علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
34. باب : ما رخص فيه من الرقى
باب: جائز دم (جھاڑ پھونک) کا بیان۔
حدیث نمبر: 3515
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ أَبِي الْخَصِيبِ , حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ عِيسَى , عَنْ الْأَعْمَشِ , عَنْ أَبِي سُفْيَانَ , عَنْ جَابِرٍ , قَالَ: كَانَ أَهْلُ بَيْتٍ مِنْ الْأَنْصَارِ يُقَالُ لَهُمْ , آلُ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ يَرْقُونَ مِنَ الْحُمَةِ , وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ نَهَى عَنِ الرُّقَى , فَأَتَوْهُ فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ , إِنَّكَ قَدْ نَهَيْتَ عَنِ الرُّقَى , وَإِنَّا نَرْقِي مِنَ الْحُمَةِ , فَقَالَ لَهُمْ:" اعْرِضُوا عَلَيَّ" , فَعَرَضُوهَا عَلَيْهِ , فَقَالَ:" لَا بَأْسَ بِهَذِهِ هَذِهِ مَوَاثِيقُ".
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ انصار کا آل عمرو بن حزم نامی گھرانہ زہریلے ڈنک پر جھاڑ پھونک کیا کرتا تھا، جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جھاڑ پھونک کرنے سے منع فرمایا تھا، چنانچہ ان لوگوں نے آپ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا کہ اللہ کے رسول! آپ نے دم کرنے سے روک دیا ہے حالانکہ ہم لوگ زہریلے ڈنک پر جھاڑ پھونک کرتے ہیں؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنا جھاڑ پھونک (منتر) مجھے سناؤ“، تو انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پڑھ کر سنایا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس میں کوئی مضائقہ نہیں، یہ تو «اقرارات ہیں» (یعنی ثابت شدہ ہیں)“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطب/حدیث: 3515]
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: انصار کا ایک گھرانا، جنہیں آل عمرو بن حزم کہا جاتا تھا، (بچھو وغیرہ کے) ڈنگ کا دم کرتے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دم کرنے سے منع فرما دیا۔ انہوں نے حاضر خدمت ہو کر عرض کیا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ نے دم جھاڑ سے منع فرما دیا ہے، حالانکہ ہم زہریلے جانور کے ڈنک کا دم کیا کرتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے سناؤ۔“ انہوں نے دم کے الفاظ سنائے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ان میں کوئی حرج نہیں۔ یہ تو اقرار ہیں۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الطب/حدیث: 3515]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/السلام 21 (2199)، (تحفة الأشراف: 2307)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/302، 315) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥جابر بن عبد الله الأنصاري، أبو محمد، أبو عبد الله، أبو عبد الرحمن | صحابي | |
👤←👥طلحة بن نافع القرشي، أبو سفيان طلحة بن نافع القرشي ← جابر بن عبد الله الأنصاري | صدوق حسن الحديث | |
👤←👥سليمان بن مهران الأعمش، أبو محمد سليمان بن مهران الأعمش ← طلحة بن نافع القرشي | ثقة حافظ | |
👤←👥يحيى بن عيسى التميمي، أبو زكريا يحيى بن عيسى التميمي ← سليمان بن مهران الأعمش | ضعيف الحديث | |
👤←👥علي بن محمد القرشي علي بن محمد القرشي ← يحيى بن عيسى التميمي | صدوق حسن الحديث |
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن ابن ماجه |
3515
| لا بأس بهذه هذه مواثيق |
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 3515 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث3515
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
شرکیہ دم جھاڑ منع ہے۔
(2)
جن الفاظ سے اللہ کی وحدانیت اور اس پر توکل کا اقرار ہو اور اس سے حاجت روائی کی درخواست ہو انھیں پڑھ کر دم کرنا جائز ہے۔
فوائد و مسائل:
(1)
شرکیہ دم جھاڑ منع ہے۔
(2)
جن الفاظ سے اللہ کی وحدانیت اور اس پر توکل کا اقرار ہو اور اس سے حاجت روائی کی درخواست ہو انھیں پڑھ کر دم کرنا جائز ہے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3515]
Sunan Ibn Majah Hadith 3515 in Urdu
طلحة بن نافع القرشي ← جابر بن عبد الله الأنصاري