سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
19. باب : لبس الحرير والذهب للنساء
باب: عورتوں کے ریشم اور سونا پہننے کا بیان۔
حدیث نمبر: 3595
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ , حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ سُلَيْمَانَ , عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاق , عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ , عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ أَبِي الصَّعْبَةِ , عَنْ أَبِي الْأَفْلَحِ الْهَمْدَانِيِّ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زُرَيْرٍ الْغَافِقِيِّ , سَمِعْتُهُ يَقُولُ: سَمِعْتُ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ , يَقُولُ: أَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَرِيرًا بِشِمَالِهِ , وَذَهَبًا بِيَمِينِهِ , ثُمَّ رَفَعَ بِهِمَا يَدَيْهِ , فَقَالَ:" إِنَّ هَذَيْنِ حَرَامٌ عَلَى ذُكُورِ أُمَّتِي , حِلٌّ لِإِنَاثِهِمْ".
علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے بائیں ہاتھ میں ریشم اور دائیں ہاتھ میں سونا لیا، اور دونوں کو ہاتھ میں اٹھائے فرمایا: ”یہ دونوں میری امت کے مردوں پر حرام، اور عورتوں کے لیے حلال ہیں“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب اللباس/حدیث: 3595]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/اللباس 14 (4057)، سنن النسائی/الزینة 40 (5147)، (تحفة الأشراف: 10183)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/96، 115) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن أبي داود |
4057
| أخذ حريرا فجعله في يمينه أخذ ذهبا فجعله في شماله ثم قال هذين حرام على ذكور أمتي |
سنن ابن ماجه |
3595
| أخذ رسول الله حريرا بشماله ذهبا بيمينه ثم رفع بهما يديه فقال هذين حرام على ذكور أمتي حل لإناثهم |
سنن النسائى الصغرى |
5148
| أخذ حريرا فجعله في يمينه أخذ ذهبا فجعله في شماله ثم قال هذين حرام على ذكور أمتي |
سنن النسائى الصغرى |
5149
| أخذ حريرا فجعله في يمينه أخذ ذهبا فجعله في شماله ثم قال هذين حرام على ذكور أمتي |
سنن النسائى الصغرى |
5147
| أخذ حريرا فجعله في يمينه أخذ ذهبا فجعله في شماله ثم قال هذين حرام على ذكور أمتي |
سنن النسائى الصغرى |
5150
| ذهبا بيمينه وحريرا بشماله فقال هذا حرام على ذكور أمتي |
المعجم الصغير للطبراني |
612
| فى يديه ، يده ، صرتان إحداهما من ذهب ، والأخرى من حرير ، فقال : هذان حرام على الذكور من أمتي ، حلال للإناث |
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 3595 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث3595
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
معمولی زینت تو درست ہے لیکن زیادہ زیورات پہننے سے امارت اور فخر و تکبر کا اظہار ہوتا ہے جس سے غریبوں کا دل دکھتا ہے اس لئے اس سے اجتنا ب بہتر ہے خاص طور پر زیورات پہن کر سفر کرنے سے بہت سے مفاسد سامنے آتے ہیں۔
فوائد و مسائل:
معمولی زینت تو درست ہے لیکن زیادہ زیورات پہننے سے امارت اور فخر و تکبر کا اظہار ہوتا ہے جس سے غریبوں کا دل دکھتا ہے اس لئے اس سے اجتنا ب بہتر ہے خاص طور پر زیورات پہن کر سفر کرنے سے بہت سے مفاسد سامنے آتے ہیں۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3595]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث5147
مردوں کے لیے سونا استعمال کرنے کی حرمت کا بیان۔
علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ریشم لے کر اسے اپنے دائیں ہاتھ میں رکھا، اور سونا لے کر اسے بائیں ہاتھ میں رکھا، پھر فرمایا: ”یہ دونوں میری امت کے مردوں پر حرام ہیں“ ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الزينة من السنن/حدیث: 5147]
علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ریشم لے کر اسے اپنے دائیں ہاتھ میں رکھا، اور سونا لے کر اسے بائیں ہاتھ میں رکھا، پھر فرمایا: ”یہ دونوں میری امت کے مردوں پر حرام ہیں“ ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الزينة من السنن/حدیث: 5147]
اردو حاشہ:
گویا عورتوں کے لیے جائزہیں جیسا کہ آئندہ روایات میں صراحتاً ذکر ہے اور مردوں کے لیے عورتوں کی مشابہت اختیار کرنا جائز نہیں۔ زیب و زینت عورتوں کا خاصہ ہے اور یہ مردانگی کے خلاف ہے۔
گویا عورتوں کے لیے جائزہیں جیسا کہ آئندہ روایات میں صراحتاً ذکر ہے اور مردوں کے لیے عورتوں کی مشابہت اختیار کرنا جائز نہیں۔ زیب و زینت عورتوں کا خاصہ ہے اور یہ مردانگی کے خلاف ہے۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 5147]
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث5150
مردوں کے لیے سونا استعمال کرنے کی حرمت کا بیان۔
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دائیں ہاتھ میں سونا لیا اور بائیں ہاتھ میں ریشم، پھر فرمایا: ”یہ میری امت کے مردوں پر حرام ہے۔“ [سنن نسائي/كتاب الزينة من السنن/حدیث: 5150]
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دائیں ہاتھ میں سونا لیا اور بائیں ہاتھ میں ریشم، پھر فرمایا: ”یہ میری امت کے مردوں پر حرام ہے۔“ [سنن نسائي/كتاب الزينة من السنن/حدیث: 5150]
اردو حاشہ:
اس حدیث میں دائیں بائیں کا فرق کسی راوی کی غلطی ہے کیونکہ حدیث بنیادی طور پر ایک ہی ہے۔
اس حدیث میں دائیں بائیں کا فرق کسی راوی کی غلطی ہے کیونکہ حدیث بنیادی طور پر ایک ہی ہے۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 5150]
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 4057
عورتوں کے لیے ریشمی کپڑا کی حلت کا بیان۔
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ریشم لے کر اسے اپنے داہنے ہاتھ میں رکھا اور سونا لے کر اسے بائیں ہاتھ میں رکھا، پھر فرمایا: ”یہ دونوں میری امت کے مردوں پر حرام ہیں۔“ [سنن ابي داود/كتاب اللباس /حدیث: 4057]
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ریشم لے کر اسے اپنے داہنے ہاتھ میں رکھا اور سونا لے کر اسے بائیں ہاتھ میں رکھا، پھر فرمایا: ”یہ دونوں میری امت کے مردوں پر حرام ہیں۔“ [سنن ابي داود/كتاب اللباس /حدیث: 4057]
فوائد ومسائل:
تاہم بطور علاج ان کا استعمال مباح ہے، جیسے کہ اوپر کی حدیث میں ریشم کا ذکر ہواہے یا عمومی حالات میں چار انگلی کے برابر استعمال کیا جا سکتا ہے اور سونے کا دانت لگوانا بھی جائز ہے یا جیسے کہ روایات میں آتا ہے کہ ایک آدمی کی ناک کٹ گئی تھی تو اسے سونے کی ناک لگوا لینے کی اجازت دی گئی۔
تاہم بطور علاج ان کا استعمال مباح ہے، جیسے کہ اوپر کی حدیث میں ریشم کا ذکر ہواہے یا عمومی حالات میں چار انگلی کے برابر استعمال کیا جا سکتا ہے اور سونے کا دانت لگوانا بھی جائز ہے یا جیسے کہ روایات میں آتا ہے کہ ایک آدمی کی ناک کٹ گئی تھی تو اسے سونے کی ناک لگوا لینے کی اجازت دی گئی۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4057]
عبد الله بن زرير الغافقي ← علي بن أبي طالب الهاشمي