🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
13. باب في الحرير للنساء
باب: عورتوں کے لیے ریشمی کپڑا کی حلت کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4057
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ أَبِي أَفْلَحَ الْهَمْدَانِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زُرَيْرٍ يَعْنِي الْغَافِقِيَّ أَنَّهُ سَمِعَ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، يَقُولُ:" إِنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخَذَ حَرِيرًا فَجَعَلَهُ فِي يَمِينِهِ، وَأَخَذَ ذَهَبًا، فَجَعَلَهُ فِي شِمَالِهِ، ثُمَّ قَالَ: إِنَّ هَذَيْنِ حَرَامٌ عَلَى ذُكُورِ أُمَّتِي".
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ریشم لے کر اسے اپنے داہنے ہاتھ میں رکھا اور سونا لے کر اسے بائیں ہاتھ میں رکھا، پھر فرمایا: یہ دونوں میری امت کے مردوں پر حرام ہیں۔ [سنن ابي داود/كتاب اللباس /حدیث: 4057]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن النسائی/الزینة 40 (5147)، سنن ابن ماجہ/اللباس 19 (3595)، (تحفة الأشراف: 10183)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/96، 115) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
مشكوة المصابيح (4394)
وله طريق آخر عند النسائي (5148 وسنده حسن)

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥علي بن أبي طالب الهاشمي، أبو الحسن، أبو الحسينصحابي
👤←👥عبد الله بن زرير الغافقي
Newعبد الله بن زرير الغافقي ← علي بن أبي طالب الهاشمي
ثقة رمي بالتشيع
👤←👥أبو أفلح الهمداني، أبو أفلح
Newأبو أفلح الهمداني ← عبد الله بن زرير الغافقي
صدوق حسن الحديث
👤←👥يزيد بن قيس الأزدي، أبو رجاء
Newيزيد بن قيس الأزدي ← أبو أفلح الهمداني
ثقة فقيه وكان يرسل
👤←👥الليث بن سعد الفهمي، أبو الحارث
Newالليث بن سعد الفهمي ← يزيد بن قيس الأزدي
ثقة ثبت فقيه إمام مشهور
👤←👥قتيبة بن سعيد الثقفي، أبو رجاء
Newقتيبة بن سعيد الثقفي ← الليث بن سعد الفهمي
ثقة ثبت
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن أبي داود
4057
أخذ حريرا فجعله في يمينه أخذ ذهبا فجعله في شماله ثم قال هذين حرام على ذكور أمتي
سنن ابن ماجه
3595
أخذ رسول الله حريرا بشماله ذهبا بيمينه ثم رفع بهما يديه فقال هذين حرام على ذكور أمتي حل لإناثهم
سنن النسائى الصغرى
5148
أخذ حريرا فجعله في يمينه أخذ ذهبا فجعله في شماله ثم قال هذين حرام على ذكور أمتي
سنن النسائى الصغرى
5149
أخذ حريرا فجعله في يمينه أخذ ذهبا فجعله في شماله ثم قال هذين حرام على ذكور أمتي
سنن النسائى الصغرى
5147
أخذ حريرا فجعله في يمينه أخذ ذهبا فجعله في شماله ثم قال هذين حرام على ذكور أمتي
سنن النسائى الصغرى
5150
ذهبا بيمينه وحريرا بشماله فقال هذا حرام على ذكور أمتي
المعجم الصغير للطبراني
612
فى يديه ، يده ، صرتان إحداهما من ذهب ، والأخرى من حرير ، فقال : هذان حرام على الذكور من أمتي ، حلال للإناث
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 4057 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 4057
فوائد ومسائل:
تاہم بطور علاج ان کا استعمال مباح ہے، جیسے کہ اوپر کی حدیث میں ریشم کا ذکر ہواہے یا عمومی حالات میں چار انگلی کے برابر استعمال کیا جا سکتا ہے اور سونے کا دانت لگوانا بھی جائز ہے یا جیسے کہ روایات میں آتا ہے کہ ایک آدمی کی ناک کٹ گئی تھی تو اسے سونے کی ناک لگوا لینے کی اجازت دی گئی۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4057]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث5147
مردوں کے لیے سونا استعمال کرنے کی حرمت کا بیان۔
علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ریشم لے کر اسے اپنے دائیں ہاتھ میں رکھا، اور سونا لے کر اسے بائیں ہاتھ میں رکھا، پھر فرمایا: یہ دونوں میری امت کے مردوں پر حرام ہیں ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الزينة من السنن/حدیث: 5147]
اردو حاشہ:
گویا عورتوں کے لیے جائزہیں جیسا کہ آئندہ روایات میں صراحتاً ذکر ہے اور مردوں کے لیے عورتوں کی مشابہت اختیار کرنا جائز نہیں۔ زیب و زینت عورتوں کا خاصہ ہے اور یہ مردانگی کے خلاف ہے۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 5147]

فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث5150
مردوں کے لیے سونا استعمال کرنے کی حرمت کا بیان۔
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دائیں ہاتھ میں سونا لیا اور بائیں ہاتھ میں ریشم، پھر فرمایا: یہ میری امت کے مردوں پر حرام ہے۔‏‏‏‏ [سنن نسائي/كتاب الزينة من السنن/حدیث: 5150]
اردو حاشہ:
اس حدیث میں دائیں بائیں کا فرق کسی راوی کی غلطی ہے کیونکہ حدیث بنیادی طور پر ایک ہی ہے۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 5150]

مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث3595
عورتوں کے ریشم اور سونا پہننے کا بیان۔
علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے بائیں ہاتھ میں ریشم اور دائیں ہاتھ میں سونا لیا، اور دونوں کو ہاتھ میں اٹھائے فرمایا: یہ دونوں میری امت کے مردوں پر حرام، اور عورتوں کے لیے حلال ہیں۔‏‏‏‏ [سنن ابن ماجه/كتاب اللباس/حدیث: 3595]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
معمولی زینت تو درست ہے لیکن زیادہ زیورات پہننے سے امارت اور فخر و تکبر کا اظہار ہوتا ہے جس سے غریبوں کا دل دکھتا ہے اس لئے اس سے اجتنا ب بہتر ہے خاص طور پر زیورات پہن کر سفر کرنے سے بہت سے مفاسد سامنے آتے ہیں۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3595]