)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/ 341، 350) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: ٹھہرے ہوئے پانی سے مراد وہ پانی ہے جو نہر اور دریا کے پانی کی طرح جاری نہ ہو، جیسے گڑھا، جھیل اور تالاب وغیرہ کا پانی ان میں پیشاب کرنا منع ہے، تو پاخانہ کرنا بدرجہ اولیٰ منع ہو گا۔ ممانعت کی وجہ یہ ہے کہ ٹھہرے ہوئے پانی میں ویسے ہی سڑاند پیدا ہو جاتی ہے اور وہ بدبودار ہو جاتا ہے، اگر اس میں مزید نجاست اور گندگی ڈال دی جائے، تو یہ پانی مزید بدبودار ہو جائے گا، اور اس کی سڑاند سے قرب و جوار کے لوگوں کو تکلیف پہنچے گی، اور صحت عامہ میں خلل پیدا ہو گا، اور ماحول آلودہ ہو گا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥جابر بن عبد الله الأنصاري، أبو محمد، أبو عبد الله، أبو عبد الرحمنصحابي
👤←👥محمد بن مسلم القرشي، أبو الزبير
Newمحمد بن مسلم القرشي ← جابر بن عبد الله الأنصاري
صدوق إلا أنه يدلس
👤←👥الليث بن سعد الفهمي، أبو الحارث
Newالليث بن سعد الفهمي ← محمد بن مسلم القرشي
ثقة ثبت فقيه إمام مشهور
👤←👥محمد بن رمح التجيبي، أبو عبد الله
Newمحمد بن رمح التجيبي ← الليث بن سعد الفهمي
ثقة ثبت
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن النسائى الصغرى
35
عن البول في الماء الراكد
صحيح مسلم
655
يبال في الماء الراكد
سنن ابن ماجه
343
نهى عن أن يبال في الماء الراكد
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 343 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث343
اردو حاشہ:
(1)
ٹھہرے ہوئے پانی سے مراد تالاب وغیرہ کا وہ پانی ہے جو جاری نہیں۔
ایسے پانی میں اگر لوگ پیشاب کرتے رہیں گے تو وہ انتہائی گندا ہوجائے گا اور قابل استعمال نہیں رہے گا۔

(2)
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اگر پانی بہہ رہا ہو جیسے ندی نہر یا دریا کا پانی ہوتا ہے تو اس میں پیشاب کرنا منع نہیں، تاہم اجتناب بہتر ہے۔
کیونکہ یہ صفائی اور نظافت کے خلاف ہے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 343]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث 35
ٹھہرے ہوئے پانی میں پیشاب کرنے کی ممانعت۔
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ٹھہرے ہوئے پانی میں پیشاب کرنے سے منع فرمایا ہے۔ [سنن نسائي/ذكر الفطرة/حدیث: 35]
35۔ اردو حاشیہ: ٹھہرے ہوئے پانی میں پیشاب کیا جائے، تو وہ نجاست بھی پانی کے ساتھ رکی رہے گی۔ اس سے تعفن اور بدبو پیدا ہو گی۔ زیادہ آدمیوں کے پیشاب کرنے سے پانی کا رنگ، بو اور ذائقہ بھی بدل سکتا ہے، جس سے پانی پلید ہو جائے گا اور قابل استعمال نہ رہے گا۔ جاری پانی میں یہ خدشات نہیں، لہٰذا انتہائی مجبوری کے وقت جاری پانی میں پیشاب کیا جا سکتا ہے۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 35]