سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
32. باب : العين
باب: نظر بد کا بیان۔
حدیث نمبر: 3509
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ , حَدَّثَنَا سُفْيَانُ , عَنْ الزُّهْرِيِّ , عَنْ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ , قَالَ: مَرَّ عَامِرُ بْنُ رَبِيعَةَ , بِسَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ وَهُوَ يَغْتَسِلُ , فَقَالَ: لَمْ أَرَ كَالْيَوْمِ وَلَا جِلْدَ مُخَبَّأَةٍ , فَمَا لَبِثَ أَنْ لُبِطَ بِهِ , فَأُتِيَ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقِيلَ لَهُ: أَدْرِكْ سَهْلًا صَرِيعًا , قَالَ:" مَنْ تَتَّهِمُونَ بِهِ؟" , قَالُوا: عَامِرَ بْنَ رَبِيعَةَ , قَالَ:" عَلَامَ يَقْتُلُ أَحَدُكُمْ أَخَاهُ، إِذَا رَأَى أَحَدُكُمْ مِنْ أَخِيهِ مَا يُعْجِبُهُ , فَلْيَدْعُ لَهُ بِالْبَرَكَةِ" , ثُمَّ دَعَا بِمَاءٍ , فَأَمَرَ عَامِرًا أَنْ يَتَوَضَّأَ , فَيَغْسِلْ وَجْهَهُ وَيَدَيْهِ إِلَى الْمِرْفَقَيْنِ , وَرُكْبَتَيْهِ وَدَاخِلَةَ إِزَارِهِ , وَأَمَرَهُ أَنْ يَصُبَّ عَلَيْهِ , قَالَ سُفْيَانُ : قَالَ مَعْمَرٌ : عَنْ الزُّهْرِيِّ : وَأَمَرَهُ أَنْ يَكْفَأَ الْإِنَاءَ مِنْ خَلْفِهِ.
ابوامامہ بن سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ عامر بن ربیعہ رضی اللہ عنہ کا گزر سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ (ابوامامہ کے باپ) کے پاس ہوا، سہل رضی اللہ عنہ اس وقت نہا رہے تھے، عامر نے کہا: میں نے آج کے جیسا پہلے نہیں دیکھا، اور نہ پردہ میں رہنے والی کنواری لڑکی کا بدن ایسا دیکھا، سہل رضی اللہ عنہ یہ سن کر تھوڑی ہی دیر میں چکرا کر گر پڑے، تو انہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لایا گیا، اور عرض کیا گیا کہ سہل کی خبر لیجئیے جو چکرا کر گر پڑے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”تم لوگوں کا گمان کس پر ہے“؟ لوگوں نے عرض کیا کہ عامر بن ربیعہ پر، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کس بنیاد پر تم میں سے کوئی اپنے بھائی کو قتل کرتا ہے“، جب تم میں سے کوئی شخص اپنے بھائی کی کسی ایسی چیز کو دیکھے جو اس کے دل کو بھا جائے تو اسے اس کے لیے برکت کی دعا کرنی چاہیئے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی منگوایا، اور عامر کو حکم دیا کہ وضو کریں، تو انہوں نے اپنا چہرہ اپنے دونوں ہاتھ کہنیوں تک، اور اپنے دونوں گھٹنے اور تہبند کے اندر کا حصہ دھویا، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں سہل رضی اللہ عنہ پر وہی پانی ڈالنے کا حکم دیا۔ سفیان کہتے ہیں کہ معمر کی روایت میں جو انہوں نے زہری سے روایت کی ہے اس طرح ہے: ”آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں حکم دیا کہ وہ برتن کو ان کے پیچھے سے ان پر انڈیل دیں“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطب/حدیث: 3509]
حضرت ابو امامہ (اسعد) بن سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، حضرت سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ نہا رہے تھے کہ حضرت عامر بن ربیعہ رضی اللہ عنہ گزرے، انہوں نے (سہل کو دیکھ کر) کہا: ”جیسا (خوش رنگ جسم) آج دیکھا ہے، (پہلے) کبھی نہیں دیکھا۔ کسی پردہ نشین (کنواری لڑکی) کی جلد بھی ایسی (خوش رنگ) نہیں (ہوتی)۔“ وہ فوراً ہی زمین پر گر پڑے (اچانک تیز بخار ہوا کہ کھڑے نہ رہ سکے)۔ انہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لایا گیا اور کہا گیا: ”سہل رضی اللہ عنہ کی خبر لیجیے، وہ تو گر پڑے ہیں (اٹھ بھی نہیں سکتے)۔“ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہیں اس کے بارے میں کس پر شک ہے؟“ لوگوں نے کہا: ”عامر بن ربیعہ رضی اللہ عنہ (کی نظر لگی ہے)۔“ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا وجہ ہے کہ ایک آدمی اپنے بھائی کو قتل کرنے والی حرکت کرتا ہے؟ اگر کسی کو اپنے بھائی کی کوئی چیز نظر آئے جو اسے اچھی لگے تو اسے چاہیے کہ اسے برکت کی دعا دے۔“ پھر پانی طلب فرمایا اور عامر رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ وضو کریں، چنانچہ انہوں نے اپنا چہرہ، ہاتھ کہنیوں تک، دونوں گھٹنے اور تہبند کا اندرونی حصہ دھویا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ پانی سہل رضی اللہ عنہ پر ڈالنے کا حکم دیا۔ سفیان نے کہا: معمر نے امام زہری رحمہ اللہ سے بیان کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا: ”اور وہ برتن ان (سہل رضی اللہ عنہ) کے پیچھے سے (ان پر) انڈیل دیا جائے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الطب/حدیث: 3509]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 136، ومصباح الزجاجة: 1225)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/العین 1 (1) مسند احمد (3/486) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥محمد بن شهاب الزهري، أبو بكر | الفقيه الحافظ متفق على جلالته وإتقانه | |
👤←👥معمر بن أبي عمرو الأزدي، أبو عروة معمر بن أبي عمرو الأزدي ← محمد بن شهاب الزهري | ثقة ثبت فاضل | |
👤←👥سفيان بن عيينة الهلالي، أبو محمد سفيان بن عيينة الهلالي ← معمر بن أبي عمرو الأزدي | ثقة حافظ حجة | |
👤←👥أسعد بن سهل الأنصاري، أبو أمامة أسعد بن سهل الأنصاري ← سفيان بن عيينة الهلالي | له رؤية | |
👤←👥محمد بن شهاب الزهري، أبو بكر محمد بن شهاب الزهري ← أسعد بن سهل الأنصاري | الفقيه الحافظ متفق على جلالته وإتقانه | |
👤←👥سفيان بن عيينة الهلالي، أبو محمد سفيان بن عيينة الهلالي ← محمد بن شهاب الزهري | ثقة حافظ حجة | |
👤←👥هشام بن عمار السلمي، أبو الوليد هشام بن عمار السلمي ← سفيان بن عيينة الهلالي | صدوق جهمي كبر فصار يتلقن |
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن ابن ماجه |
3509
| علام يقتل أحدكم أخاه إذا رأى أحدكم من أخيه ما يعجبه فليدع له بالبركة |
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 3509 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث3509
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
اگر کوئی چیز اچھی لگے تو اس میں برکت کی دعا کرنی چاہیے۔
مثلاً اللہ تعالیٰ تجھے اس جانور میں برکت عطا فرمائے۔
یااللہ تیری قوت میں اور جمال میں برکت عطا فرمائے یا یوں کہے ﴿مَاشَاءَ اللہُ لَا قُوَّۃَ إِلَّا بِاللہِ﴾ (الکھف 18: 39)
اس کی برکت سے نظر نہیں لگتی۔
(2)
نظر بد کا اثر دور کرنے کا یہ طریقہ بھی ہے۔
کہ جس کی نظر لگی ہو اور زیر مطالعہ حدیث میں مذکور طریقے کے مطابق کسی برتن میں اعضاء دھو کر وہ پانی کسی کو دے تاکہ مریض پر پیچھے کی طرف سے ڈال دیا جائے۔
(3)
تہبند کے اندر کے حصے سے کیا مراد ہے؟ اس میں اختلاف ہے۔
بعض نے کہا ہے اس سے مراد تہبند کا وہ کنارہ ہے۔
جو دوسرے کنارے کی وجہ سے چھپ جاتا ہے۔
اور اس کا وہ حصہ مراد ہے جو نیچے لٹکا ہوتاہے۔
امام نووی رحمۃ اللہ علیہ نے تہبند کا کا دایاں سرا فرمایا ہے۔ (شرح صحیح مسلم از نووی: 14/ 172)
بعض نے شرم گاہ اور بعض نے تہ بند وغیرہ باندھنے والا جسم کا حصہ مراد لیا ہے۔ (فتح الباري، الطب، 10/ 252)
فوائد و مسائل:
(1)
اگر کوئی چیز اچھی لگے تو اس میں برکت کی دعا کرنی چاہیے۔
مثلاً اللہ تعالیٰ تجھے اس جانور میں برکت عطا فرمائے۔
یااللہ تیری قوت میں اور جمال میں برکت عطا فرمائے یا یوں کہے ﴿مَاشَاءَ اللہُ لَا قُوَّۃَ إِلَّا بِاللہِ﴾ (الکھف 18: 39)
اس کی برکت سے نظر نہیں لگتی۔
(2)
نظر بد کا اثر دور کرنے کا یہ طریقہ بھی ہے۔
کہ جس کی نظر لگی ہو اور زیر مطالعہ حدیث میں مذکور طریقے کے مطابق کسی برتن میں اعضاء دھو کر وہ پانی کسی کو دے تاکہ مریض پر پیچھے کی طرف سے ڈال دیا جائے۔
(3)
تہبند کے اندر کے حصے سے کیا مراد ہے؟ اس میں اختلاف ہے۔
بعض نے کہا ہے اس سے مراد تہبند کا وہ کنارہ ہے۔
جو دوسرے کنارے کی وجہ سے چھپ جاتا ہے۔
اور اس کا وہ حصہ مراد ہے جو نیچے لٹکا ہوتاہے۔
امام نووی رحمۃ اللہ علیہ نے تہبند کا کا دایاں سرا فرمایا ہے۔ (شرح صحیح مسلم از نووی: 14/ 172)
بعض نے شرم گاہ اور بعض نے تہ بند وغیرہ باندھنے والا جسم کا حصہ مراد لیا ہے۔ (فتح الباري، الطب، 10/ 252)
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3509]
Sunan Ibn Majah Hadith 3509 in Urdu
معمر بن أبي عمرو الأزدي ← محمد بن شهاب الزهري