سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
8. باب : الكمأة والعجوة
باب: کھمبی اور عجوہ کھجور کا بیان۔
حدیث نمبر: 3455
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ , حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الصَّمَدِ , حَدَّثَنَا مَطَرٌ الْوَرَّاقُ , عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قَالَ: كُنَّا نَتَحَدَّثُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرْنَا الْكَمْأَةَ , فَقَالُوا: هُوَ جُدَرِيُّ الْأَرْضِ , فَنُمِيَ الْحَدِيثُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَالَ:" الْكَمْأَةُ مِنَ الْمَنِّ , وَالْعَجْوَةُ مِنَ الْجَنَّةِ , وَهِيَ شِفَاءٌ مِنَ السَّمِّ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گفتگو کر رہے تھے کہ کھمبی کا ذکر آ گیا، تو لوگوں نے کہا: وہ تو زمین کی چیچک ہے، یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کھمبی «منّ» میں سے ہے، اور عجوہ کھجور جنت کا پھل ہے، اور اس میں زہر سے شفاء ہے“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطب/حدیث: 3455]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/الطب 22 (2068)، (تحفة الأشراف: 13496)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/301، 305، 356، 357، 421، 488، 490، 511)، سنن الدارمی/الرقاق 115 (2882) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥أبو هريرة الدوسي | صحابي | |
👤←👥شهر بن حوشب الأشعري، أبو سعيد، أبو عبد الله، أبو عبد الرحمن، أبو الجعد شهر بن حوشب الأشعري ← أبو هريرة الدوسي | صدوق كثير الإرسال والأوهام | |
👤←👥مطر بن طهمان الوراق، أبو رجاء مطر بن طهمان الوراق ← شهر بن حوشب الأشعري | وحديثه عن عطاء ضعيف، صدوق كثير الخطأ | |
👤←👥عبد العزيز بن عبد الصمد العمي، أبو عبد الصمد عبد العزيز بن عبد الصمد العمي ← مطر بن طهمان الوراق | ثقة حافظ | |
👤←👥محمد بن بشار العبدي، أبو بكر محمد بن بشار العبدي ← عبد العزيز بن عبد الصمد العمي | ثقة حافظ |
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
جامع الترمذي |
2066
| العجوة من الجنة وفيها شفاء من السم الكمأة من المن وماؤها شفاء للعين |
جامع الترمذي |
2068
| الكمأة من المن وماؤها شفاء للعين العجوة من الجنة وهي شفاء من السم |
سنن ابن ماجه |
3455
| الكمأة من المن العجوة من الجنة وهي شفاء من السم |
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 3455 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث3455
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
جنت سے ہونے کا مطلب یہ ہے کہ یہ برکت والی ہے۔
یا کھجور کی یہ قسم جنت سے زمین پر آئی ہے۔
جسطرح حجراسود جنت سے زمین پر بھیجا گیا ہے۔
واللہ اعلم۔
فوائد و مسائل:
جنت سے ہونے کا مطلب یہ ہے کہ یہ برکت والی ہے۔
یا کھجور کی یہ قسم جنت سے زمین پر آئی ہے۔
جسطرح حجراسود جنت سے زمین پر بھیجا گیا ہے۔
واللہ اعلم۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3455]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 2066
صحرائے عرب میں زیر زمین پائی جانے والی ایک ترکاری (فقعہ) اور عجوہ کھجور کا بیان۔
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عجوہ (کھجور) جنت کا پھل ہے، اس میں زہر سے شفاء موجود ہے اور صحرائے عرب کا «فقعہ» ۱؎ ایک طرح کا «من» (سلوی والا «من» ) ہے، اس کا عرق آنکھ کے لیے شفاء ہے۔“ [سنن ترمذي/كتاب الطب عن رسول اللَّهِ صلى الله عليه وسلم/حدیث: 2066]
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عجوہ (کھجور) جنت کا پھل ہے، اس میں زہر سے شفاء موجود ہے اور صحرائے عرب کا «فقعہ» ۱؎ ایک طرح کا «من» (سلوی والا «من» ) ہے، اس کا عرق آنکھ کے لیے شفاء ہے۔“ [سنن ترمذي/كتاب الطب عن رسول اللَّهِ صلى الله عليه وسلم/حدیث: 2066]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
یہاں حدیث میں وارد لفظ (الکمأۃ) کا ترجمہ ”کھمبی“ قطعاً درست نہیں ہے ”الکمأۃ“ کوعربوں کی عامی زبان میں ”فقعہ“ کہا جاتا ہے،
یہ فقعہ موسم سرما کی بارشوں کے بعد صحرائے نجد ونفود کبریٰ،
مملکت سعودیہ کے شمال اورملکِ عراق کے جنوب میں پھیلے ہوئے بہت بڑے صحراء میں زیر زمین پھیلتا ہے،
اس کی رنگت اورشکل وصورت آلو جیسی ہوتی ہے،
جب کہ کھمبی زمین سے باہر اورہندوستان کے ریتلے علاقوں میں ہوتی ہے،
ابن القیم،
ابن حجر اوردیگرعلماء اُمّت نے (الکمأۃ) کی جوتعریف لکھی ہے اس کے مطابق بھی (الکمأۃ) درحقیقت فقعہ ہے کھمبی نہیں،
(تفصیل کے لیے فتح الباری اورتحفۃ الأحوذی کا مطالعہ کرلیں،
نیز اس پر تفصیلی کلام ابن ماجہ کے حدیث نمبر (3455) کے حاشہ میں ملاحظہ کریں،
اور جہاں بھی کمأۃ کا ترجمہ کھمبی لکھا ہے،
اس کی جگہ ”فقعہ“ لکھ لیں۔
وضاحت:
1؎:
یہاں حدیث میں وارد لفظ (الکمأۃ) کا ترجمہ ”کھمبی“ قطعاً درست نہیں ہے ”الکمأۃ“ کوعربوں کی عامی زبان میں ”فقعہ“ کہا جاتا ہے،
یہ فقعہ موسم سرما کی بارشوں کے بعد صحرائے نجد ونفود کبریٰ،
مملکت سعودیہ کے شمال اورملکِ عراق کے جنوب میں پھیلے ہوئے بہت بڑے صحراء میں زیر زمین پھیلتا ہے،
اس کی رنگت اورشکل وصورت آلو جیسی ہوتی ہے،
جب کہ کھمبی زمین سے باہر اورہندوستان کے ریتلے علاقوں میں ہوتی ہے،
ابن القیم،
ابن حجر اوردیگرعلماء اُمّت نے (الکمأۃ) کی جوتعریف لکھی ہے اس کے مطابق بھی (الکمأۃ) درحقیقت فقعہ ہے کھمبی نہیں،
(تفصیل کے لیے فتح الباری اورتحفۃ الأحوذی کا مطالعہ کرلیں،
نیز اس پر تفصیلی کلام ابن ماجہ کے حدیث نمبر (3455) کے حاشہ میں ملاحظہ کریں،
اور جہاں بھی کمأۃ کا ترجمہ کھمبی لکھا ہے،
اس کی جگہ ”فقعہ“ لکھ لیں۔
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 2066]
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 2068
صحرائے عرب میں زیر زمین پائی جانے والی ایک ترکاری (فقعہ) اور عجوہ کھجور کا بیان۔
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ صحابہ میں سے کچھ لوگوں نے کہا: کھنبی زمین کی چیچک ہے، (یہ سن کر) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”صحرائے عرب کا «فقعہ» ایک طرح کا «من» ہے، اس کا عرق آنکھ کے لیے شفاء ہے، اور عجوہ کھجور جنت کے پھلوں میں سے ایک پھل ہے، وہ زہر کے لیے شفاء ہے۔“ [سنن ترمذي/كتاب الطب عن رسول اللَّهِ صلى الله عليه وسلم/حدیث: 2068]
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ صحابہ میں سے کچھ لوگوں نے کہا: کھنبی زمین کی چیچک ہے، (یہ سن کر) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”صحرائے عرب کا «فقعہ» ایک طرح کا «من» ہے، اس کا عرق آنکھ کے لیے شفاء ہے، اور عجوہ کھجور جنت کے پھلوں میں سے ایک پھل ہے، وہ زہر کے لیے شفاء ہے۔“ [سنن ترمذي/كتاب الطب عن رسول اللَّهِ صلى الله عليه وسلم/حدیث: 2068]
اردو حاشہ:
نوٹ:
(سند میں شہر بن حوشب ضعیف راوی ہیں،
لیکن اوپر کی حدیث سے تقویت پاکر یہ حدیث بھی صحیح ہے)
نوٹ:
(سند میں شہر بن حوشب ضعیف راوی ہیں،
لیکن اوپر کی حدیث سے تقویت پاکر یہ حدیث بھی صحیح ہے)
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 2068]
شهر بن حوشب الأشعري ← أبو هريرة الدوسي