سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
24. باب : النهي عن الاجتماع على الخلاء والحديث عنده
باب: ایک ساتھ بیٹھ کر پاخانہ کرنا اور اس میں بات چیت کرنی منع ہے۔
حدیث نمبر: 342
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَجَاءٍ ، أَنْبَأَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ هِلَالِ بْنِ عِيَاضٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" لَا يَتَنَاجَى اثْنَانِ عَلَى غَائِطِهِمَا، يَنْظُرُ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا إِلَى عَوْرَةِ صَاحِبِهِ، فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَمْقُتُ عَلَى ذَلِكَ".
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قضائے حاجت کے وقت دو آدمی آپس میں کانا پھوسی نہ کریں کہ آپس میں ہر ایک دوسرے کی شرمگاہ دیکھ رہا ہو، اس لیے کہ اللہ تعالیٰ اس سے سخت ناراض ہوتا ہے“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 342]
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قضائے حاجت کرتے وقت دو آدمی باتیں نہ کریں کہ ہر ایک کی نظر اپنے ساتھی کے پردے کے اعضاء پر پڑ رہی ہو۔ اللہ تعالیٰ اس (غلط کام) سے سخت ناراض ہوتا ہے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 342]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الطہارة 7 (15)، (تحفة الأشراف: 4397)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/ 16، 36) (صحیح)» (اس کی سند میں کلام ہے، کیونکہ ہلال بن عیاض مجہول راوی ہیں، اور عکرمہ بن عمار سے اس حدیث کی روایت میں سخت اضطراب کا شکار ہوئے، لیکن متابعت اور شاہد کی وجہ سے حدیث صحیح ہے، ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الصحیحة، للالبانی: 3120، وصحیح ابی داود: 11/م، و تراجع الالبانی، رقم: 7)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
سنن أبي داود (15)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 389
إسناده ضعيف
سنن أبي داود (15)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 389
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن أبي داود |
15
| لا يخرج الرجلان يضربان الغائط كاشفين عن عورتهما يتحدثان فإن الله يمقت على ذلك |
سنن ابن ماجه |
342
| لا يتناجى اثنان على غائطهما ينظر كل واحد منهما إلى عورة صاحبه فإن الله يمقت على ذلك |
صحيح ابن خزيمة |
71
| لا يخرج الرجلان يضربان الغائط كاشفين عن عورتهما يتحدثان فإن الله يمقت على ذلك |
بلوغ المرام |
82
| إذا تغوط الرجلان فليتوار كل واحد منهما عن صاحبه، ولا يتحدثا، فإن الله يمقت على ذلك |
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 342 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث342
اردو حاشہ:
(1)
حدیث کی اس سند میں ضعف ہے البتہ یہی حدیث دوسری سندوں کے ساتھ حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ اور حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔ دیکھیے: (صحیح الجامع الصغیر، حدیث: 6013)
(2)
جب انسان قضائے حاجت کےوقت اپنا ستر کھولے ہوئے ہو تو اسے بات چیت کرنے سے پرہیز کرنا چاہیے۔
یہ شرم و حیا کے منافی ہے۔
اسی لیے اللہ تعالی ناراض ہوتا ہے۔
(3)
باتیں کرنا اس لیے بھی منع ہے کہ باتیں کرتے وقت انھیں ایک دوسرے کے قریب بیٹھنا پڑے گا جس کی وجہ سے پردے کا اہتمام نہیں ہوسکے گا اور ایک دوسرے کے پوشیدہ اعضاء پر نظر پڑے گی اور کسی کے پردے کے اعضاء کو دیکھنا اور اپنے پوشیدہ اعضاء کسی کو دکھانا گناہ ہے۔
(1)
حدیث کی اس سند میں ضعف ہے البتہ یہی حدیث دوسری سندوں کے ساتھ حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ اور حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔ دیکھیے: (صحیح الجامع الصغیر، حدیث: 6013)
(2)
جب انسان قضائے حاجت کےوقت اپنا ستر کھولے ہوئے ہو تو اسے بات چیت کرنے سے پرہیز کرنا چاہیے۔
یہ شرم و حیا کے منافی ہے۔
اسی لیے اللہ تعالی ناراض ہوتا ہے۔
(3)
باتیں کرنا اس لیے بھی منع ہے کہ باتیں کرتے وقت انھیں ایک دوسرے کے قریب بیٹھنا پڑے گا جس کی وجہ سے پردے کا اہتمام نہیں ہوسکے گا اور ایک دوسرے کے پوشیدہ اعضاء پر نظر پڑے گی اور کسی کے پردے کے اعضاء کو دیکھنا اور اپنے پوشیدہ اعضاء کسی کو دکھانا گناہ ہے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 342]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
علامه صفي الرحمن مبارك پوري رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث بلوغ المرام 82
قابلِ ستر اعضاء کو چھپانا واجب ہے
«. . . قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: إذا تغوط الرجلان فليتوار كل واحد منهما عن صاحبه، ولا يتحدثا، فإن الله يمقت على ذلك . . .»
”. . . رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب دو آدمی قضائے حاجت کریں تو ان کو ایک دوسرے سے پردہ میں ہونا چاہیئے اور اس حالت میں ایک دوسرے سے باہم گفتگو بھی نہ کریں اس لئے کہ ایسے فعل پر اللہ تعالیٰ ناراض ہوتے ہیں . . .“ [بلوغ المرام/كتاب الطهارة: 82]
«. . . قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: إذا تغوط الرجلان فليتوار كل واحد منهما عن صاحبه، ولا يتحدثا، فإن الله يمقت على ذلك . . .»
”. . . رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب دو آدمی قضائے حاجت کریں تو ان کو ایک دوسرے سے پردہ میں ہونا چاہیئے اور اس حالت میں ایک دوسرے سے باہم گفتگو بھی نہ کریں اس لئے کہ ایسے فعل پر اللہ تعالیٰ ناراض ہوتے ہیں . . .“ [بلوغ المرام/كتاب الطهارة: 82]
� لغوی تشریح:
«تَغَوَّطَ» قضائے حاجت کے لیے نکلے اور اپنی حاجت پوری کرے۔
«فَلْیَتَوَارَ» اس میں ”لام“ امر کا ہے اور ”را“ پر فتحہ ہے۔ معنی ہیں کہ چھپنا چاہیے، پردے میں ہونا چاہیے۔
«وَلَا یَتَحَدَّثَا» قضائے حاجت کے وقت دونوں کو بات چیت نہیں کرنی چاہیے۔
«یمقت» «مقت» سے ماخوز ہے، سخت ناراضی کو کہتے ہیں۔
«علی ذلک» اس کا مشار الیہ مذکورہ تمام چیزیں ہیں، یعنی دونوں کے مابین پردے کا نہ ہونا اور رفع حاجت کے وقت بات چیت کرنا مراد ہے۔
«وَھُوَ مَعْلُوْلٌ» کہا گیا ہے کہ اس حدیث میں علت یہ ہے کہ اسے عکرمہ بن عمار نے یحییٰ بن ابی کثیر سے روایت کیا ہے۔ عکرمہ منفرد ہے اور اس کی یحییٰ سے روایت میں کلام ہے، البتہ امام مسلم اور امام بخاری رحمہ اللہ رحمہما اللہ نے یحییٰ کی روایت کو بطور استشہاد ذکر کیا ہے۔
فوائد ومسائل:
➊ علامہ ابن حجر عسقلانی رحمہ اللہ نے اس حدیث کو عکرمہ بن عمار عن یحییٰ بن ابی کثیر کی وجہ سے معلول قرار دیا ہے، تاہم دوسری صحیح احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ قابل ستر اعضاء کو چھپانا واجب ہے، نیز قضائے حاجت، یعنی بول و براز کے وقت باہم گفتگو کرنا حرام ہے، اس لیے ایسے فعل پر اللہ تعالیٰ کی ناراضی اور بغض شدید کی صورت میں وعید فرمائی گئی ہے۔
➋ اگر یہ فعل بقول بعض مکروہ ہوتا تو اتنی سخت وعید کی ضرورت نہیں تھی۔ ایسے موقع پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سلام کا جواب چھوڑنا بھی عملاً ثابت ہے جو اس کا مؤید ہے۔
«تَغَوَّطَ» قضائے حاجت کے لیے نکلے اور اپنی حاجت پوری کرے۔
«فَلْیَتَوَارَ» اس میں ”لام“ امر کا ہے اور ”را“ پر فتحہ ہے۔ معنی ہیں کہ چھپنا چاہیے، پردے میں ہونا چاہیے۔
«وَلَا یَتَحَدَّثَا» قضائے حاجت کے وقت دونوں کو بات چیت نہیں کرنی چاہیے۔
«یمقت» «مقت» سے ماخوز ہے، سخت ناراضی کو کہتے ہیں۔
«علی ذلک» اس کا مشار الیہ مذکورہ تمام چیزیں ہیں، یعنی دونوں کے مابین پردے کا نہ ہونا اور رفع حاجت کے وقت بات چیت کرنا مراد ہے۔
«وَھُوَ مَعْلُوْلٌ» کہا گیا ہے کہ اس حدیث میں علت یہ ہے کہ اسے عکرمہ بن عمار نے یحییٰ بن ابی کثیر سے روایت کیا ہے۔ عکرمہ منفرد ہے اور اس کی یحییٰ سے روایت میں کلام ہے، البتہ امام مسلم اور امام بخاری رحمہ اللہ رحمہما اللہ نے یحییٰ کی روایت کو بطور استشہاد ذکر کیا ہے۔
فوائد ومسائل:
➊ علامہ ابن حجر عسقلانی رحمہ اللہ نے اس حدیث کو عکرمہ بن عمار عن یحییٰ بن ابی کثیر کی وجہ سے معلول قرار دیا ہے، تاہم دوسری صحیح احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ قابل ستر اعضاء کو چھپانا واجب ہے، نیز قضائے حاجت، یعنی بول و براز کے وقت باہم گفتگو کرنا حرام ہے، اس لیے ایسے فعل پر اللہ تعالیٰ کی ناراضی اور بغض شدید کی صورت میں وعید فرمائی گئی ہے۔
➋ اگر یہ فعل بقول بعض مکروہ ہوتا تو اتنی سخت وعید کی ضرورت نہیں تھی۔ ایسے موقع پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سلام کا جواب چھوڑنا بھی عملاً ثابت ہے جو اس کا مؤید ہے۔
[بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث/صفحہ نمبر: 82]
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ : 71
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”دو شخص قضائے حاجت کے لیے اس حالت میں نہ نکلیں کہ اُنہوں نے اپنی شرم گاہیں کھولی ہوئی ہوں اور وہ باتیں کر رہے ہوں۔ بیشک اللہ عزوجل اس پر سخت ناراض ہوتا ہے... [صحيح ابن خزيمه: 71]
فوائد:
یہ حدیث دلیل ہے کہ دو یا دو سے زائد افراد کا ایک ساتھ بیٹھ کر پاخانہ کرنا کہ ان کے ستر کھلے ہوں اور پاخانہ کرتے وقت باہم گفتگو کرنا حرام اور اللہ تعالیٰ کی ناراضی کا سبب ہے لٰہذا اس فعل قبیح سے اجتناب کرنا چاہیے۔ بالخصوص دیہاتی عورتوں میں یہ مرض عام ہے۔ لٰہذا اس کی اصلاح کرنی چاہیے۔
یہ حدیث دلیل ہے کہ دو یا دو سے زائد افراد کا ایک ساتھ بیٹھ کر پاخانہ کرنا کہ ان کے ستر کھلے ہوں اور پاخانہ کرتے وقت باہم گفتگو کرنا حرام اور اللہ تعالیٰ کی ناراضی کا سبب ہے لٰہذا اس فعل قبیح سے اجتناب کرنا چاہیے۔ بالخصوص دیہاتی عورتوں میں یہ مرض عام ہے۔ لٰہذا اس کی اصلاح کرنی چاہیے۔
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 71]
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث سنن ابي داود 15
قضائے حاجت کے وقت بات چیت مکروہ
«. . . سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: لا يَخْرُجْ الرَّجُلَانِ يَضْرِبَانِ الْغَائِطَ كَاشِفَيْنِ عَنْ عَوْرَتِهِمَا يَتَحَدَّثَانِ، فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَمْقُتُ عَلَى ذَلِكَ . . .»
”. . . میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا ”دو آدمی قضائے حاجت (پیشاب و پاخانہ) کے وقت شرمگاہ کھولے ہوئے آپس میں باتیں نہ کریں کیونکہ اس سے اللہ تعالیٰ ناراض ہوتا ہے۔“ [سنن ابي داود/كِتَاب الطَّهَارَةِ: 15]
«. . . سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: لا يَخْرُجْ الرَّجُلَانِ يَضْرِبَانِ الْغَائِطَ كَاشِفَيْنِ عَنْ عَوْرَتِهِمَا يَتَحَدَّثَانِ، فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَمْقُتُ عَلَى ذَلِكَ . . .»
”. . . میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا ”دو آدمی قضائے حاجت (پیشاب و پاخانہ) کے وقت شرمگاہ کھولے ہوئے آپس میں باتیں نہ کریں کیونکہ اس سے اللہ تعالیٰ ناراض ہوتا ہے۔“ [سنن ابي داود/كِتَاب الطَّهَارَةِ: 15]
فوائد و مسائل
یہ روایت اگرچہ سنداً ضعیف ہے، لیکن دوسری صحیح روایات سے قضائے حاجت کے وقت ایک دوسرے کے سامنے اپنی شرمگاہیں کھولنے اور باہم گفتگو کرنے کی ممانعت ثابت ہوتی ہے جیسے حدیث ہے: ” مرد، مرد کی شرم گاہ اور عورت، عورت کی شرم گاہ کی طرف نہ دیکھے۔“ [صحيح مسلم، الحيض، حديث: 338] دوسری حدیث میں ہے: ” ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے گزرا جب کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پیشاب کر رہے تھے، اس نے آپ کو سلام کیا لیکن آپ نے سلام کا جواب نہیں دیا۔ [صحيح مسلم، الحيض، حديث: 370] حالانکہ سلام کا جواب دینا ضروری ہے، اس کے باوجود آپ نے جواب نہیں دیا۔ اس سے معلوم ہوا کہ جب سلام کا جواب دینا پسند نہیں، تو دوسری باتیں کرنا کس طرح جائز ہو گا؟ غالباً اسی وجہ سے بعض علماء نے ابوداؤد کی زیربحث حدیث کو صحیح لغیرہ قرار دیا ہے۔ ملاحظہ ہو: [الموسوعة الحديثية، مسند الامام احمد، ج: 17، حديث: 11310۔ صحيح الترغيب، 1۔ 175]
یہ روایت اگرچہ سنداً ضعیف ہے، لیکن دوسری صحیح روایات سے قضائے حاجت کے وقت ایک دوسرے کے سامنے اپنی شرمگاہیں کھولنے اور باہم گفتگو کرنے کی ممانعت ثابت ہوتی ہے جیسے حدیث ہے: ” مرد، مرد کی شرم گاہ اور عورت، عورت کی شرم گاہ کی طرف نہ دیکھے۔“ [صحيح مسلم، الحيض، حديث: 338] دوسری حدیث میں ہے: ” ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے گزرا جب کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پیشاب کر رہے تھے، اس نے آپ کو سلام کیا لیکن آپ نے سلام کا جواب نہیں دیا۔ [صحيح مسلم، الحيض، حديث: 370] حالانکہ سلام کا جواب دینا ضروری ہے، اس کے باوجود آپ نے جواب نہیں دیا۔ اس سے معلوم ہوا کہ جب سلام کا جواب دینا پسند نہیں، تو دوسری باتیں کرنا کس طرح جائز ہو گا؟ غالباً اسی وجہ سے بعض علماء نے ابوداؤد کی زیربحث حدیث کو صحیح لغیرہ قرار دیا ہے۔ ملاحظہ ہو: [الموسوعة الحديثية، مسند الامام احمد، ج: 17، حديث: 11310۔ صحيح الترغيب، 1۔ 175]
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 15]
حدیث نمبر: 342M
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا سَلْمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْوَرَّاقُ ، حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِير ، عَنْ عِيَاضِ بْنِ هِلَالٍ ، قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى: وَهُوَ الصَّوَابُ.
اس سند سے بھی یہ حدیث مروی ہے، اس میں ہلال بن عیاض کے بجائے عیاض بن ہلال ہے، محمد بن یحییٰ کہتے ہیں: یہی صحیح ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 342M]
قال الشيخ الألباني: ضعيف
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥عياض بن أبي زهير الأنصاري | مجهول | |
👤←👥يحيى بن أبي كثير الطائي، أبو نصر يحيى بن أبي كثير الطائي ← عياض بن أبي زهير الأنصاري | ثقة ثبت لكنه يدلس ويرسل | |
👤←👥عكرمة بن عمار العجلي، أبو عمار عكرمة بن عمار العجلي ← يحيى بن أبي كثير الطائي | صدوق يغلط | |
👤←👥سلم بن إبراهيم الوراق، أبو محمد سلم بن إبراهيم الوراق ← عكرمة بن عمار العجلي | متهم بالكذب | |
👤←👥محمد بن يحيى الذهلي، أبو عبد الله محمد بن يحيى الذهلي ← سلم بن إبراهيم الوراق | ثقة حافظ جليل |
حدیث نمبر: 342M
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ ، عَنْ عِكْرِمَةَ بْنِ عَمَّارٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ عِيَاضِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، نَحْوَهُ.
اس سند سے بھی اسی جیسی حدیث مروی ہے لیکن اس سند میں عیاض بن عبداللہ ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 342M]
قال الشيخ الألباني: ضعيف
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥عياض بن أبي زهير الأنصاري | مجهول | |
👤←👥يحيى بن أبي كثير الطائي، أبو نصر يحيى بن أبي كثير الطائي ← عياض بن أبي زهير الأنصاري | ثقة ثبت لكنه يدلس ويرسل | |
👤←👥عكرمة بن عمار العجلي، أبو عمار عكرمة بن عمار العجلي ← يحيى بن أبي كثير الطائي | صدوق يغلط | |
👤←👥سفيان الثوري، أبو عبد الله سفيان الثوري ← عكرمة بن عمار العجلي | ثقة حافظ فقيه إمام حجة وربما دلس | |
👤←👥علي بن أبي بكرالرازي، أبو الحسن علي بن أبي بكرالرازي ← سفيان الثوري | ثقة | |
👤←👥محمد بن حميد التميمي، أبو عبد الله محمد بن حميد التميمي ← علي بن أبي بكرالرازي | متروك الحديث |
Sunan Ibn Majah Hadith 342 in Urdu
عياض بن أبي زهير الأنصاري ← أبو سعيد الخدري