🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

پی ڈی ایف کتاب کو ٹیکسٹ میں کیسے کنورٹ کیا جاتا ہے سیکھنے کے لیے ہماری کلاس جوائن کریں اپنے آپ کو رجسٹر کیجیے۔ مزید تفصیلات کے لیے اس نمبر پر رابطہ کریں۔
+92-331-5902482 New
سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
42. باب : من كان يعجبه الفأل ويكره الطيرة
باب: نیک فال لینا اچھا ہے اور بدفالی مکروہ۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3541
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ , عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو , عَنْ أَبِي سَلَمَةَ a> , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا يُورِدُ الْمُمْرِضُ عَلَى الْمُصِحِّ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بیمار اونٹ کو تندرست اونٹ کے پاس نہ جانے دیا جائے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطب/حدیث: 3541]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بیمار اونٹوں والا تندرست والے کے ساتھ (اپنے اونٹوں کو) پانی نہ پلائے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطب/حدیث: 3541]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 15075)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/السلام 33 (2221، 2223)، سنن ابی داود/الطب 24 (3911)، مسند احمد (2/434) (حسن صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: اس کا مطلب یہ نہیں کہ بیماری متعدی ہوتی ہے، اس لیے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تندرست اور غیر مریض جانوروں کو مریض اونٹوں کے قریب لے جانے سے منع کیا، بلکہ آپ کے فرمان کا مطلب یہ ہے کہ اکثر ایسا سابقہ تقدیر اور اللہ کی مرضی کے مطابق ہو جاتا ہے، تو جانورں کا مالک تعدی کے ناحیہ سے فتنہ اور شک میں مبتلا ہو سکتا ہے، اس وجہ سے آپ نے دور رکھنے کا حکم دیا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أبو هريرة الدوسيصحابي
👤←👥أبو سلمة بن عبد الرحمن الزهري، أبو سلمة
Newأبو سلمة بن عبد الرحمن الزهري ← أبو هريرة الدوسي
ثقة إمام مكثر
👤←👥محمد بن عمرو الليثي، أبو الحسن، أبو عبد الله
Newمحمد بن عمرو الليثي ← أبو سلمة بن عبد الرحمن الزهري
صدوق له أوهام
👤←👥علي بن مسهر القرشي، أبو الحسن
Newعلي بن مسهر القرشي ← محمد بن عمرو الليثي
ثقة
👤←👥ابن أبي شيبة العبسي، أبو بكر
Newابن أبي شيبة العبسي ← علي بن مسهر القرشي
ثقة حافظ صاحب تصانيف
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
5774
لا توردوا الممرض على المصح
صحيح مسلم
5791
لا يورد ممرض على مصح
سنن ابن ماجه
3541
لا يورد الممرض على المصح
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 3541 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث3541
اردو حاشہ:
فوائد  ومسائل:
 اس ممانعت میں یہ حکمت ہے۔
کہ اگر اللہ کے حکم سے تندرست اونٹوں کو بیماری لگ گئی تو مالک کے دل میں یہ وسوسہ پیدا ہوسکتا ہے۔
کہ یہ بیماری بیمار اونٹوں کے ساتھ تندرست اونٹ چرانے یا انھیں ان کے ساتھ پانی پلانے سے لگی ہے لہٰذا ایمان کی حفاظت کے لئے ایسا کام ہی نہ کیاجائے جس سے صحیح عقیدے کے منافی وسوسے پیدا ہونے کاخطر ہ ہو۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3541]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 5791
ابو سلمہ بن عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ تعالی عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کوئی مرض متعدی نہیں اور یہ بھی بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بیمار جانوروں والا اپنے جانور تندرست جانوروں کے پاس نہ لے جائے۔ ابو سلمہ بیان کرتے ہیں، حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ، مذکورہ بالا دونوں حدیثیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے تھے، پھر بعد میں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ لا عدوى [صحيح مسلم، حديث نمبر:5791]
حدیث حاشیہ:
مفردات الحدیث:
(1)
لايورد ممرض علي مصح:
ممرض،
بیمار اونٹوں کا مالک۔
(2)
مصح:
تندرست اونٹوں والا،
یہاں مفعول محذوف ہے،
یعنی ابله:
کہ بیماری اونٹوں والا اپنے اونٹ تندرست اونٹوں والے کے پاس نہ لے جائے۔
فوائد ومسائل:
ان دونوں حدیثوں میں کوئی تعارض نہیں ہے،
جیسا کہ شروع میں ہم بیان کر چکے ہیں،
اس لیے ناسخ و منسوخ کا سوال پیدا نہیں ہوتا اور لا عدوی والی حدیث حضرت سائب بن یزید،
حضرت جابر بن عبداللہ،
حضرت انس بن مالک اور حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہم سے بھی منقول ہے،
اس لیے حضرت ابو ہریرہ کا بھول جانا،
اس حدیث کی صحت پر اثر انداز نہیں ہوتا اور جمہور علماء کے نزدیک راوی اگر روایت بھول جائے تو اس کی صحت سے انکار نہیں کیا جا سکتا اور حضرت ابو ہریرہ کا ایک دو روایات کو بھول جانا،
ان کے اس دعویٰ کے منافی نہیں ہے کہ میں اللہ کے رسول کی دعا کے نتیجہ میں کوئی حدیث نہیں بھولا،
کیونکہ ان ہزاروں احادیث میں ایک دو روایات کا بھولنا کوئی تعجب انگیز نہیں ہے اور نہ یہ ان کے دعویٰ پر اثر انداز ہوتا ہے۔
جبکہ ان کو بعد میں یاد بھی آ گی تھیں کیونکہ انہوں نے اپنی ساری حدیثیں لکھوائی تھیں۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 5791]

Sunan Ibn Majah Hadith 3541 in Urdu